ستاروں کی انجمن ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 

صفی لکھنوی نے کہا تھا :

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا

ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا

دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں گزارے ہوئے 8 برس (1975 _ 1983) میری زندگی کے قیمتی ایام ہیں _ ندوہ کا رنگ اتنا گہرا چڑھ گیا ہے کہ وہ خون میں شامل ہوکر رگ رگ میں سرایت کرگیا ہے _ لیکن 40 برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کی وجہ سے اُس زمانے کی یادیں دھندلی ہونے لگی تھیں اور ذہن کے پردے پر حالاتِ زمانہ کی گرد جم گئی تھی _ بھائی وزیر احمد اعظمی کا شکریہ کہ ان کی کتاب ‘یارانِ مہر و وفا’ نے یادوں کو بالکل تر و تازہ اور جمی گرد کو بالکل صاف کردیا ہےـ

یوں تو میں ندوہ میں جشنِ تعلیمی (1975) سے چند ماہ قبل پہنچ گیا تھا ، لیکن میرا باقاعدہ داخلہ اس کے بعد ہوا _ جعفر مسعود ، خالد کان پوری ، عمر لداخی ، صابر حسین ، نجم الحسن ، کے ٹی عبد الرحمن شروع سے کلاس فیلو رہے ، ایک سال کے بعد حشمت اللہ اور اس کے دو سال کے بعد محمد اکرم ، آفتاب عالم اور وزیر احمد کا ساتھ ہوگیاـ عبد الحی ، اسحاق حسینی ، خالد گونڈوی ، اعجاز احمد اور ضیاء الدین بھی ساتھ ہوتے گئےـ اس طرح ایک ایسی کہکشاں بن گئی جو ندوہ کی زندگی میں اپنی ذہانت و صلاحیت کی وجہ سے نمایاں رہی اور بعد میں بھی اپنی دینی و علمی خدمات کی وجہ سے ندوہ کی نیک نامی کا سبب بنی _ یوں تو ہر دور میں ندوہ سے کسبِ فیض کرنے والوں میں کچھ طلبہ نمایاں رہے ہیں ، لیکن میرے مذکورہ بالا کلاس فیلوز کی بات ہی کچھ اور تھی _ ہر ایک کو پڑھنے اور سیکھنے کی دُھن تھی _ مؤقر اساتذہ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کا جنون تھاـ اساتذہ بھی ان پر شفقت و محبت کے ساغر لنڈھاتے تھے _ کبھی کبھی حضرت مولانا علی میاں صاحب سے بھی استفادہ کا موقع ملتا تھا ، ورنہ کلاس میں مولانا رابع صاحب ، مولانا سعید الرحمٰن صاحب ، مولانا واضح صاحب ، مولانا عبد الستار صاحب ، مولانا ضیاء الحسن صاحب ، مولانا برہان الدین صاحب ، مفتی ظہور صاحب ، مولانا ناصر صاحب ، مولانا محبوب الرحمن صاحب ، مولانا شہباز صاحب ، مولانا شمس الحق صاحب ، مولانا عارف صاحب ، مولانا زکریا صاحب اور دیگر اساتذہ (جن میں سے بعض کا نام اس وقت ذہن میں نہیں) سے بھرپور فیض اٹھاتے تھے _ مختلف پس منظر رکھنے اور مختلف رجحانات کے حامل ہونے کے باوجود ہم لوگ باہم شیر و شکر ہوکر رہتے ، النادی العربی اور جمعیۃ الاصلاح کے پروگراموں میں پابندی سے حصہ لیتے ، مکتبۃ النادی اور مکتبہ الاصلاح سے کتابیں لاکر مطالعہ کرتے ، ان سے تشفی نہ ہوتی تو مرکزی (شبلی) لائبریری کا رخ کرتے ، جہاں ہم لوگوں کی ہمّت افزائی اور رہ نمائی کے لیے مولانا محمد مرتضیٰ موجود ہوتے _ اس سے بھی جی نہ بھرتا تو البعث الاسلامی ، الرائد اور تعمیر حیات کے دفاتر کا رخ کرتے ، جہاں اردو اور عربی کے ملک و بیرونِ ملک کے بہت سے معیاری علمی و تحقیقی رسائل و مجلات ، اخبارات و جرائد آتے تھے _ ہم سب کو لکھنے کا بھی شوق تھا ، چنانچہ ہمارے یہ اساتذہ ہمیں قلم پکڑ کر لکھنا سکھاتے ، پھر ہم جو کچھ لکھتے ، یا عربی سے اردو اور اردو سے عربی میں ترجمہ کرتے اس کی نوک پلک درست کرکے اور کاٹ چھانٹ کر ان رسائل میں ہمارے ہی نام سے چھاپ دیتے _ یہ ندوہ کا سنہری دور تھا ، جو مختلف اعتبارات سے تاریخی اہمیت کا حامل ہےـ حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی کی سرپرستی ، پچاسی سالہ جشنِ تعلیمی ، ادب اسلامی پر بین الاقوامی سمینار ، المعہد العالی للدعوۃ و الفکر الاسلامی کا قیام ، دار المصنفین میں مستشرقین پر بین الاقوامی سمینار ، شیخ عبد الفتاح ابو غدہ اور علامہ یوسف القرضاوی کے سلسلۂ محاضرات ، ہند و بیرونِ ہند کی عظیم علمی شخصیات کے توسیع خطبات ، سب کا تعلق اسی دور سے ہےـ مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق ندوہ کے اُسی دور سے ہےـ اُس دور میں مجھے مذکورہ اساتذہ سے فیض اٹھانے اور اپنے مخلص اور بے تکلف ساتھیوں کے ساتھ شب و روز گزارنے کے بھرپور مواقع ملے ہیں ـ

