سیرت نگاری کے ایک عہد کا خاتمہ ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

اِدھر کچھ عرصے سے عظیم علمی شخصیات ، دینی تحریکوں کے سربراہ ، مدارس کے ذمے داران ، محدثین ، علماء و فضلاء ، ادباء ، صحافی اور سماج کے دیگر سربرآوردہ حضرات بہت تیزی سے ایک ایک کرکے اللہ کو پیارے ہورہے ہیں ـ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تسبیح کی ڈوری ٹوٹ گئی ہے ، جس کے نتیجے میں اس کے دانے ایک ایک کرکے بکھرتے چلے جارہے ہیں _ اس سنہری تسبیح کا ایک دانہ پروفیسر محمد یٰسین مظہر صدیقی کی ذاتِ گرامی تھی ، جن کی کل دوپہر میں وفات ہوگئی ـ ان کی وفات کی خبر نے یوں تو ہزاروں لوگوں کو سوگوار کیا ہے ، لیکن یہ میرے لیے کتنا بڑا المیہ ہے اسے الفاظ میں ادا کرنا میرے لیے ممکن نہیں _ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں ایک بہت بڑے سہارے اور اہم سرپرست سے محروم ہوگیا ہوں ـ

علمی دنیا میں یٰسین مظہر صدیقی صاحب کا تعارف ایک بہت بڑے مصنف کی حیثیت سے ہے _ انھوں نے اسلامی تاریخ اور سیرتِ نبوی پر بہت قیمتی سرمایہ اپنے پیچھے چھوڑا ہےـ انھوں نے خاص طور پر سیرت کی نئی نئی جہتوں سے کام کیا ہے اور ایسے گوشے وا کیے ہیں جن پر پہلے کام نہیں ہوا تھا _ سیرت کے موضوع پر ان کی تصانیف میں خاص طور سے : عہدِ نبوی میں تنظیمِ ریاست و حکومت ، غزواتِ نبوی کی اقتصادی جہات ، عہدِ نبوی کا نظامِ حکومت ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور خواتین _ ایک سماجی مطالعہ ، مکی عہد میں اسلامی احکام کا ارتقا، مکی اسوۂ نبوی : مسلم اقلیتوں کے مسائل کا حل ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی رضاعی مائیں ، عبد المطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دادا ، وحی حدیث ، سنتوں کا تنوّع ، بنو ہاشم اور بنو امیہ کے معاشرتی تعلقات ، قریش و ثقیف کے تعلقات ، خطباتِ سرگودھا (سیرتِ نبوی کا مکی عہد) ، معاشِ نبوی ، عہدِ نبوی کا تمدّن اور مصادرِ سیرت کو علمی حلقوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور ہند و پاک دونوں جگہ وہ شائع ہوئی ہیں ـ سیرت کے علاوہ قرآنیات ، تاریخ ، سوانح اور دیگر موضوعات پر بھی ان کی خاصی وقیع تصانیف ہیں ـ لیکن میرے نزدیک یہ ان کا صحیح تعارف نہیں ہےـ ان کا اصل تعارف یہ ہے کہ انھوں نے مصنفین کی ایک پوری کھیپ تیار کردی ہے ، جو انہی کی طرح سوچنے اور انہی کی طرح لکھنے کی کوشش کررہی ہےـ اسلامی تاریخ میں بڑے بڑے مصنفین گزرے ہیں ، جنھوں نے اسلامیات کے مختلف پہلوؤں پر ضخیم مجلّدات تیار کردی ہیں ، لیکن یٰسین صاحب کی طرح مصنّفین کی فوج تیار کردینے والے کم ہی لوگ رہے ہیں ـ

