سیاسی کڑواہٹ کو دور کرنے کی ضرورت-محمد اویس سنبھلی

2014سے ہی مرکز کی نریندر مودی حکومت پر ریاستوں کی کانگریس سرکاروں کو چوری کرنے کا الزام لگتا رہا ہے۔ ملک کے عوام نے دیکھا ہے کہ کس طرح سے کانگریسی اراکینِ اسمبلی کی خریداری کی بنیاد پر بی جے پی نے گوا، اتراکھنڈ، اروناچل پردیش ، منی پور، کرناٹک میں اپنی حکومتیں بنائی ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ عام لوگوں کے ذریعہ ’’خریداری‘‘ کے شواہد ڈھونڈنا تقریباً ناممکن ہیں۔مارچ 2020میں اپنی اسی جادوگری کے چلتے بی جے پی نے مدھیہ پردیش کی کانگریس حکومت کو چلتا کر اپنی حکومت قائم کرلی۔ اب کچھ ایسا ہی راجستھان میں ہورہا ہے۔کانگریس کے رہنما اور کچھ سیاسی تجزیہ کار بی جے پی کی اس حکمت عملی کو ’’حکومت چوری‘‘ جیسے الفاظ سے خطاب کررہے ہیں۔اس حقیقت کو کسی ثبوت کی ضرورت نہیں کہ بی جے پی نے گذشتہ چھ سالوں میں پیسہ، طاقت ، لالچ اور سرکاری ایجنسیوں کے غلط استعمال کے ذریعہ سے کانگریسی اراکین اسمبلی کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے مختلف ریاستوں میں اپنی سرکاریں بنائی ہیں۔
راجستھان کی سیاسی جنگ دن بہ دن شدید ہوتی جارہی ہے۔کانگریس کی لڑائی سڑک سے عدالت اور اب عدالت سے گورنر ہاوس تک پہنچ چکی ہے اور جس زبان کا استعمال ہورہا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ گندی سیاست کی تمام حدیں پار ہوچکی ہیں۔کل تک ایک دوسرے کے ساتھ گلے ملنے والے لوگ اب ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر اُتارو ہیں۔اشوک گہلوت کی قیادت والی کانگریس حکومت اسے اپنی ’انا ‘ کا مسئلہ بناتے ہوئے آر پار کے موڈ میں نظرآرہی ہے۔اس سب میں کانگریسی رہنمائوں کا کوئی ذاتی نقصان تو زیادہ نہیں ہوگا البتہ کانگریس پارٹی کے لیے بہت بڑے نقصان کی امید سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بی جے پی دور سے بیٹھ کر ابھی صرف لوہے کو گرم ہوتا دیکھ رہی ہے۔ جس وقت اس لوہے کی تپش اپنے عروج پر ہوگی تو بی جے پی اپنے سیاسی ہتھوڑے کا ایسازور دار استعمال کرے گی کہ کانگریس کے پیروں تلے سے راجستھان کی سیاسی زمین بھی کھسک جائے گی۔
راجستھان میں عام طور پر سیاستداں اپنے میٹھے رویہ کے لیے جانے جاتے رہے ہیں اور وہاں ابھی تک یوپی، بہار یا دوسری ریاستوں کی سیاست کی طرح دیگر مخالف پارٹیوں کے رہنمائوںکے ساتھ گھریلو تعلقات بنے رہتے تھے۔ لیکن وہاں اب ایک پارٹی کے لوگ آپس ہی میں ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑنے میں لگ گئے ہیں تو حیرت ہوتی ہے!
وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کی شبیہ ہمیشہ ایک میٹھے سیاست داں کی رہی ہے۔ وہ راجستھانی کہاوت پر ہمیشہ کھرے اترتے رہے کہ ’گُڑ نا دے، گُر کی بات تو کرے‘ ۔ لیکن موجودہ صورتحال میں جس طرح اشوک گہلوت نے اپنے ساتھی اور نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ پر حملہ کیا اور پائلٹ کو ’ناکارہ‘ ، ’نکمّا‘ اور نہ جانے کیا کیا کہانیز یہ بھی بولا کہ ’میں بیگن بیچنے نہیں آیا ہوں‘۔ اس کے علاوہ ’کارپوریٹ فنڈنگ ‘جیسا سنگین الزام بھی عائد کیاہے۔ کم از کم راجستھان کی سیاست میں یہ رویہ دیکھنے کو نہیں ملتا تھا۔
راجستھان کی سیاست اور وہاں کے سیاست دانوں کے رویہ کو سمجھنے کے لیے ایک پرانا واقعہ یہاں نقل کرتا ہوں۔1993میں بھیرو سنگھ شیخاوت جب تیسری مرتبہ راجستھان کے وزیر اعلیٰ بنے تب ہری شنکر بھابھڑا اسمبلی اسپیکر تھے۔یہ دونوں ہی بی جے پی بڑے لیڈر تھے لیکن بھابھڑا اور شیخاوت کی سیاسی دشمنی جگ ظاہر تھی۔ایک مرتبہ تو بھابھڑہ نے شیخاوت کا تختہ پلٹ کرنے کی کوشش کی تھی۔ان دنوں شیخاوت نے ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالی کہ اسمبلی میں ہر روز جو بھی مقرر سب سے اچھا خطاب کرے گا وہ لڈّو منگوائے گا اور وہ لڈّو سب کے لیے ہوں گے۔ اچھے خطاب کا فیصلہ اسمبلی اسپیکر یعنی ہری شنکر بھابھڑہ پر چھوڑا گیا۔اسمبلی سیشن کے دوران ہر روز لڈّو چلتے رہتے تھے ۔ اس کے ساتھ ہی لنچ کے وقت وزیر اعلی بھیرو سنگھ شیخاوت ، بھابھڑہ اور کئی وزراء و کانگریس ایم ایل ایز کے گھر سے بڑے بڑے لنچ ٹفن آتے تھے۔ یہ ٹفن اسمبلی اسپیکر کے باہر ی کمرہ میں رکھے رہتے اور ہر کوئی اس کھانے سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ اسمبلی کے اندر کسی بھی مدعا پر حکومت کو گھیرا جائے لیکن لنچ اور لڈّو سب لوگ ساتھ کھاتے تھے۔ اس سے ہمیشہ ہی ماحول اچھا رہتا تھا ۔اسی ماحول کے چلتے بھیرو سنگھ شیخاوت نے ہری شنکربھابھڑہ کا اسمبلی اسپیکر کا ٹرم ختم ہونے پر نائب وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ 2002میں بھیرو سنگھ شیخاوت ملک کے نائب صدر بنے اور 15؍ مئی2010 کو ان کا انتقال ہوا اور بھابھڑہ جی تو آج بھی 91؍برس کی عمر میںعملی سیاست دور رہ کر زندگی کے مزے لے رہے ہیں۔
اس سے ملتا جلتا ہی ایک اور واقعہ ہے کہ کس طرح انسان کا ایک عمل تمام تلخیاں ختم کردیتا ہے۔سن 2001میں بی جے پی کے دو بڑے رہنما اٹل بہاری واجپئی اور لال کرشن ایڈوانی کے درمیان تنائو عام تھا۔ جھگڑے کی ایک بڑی وجہ واجپئی جی کے دوست اور حکومت میں پرنسپل سکریٹری اور قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا تھے۔ اڈوانی جی کا کہنا تھا کہ حکومت واجپئی جی نہیں بلکہ برجیش مشرا چلا رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں ان دونوں بڑے رہنمائوں کے درمیان نہ کے برابر گفتگو ہوتی تھی۔وزیر داخلہ لال کرشن ایڈوانی ایک روز اپنے گھر سے دفتر کے لیے گاڑی میں بیٹھ ہی رہے تھے کہ تبھی ان کی اہلیہ کملا ایڈوانی دوڑتے ہوئے آئیں اور کہا ’’ابھی اٹل جی نے فون کرکے کہا ہے کہ وہ کل لنچ پر ہمارے گھر آئیں گے‘‘۔ یوں تو واجپئی جی کئی بار ایڈوانی کے گھر کھانا کھانے چلے جاتے تھے، ایڈوانی جی نے لکھا بھی ہے کہ واجپئی جی کو کملا کے ہاتھ کا کھانا بہت پسند تھا ۔ لیکن اس ماحول میں یہ صرف لنچ نہیں بلکہ سیاسی پیغام تھا۔ واجپئی جی نے کسی کا انتظار نہیں کیا اور ایڈوانی جی کے بجائے کملا جی کو فون کر خود ہی کو کھانے پر دعوت دے ڈالی۔یعنی ایک فون کال نے ساری خبروں کو وہی ختم کردیا۔
واجپئی جی ہی کا ایک اور واقعہ ہے۔ اس وقت جے للیتا کے علاوہ دوسری خاتون رہنما ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی این ڈی اے حکومت کے لیے زیادہ تر وقت سر درد بنی رہیں۔ کبھی وزارت تو کبھی وزارت کے کام کاج کے بٹوارے پر۔اس وقت ممتا بنرجی وزیر ریل تھیں اور ہر دن کوئی نہ کوئی مصیبت کھڑی کردیتی تھیں۔ ایک مرتبہ پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر ممتا بنرجی ناراض ہوگئیں۔ جارج فرنینڈس کو ممتا بنرجی کو راضی کرنے کے لیے کلکتہ بھیجا گیا ۔ جارج فرنینڈس نے شام سے پوری رات انتظار کیا لیکن ممتا نے ملاقات نہیں کی۔اس کے بعد ایک دن وزیر اعظم واجپئی جی اچانک ممتا کے گھر پہنچے ۔ اس دن ممتا بنرجی کلکتہ میں نہیں تھیں۔ واجپئی جی نے ممتا کی والدہ کے پائوں چھوئے اور کہا’آپ کی بیٹی بہت شرارتی ہے، بہت تنگ کرتی ہے‘۔ پھر کیا تھا، ممتا بنرجی کا غصہ منٹوں میں اتر گیا ۔ واجپئی جی جانتے تھے کہ سیاست سے زیادہ رشتے اہم ہیں ۔
ویسے راجستھان میں یہ کہا جاتا ہے کہ جب گھر کی لڑائی سڑک پر آجائے تو محلے والے صرف تماشا دیکھنے کا مزہ لیتے ہیں ۔ایسے میں اشوک گہلوت کا یہ بیان کہ ’اگر عوام گورنر ہائوس کا گھیرائو کرنے آگئے تو ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی‘، بے معنی ہوجاتا ہے۔اس لیے ماضی قریب کے سیاسی رہنمائوں کے چند واقعات سے سبق حاصل کرتے ہوئے مذکورہ بالا تینوں مثالیں آپسی رشتوں سے سیاسی کڑواہٹ کو دور کرنے کے لیے کافی ہوسکتی ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)