صرف تین فی صدعوام کوویکسین مل سکی،مرکزی حکومت نے ذمے داریوں سے پلہ جھاڑلیا: پرینکاگاندھی

نئی دہلی: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکاگاندھی واڈرا نے اب حکومت سے سوالاتی مہم ’ذمہ دار کون‘ کے تحت ویکسین کی تیاری کے بعد مرکزی حکومت کی ویکسین تقسیم کی پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ پرینکاگاندھی نے کہاہے کہ حکومت ہندوستان کی صرف 3فی صد آبادی کو مکمل ویکسین لگانے میں کامیاب رہی ہے جو حفاظتی ویکسینیشن ہدف سے بہت پیچھے ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ حیرت کی بات ہے کہ اس تباہی کی دوسری لہر کے وقت جب مودی سرکار کو ویکسین کی تقسیم کے نظام کی لگام زیادہ مضبوطی سے سنبھالنی ہے ، اس وقت حکومت نے ویکسین کی تقسیم کی ذمہ داری سے فرارہوگئی ہے اورریاستی حکومتوں پر ڈال دی۔ نہ صرف یہ ، بلکہ انھوں نے مرکزی حکومت کی ویکسین کی غیرمساویانہ تقسیم پربھی سوالات اٹھائے ہیں۔ پرینکاگاندھی کاکہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی پالیسی کے سبب بہت ساری ریاستیں ٹیکوں کے لیے عالمی ٹینڈر لینے پر مجبور ہوگئیں۔ آج موڈرنا، فائزر جیسی کمپنیوں نے ریاستوں سے ویکسین کے لیے براہ راست بات کرنے سے انکار کردیا ہے اور مرکز سے معاملہ کرنے کو کہا ہے۔ پرینکاگاندھی نے پوچھا ہے کہ آج ایسی صورتحال کیوں آئی کہ ریاستی حکومتوں کو عالمی ٹینڈر لے کر آپس میں مقابلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے صرف ایپ پر مبنی ویکسین کی فراہمی کے نظام پر ہی سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ ہندوستان میں 60فی صد آبادی کے پاس انٹرنیٹ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ شہری علاقوں میں ، لوگوں کو کوین ایپ میں اندراج کر کے ویکسین کی سلاٹ حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، لہٰذادیہی علاقوں میں اور ان لوگوں کے لیے جن کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے ، ویکسین کی سلاٹ حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا۔ بہر حال حکومت نے ویکسین کی تقسیم کی پالیسی تشکیل دیتے وقت ڈیجیٹل خواندگی اور انٹرنیٹ کی عدم فراہمی جیسے نکات کو کیوں نہیں مدنظر رکھا۔ پرینکاگاندھی نے کہاہے کہ حکومت کی ویکسین تقسیم کی پالیسی مکمل طور پر سست ہے۔ تمام ماہرین مستقل انتباہ دیتے رہے ہیں کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ویکسینیشن ضروری ہے ۔