ڈاکٹر یٰسین صاحب تاریخ کے آدمی تھےـ تعلیم سے فراغت کے بعد ان کا تقرّر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے شعبۂ تاریخ میں ریسرچ اسسٹنٹ کی حیثیت سے ہوا تھاـ ابتدائی زمانے میں انھوں نے تاریخِ ہند پر معیاری کام کیا ہے _ انہیں اسلامیات کا محقق اور خاص طور پر سیرت نگار بنانے میں سابق امیر جماعت اسلامی ہند و صدر ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ مولانا سید جلال الدین عمری کا غیر معمولی کردار ہےـ مولانا اُس وقت ادارہ کے سکریٹری تھےـ انھوں نے تحقیقات اسلامی کے نام سے ایک سہ ماہی علمی مجلہ نکالنے کا ارادہ کیا تو مضامین کے حصول کے لیے مسلم یونی ورسٹی کے معروف اور لکھنے کا ذوق رکھنے والے اساتذہ سے ملاقاتیں شروع کیں ـ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا دل چسپ احوال خود انھوں (یعنی ڈاکٹر صاحب) نے بیان کیا ہےـ مولانا کی خواہش پر انھوں نے کہا کہ میں آج کل ایک مضمون لکھ رہا ہوں ، اسے دے سکتا ہوں ، لیکن اس میں مولانا مودودی پر تنقید ہےـ مولانا نے وہ مضمون لے لیا اور اسے شائع کرنے کا وعدہ کیاـ اس کی قسطِ اوّل تحقیقات اسلامی کے پہلے شمارے (جنوری ـ مارچ 1982) میں ‘تاریخِ اسلام میں فنِ شانِ نزول کی اہمیت’ کے عنوان سے شائع ہوئی ـ سورۂ حجرات ، آیت 6 میں لفظ ‘فاسق’ کا اطلاق عام مفسّرین کی طرح مولانا مودودی نے بھی صحابئ رسول حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ پر کیا تھاـ یٰسین صاحب نے اپنے مضمون میں اس پر سخت تنقید کی تھی ـ مضمون شائع ہوا تو جماعت کے حلقے میں بعض لوگوں نے ناگواری ظاہر کی اور اگلی قسط کی اشاعت روک دینے کا مطالبہ کیاـ مولانا کچھ دنوں کے بعد ڈاکٹر صاحب کے پاس مضمون کی دوسری قسط لینے پہنچے تو انھیں ناقدین کے خطوط بھی دکھائےـ ڈاکٹر صاحب نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا ، آپ نے ناحق خود کو آزمائش میں ڈالاـ تب مولانا نے ایک پوسٹ کارڈ دکھایا اور کہا کہ میں نے ناقدین کو یہ جواب لکھ دیا ہے : ” اس مضمون کی دوسری قسط بھی شائع ہوگی ـ صحابۂ کرام کی عزّت ہمیں مولانا مودودی کی عزّت سے زیادہ عزیز ہے”ـ

مولانا عمری کے اس رویّے نے یٰسین صاحب کو ان کا گرویدہ بنادیا _ پھر تو تحقیقات اسلامی میں ان کے مضامین کی جھڑی لگ گئی _ اس میں مدیر محترم کے بعد سب سے زیادہ مضامین انہی کے شائع ہوئے _ اس کا اعتراف اور تذکرہ خود ڈاکٹر صاحب نے ان الفاظ میں کیا ہے : ” ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ سے خاک سار کا تعلقِ خاطر روزِ اوّل سے ہے _ اسے پروان چڑھانے اور مضبوط بنانے میں ادارہ کے روحِ رواں مولانا سید جلال الدین عمری دامت برکاتہم کا اصل ہاتھ ہے…. مولانا نے اول شمارے سے خاک سار کے مقالات و مضامین بڑی آب و تاب اور بہت محبت و خلوص سے چھاپے اور شاید ہی کوئی جلد خاک سارانہ تحقیقات و بیانات سے خالی رہی ہو…. مدیر گرامی نے اس مقالہ نگار کو تحقیقات اسلامی کی صحیح راہ پر لگا دیاـ یہ دوسری بات ہے کہ وہ مصنّف و عالم نہ بن سکا ، البتہ مقالات اور کتابوں کا ڈھیر لگانے میں کام یاب ضرور رہا _ (تحقیقات اسلامی ،اکتوبر ـ دسمبر 2006، ص81 ـ 83)

جناب رؤف احمد ، لائبریرین ڈاکٹر حمید اللہ لائبریری ، ادارہ تحقیقات اسلامی ، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی نے اپنے ایک مضمون میں علم کتابیات کے ایک ذیلی فن (Bibliometrics) کی روشنی میں 2019 تک کے شماروں کا جائزہ لیا ہےـ(شائع شدہ تحقیقات اسلامی، جنوری ـ مارچ 2020) ان کے بیان کے مطابق تحقیقات اسلامی میں ڈاکٹر صاحب کے 63 مضامین شائع ہوئے ہیں ، جن میں سے 36 سیرت نبوی پر تھےـ تحقیقات اسلامی میں ان کا آخری مضمون اس کے تازہ شمارہ (جولائی ـ ستمبر 2020) میں شائع ہوا ہے ، جس کا عنوان ہے :’جنت میں داخلہ کی قرآنی ضمانتیں اور حدیثی تشریحات ‘ _ اس میں انھوں نے زور دے کر یہ بات کہی ہے کہ قرآن میں جنت کے حصول کو ایمان اور عمل صالح سے مشروط کیا گیا ہےـ یہ شمارہ میں نے چند روز قبل ان کی خدمت میں پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی کی معرفت بھجوایاـ رات میں ظفر صاحب نے مجھے فون کرکے اپنے اس احساس کا اظہار کیا کہ تحقیقات اسلامی میں شائع ہونے والا ڈاکٹر صاحب کا آخری مضمون ان کی اخروی بخشش کا نیک شگون ہےـ