اس عہدِ زرّیں کا دل آویز تذکرہ بھائی اکرم نے بہت پہلے ‘ندوہ کا ایک دن’ نامی کتاب میں کیا تھا _ اس کے ہند و پاک میں کئی ایڈیشن طبع ہوئے ہیں اور اسے بہت مقبولیت ملی ہےـ اس کا انگریزی ترجمہ بھی UK سے شائع ہوگیا ہےـ اس کے علاوہ انھوں نے عربی زبان میں ‘من علّمنی’ کے نام سے بھی ایک کتاب لکھی ہے ، جس میں اساتذۂ کرام کا ذکرِ خیر کیا ہےـ بھلا ہو سوشل میڈیا کا کہ اس پر ہمارے دوسرے ساتھیوں کو لکھنے کی تحریک ملی ، چنانچہ کچھ دنوں قبل بھائی حشمت اللہ نے ‘یادِ ماضی’ کے عنوان سے ایک سلسلۂ مضامین لکھا تھا ، جو ‘دار الرشید’ لکھنؤ سے کتابی صورت میں شائع ہوگیا ہےـ

ہمارے ساتھیوں میں بھائی وزیر احمد اعظمی اپنی متنوع صلاحیتوں کی وجہ سے بہت نمایاں تھےـ ان کا ادبی ذوق ابھرا ہوا تھاـ مشہور شعراء کے کلام کا بڑا حصہ انہیں ازبر تھا ، جن کا وہ بر محل اور برجستہ استعمال کرتے تھےـ خطابت سے زیادہ انہیں تحریر و انشاء کا سلیقہ تھاـ ندوہ سے فراغت کے بعد انہوں نے کچھ دن ندوہ ہی میں ، پھر جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ میں تدریسی خدمت انجام دی ، کچھ وقت قاہرہ میں گزارا ، پھر ملازمت کے سلسلے دبئی میں یکسو ہوگئےـ اب بھی ان کا وہیں قیام ہےـ

چند برس قبل ‘دیوان الندویین واٹس ایپ گروپ’ پر ہم احباب کا ایک دوسرے سے رابطہ ہوا تو خوشی ہوئی کہ اس کے ذریعے ایک دوسرے کی سرگرمیوں سے واقفیت اور افکار و خیالات کے تبادلہ کی سہولت فراہم ہوگئی ہےـ پہلے بھائی وزیر نے اپنے اساتذہ پر لکھنے کا سلسلہ شروع کیاـ ان کی یہ تحریریں ‘میری محسن شخصیات ‘ نامی کتاب میں جمع ہوگئی ہیں _ پھر انھوں نے ایک ایک کرکے اپنے ساتھیوں کے خاکے تحریر کیےـ انہی کا مجموعہ زیرِ نظر کتاب کی صورت میں شائع کیا گیا ہےـ انھوں نے اپنے جان دار قلم سے اس دور کا جیتا جاگتا اور چلتا پھرتا نقشہ کھینچ دیا ہےـ ان کے قلم میں بہت تاثیر اور جاذبیت ہےـ کتاب کا قاری اپنے آپ کو اسی دور میں محسوس کرے گا اور اس کی سرگرمیوں میں شریک پائے گاـ

کتاب کا آغاز استاذِ محترم مولانا سید محمد رابع حسنی ناظم ندوۃ العلماء کے دعائیہ کلمات سے ہوتا ہےـ انھوں نے لکھا ہے کہ اس کتاب میں جن فارغینِ ندوہ کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کی جماعت ندوہ میں ممتاز جماعت کے طور پر معروف تھی ـ اس جماعت کی ‘نجابت’ کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت چاہیےـ مقدمہ مؤقر استاذ مولانا نذر الحفیظ ندوی کے قلم سے ہےـ وہ اُس دور میں ندوہ میں نہیں تھے ، قاہرہ میں تھے ، بعد میں واپس آکر ندوہ میں تدریسی خدمت انجام دینی شروع کی ، جس کا سلسلہ اب تک قائم ہے ، لیکن اُس دور کے فارغین سے ان کے قریبی روابط استوار ہوئے اور انھوں نے انہیں قریب سے دیکھا ، چنانچہ مقدمے میں انھوں نے کلیجہ نکال کر رکھ دیا ہےـ اس کی سطر سطر سے ندوہ سے ان کی عقیدت اور فرزندانِ ندوہ سے محبت آشکارا ہےـ انھوں نے کتاب کا تعارف کراتے ہوئے بجا طور پر لکھا ہے : ” یہ کتاب معاصرین و رفقاء اور یارانِ محفل اور علم دوست اشخاص کے ذکرِ جمیل سے مزیّن ہےـ یہ مادرِ علمی اور وہاں کے درو دیوار اور اس کے ایک ایک ذرّے سے وفاداری ، احسانات ، اور بے بہا انعامات کا کھلے دل سے اعتراف ہے ، ماضی کی خوش گوار یادوں کی بولتی ، رنگین اور متحرّک تصویر ہےـ یہ شکر گزاری ، احسان شناسی اور وفا شعاری کی خوش بو ہےـ” انھوں نے مزید لکھا ہے : ” وزیر نے اپنے رفقاء کی تصاویر کا جو البم تیار کیا ہے اس میں ہر تصویر زندہ ، رنگین اور بولتی ہوئی دکھائی دیتی ہے _ ان تمام تصاویر میں احسان شناسی ، وفا شعاری ، صدق و محبت اور قدر و نعمت کی خوش بو ہے جو تحریر کی سطر سطر سے پھوٹتی ہے اور چمن کو مشامِ جاں سے معطّر کردیتی ہے ـ” کتاب میں بھائی اکرم ، بھائی حشمت اللہ اور ناشرِ کتاب عزیزی ضیاء الحق کی تعارفی تحریریں بھی شامل ہیں ـ

اس کتاب میں 24 افراد کے تذکرے ہیں ، جن میں سے 16 مصنف کے کلاس فیلوز ، 4 ان سے سینیر اور 4 ان سے جونیر ہیں ـ کہنے کو تو یہ کتاب ان افراد کے سوانحی خاکوں اور علمی ، ادبی اور دینی خدمات پر مشتمل ہے ، لیکن حقیقت میں یہ ندوہ کے ایک زرّیں عہد کی تاریخ پیش کرتی ہےـ تذکروں سے قبل مصنف کی تحریر بہ عنوان ‘تو کہ میرا جنون ہے اب تک’ بہت خوب ہےـ اس میں انھوں نے اپنے زمانے کے ندوہ کے شام و سحر کا تذکرہ بہت باریکی دل آویزی سے کیا ہےـ ایسا لگتا ہے کہ اس میں بھائی اکرم ندوی کی کتاب ‘ندوہ کا ایک دن’ کا خلاصہ بڑی خوب صورتی سے سمو دیا گیا ہے ـ تمام کردار چلتے پھرتے ، علمی موضوعات پر سنجیدہ گفتگو کرتے ، بحث و مباحثہ میں شریک ہوتے ، دل لگی اور خوش طبعی کرتے نظر آتے ہیں ـ

اس کتاب میں تقریباً نصف صدی پہلے کے ندوہ کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کی گئی ہےـ فاضل مصنف اس میں بڑی حد تک کام یاب ہیں ـ اس کا پیغام یہ ہے کہ ندوہ کے موجودہ طلبہ پھر وہی شام وسحر برپا کرنے کی کوشش کریں ـ بھائی وزیر نے کتاب میں بہت سے مقامات پر میرا بھی تذکرہ کرکے اپنی محبت کا ثبوت دیا ہے ، اگر چہ میرے سلسلے میں ان کے بعض بیانات مبالغہ پر مبنی ہیں ـ اللہ انہیں اس محبت کا اچھا بدلہ دےـ

یہ کتاب مکتبہ ضیاء الکتب خیراباد ، مئو (اترپردیش) سے شائع ہوئی ہےـ

صفحات : 184 ، قیمت :160 روپےـ

رابطہ کا نمبر :9235327576

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*