تحقیقات اسلامی میں شائع شدہ ڈاکٹر یٰسین صاحب کے چار مضامین کا مجموعہ ادارۂ تحقیق نے بہت پہلے ‘عہدِ نبوی کا نظامِ حکومت ‘ کے نام سے شائع کیا تھا ، جو اصلاً ان کی ضخیم کتاب ‘عہدِ نبوی میں تنظیمِ ریاست و حکومت’ کی تلخیص ہے _ ادارہ میں ان کے توسیعی خطبات بھی برابر ہوتے رہتے تھے ـ گزشتہ برس اپریل میں ان کا خطبہ’ سیرتِ نبوی میں فقر و غنا کی حقیقت اور عصر حاضر میں اس کی معنویت’ کے عنوان سے ہوا تھا ، جو بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہواـ کچھ دنوں کے بعد پروفیسر عبد الرحیم قدوائی ، ڈائریکٹر خلیق احمد نظامی مرکزِ علوم قرآن ، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی نے تجویز رکھی کہ مرکز اور ادارہ کے اشتراک سے سیرتِ نبوی پر یٰسین صاحب کے لکچرس کی سیریز رکھی جائے ، جن میں سے کچھ لیکچرس مرکز میں اور کچھ ادارہ میں ہوں ـ ڈاکٹر صاحب نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور تیاری شروع کردی ـ فروری میں انھوں نے خبر دی کہ میں نے لیکچرس تیار کرلیے ہیں ، مگر افسوس کہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد کووِڈ 19 کی وجہ سے لاک ڈاؤن شروع ہوجانے اور اب ان کی وفات سے ادارہ ان لیکچرس کے انعقاد کی سعادت سے محروم رہ گیاـ

پروفیسر یٰسین صاحب کا جماعت اسلامی ہند سے رسمی تعلق تو نہ تھا ، لیکن وہ اس کی خدمات کو قدر و ستائش کی نظر سے دیکھتے تھے ـ جماعت کے امراء : مولانا محمد سراج الحسن ، اور ڈاکٹر محمد عبد الحق انصاری رحمھما اللہ اور مولانا سید جلال الدین عمری حفظہ اللہ سے ان کے بہت قریبی تعلقات تھےـ ڈاکٹر انصاری نے اپنے زمانۂ امارت میں ایک مرتبہ انہیں مرکز جماعت میں مدعو کرکے اسلامی اکیڈمی کے تحت ان کے متعدد لیکچرس کروائے تھے _ علی گڑھ کی مقامی جماعت بھی اپنے خصوصی پروگراموں میں انہیں مدعو کرتی تھی اور وہ بہت خوشی سے اس کی دعوت قبول کرتے تھے اور عموماً سیرت نبوی کے کسی پہلو پر خطاب فرماتے تھےـ ان کے داماد ڈاکٹر احسان اللہ فہد فلاحی ، جو عبد اللہ گرکس کالج ، مسلم یونی ورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں ، ماشاء اللہ جماعت اسلامی ہند کے رکن ہیں ـ

میرے نام کے ساتھ ‘ ڈاکٹر’ کا سابقہ دیکھ کر بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ میں نے اسلامیات سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ، جب کہ میں اصلاً طبیب ہوں ـ میں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے بی یو ایم ایس اور ایم ڈی کیا ہےـ کسی پروفیشنل کورس میں دس برس کی طویل مدّت اسلامیات سے میرے ربط کو ختم کرنے کے لیے کافی تھی ، لیکن علی گڑھ پہنچتے ہی ڈاکٹر صاحب سے تعلق نے نہ صرف اسلامیات سے میری دل چسپی برقرار رکھی ، بلکہ اس میں روزافزوں اضافہ ہوتا گیاـ ان سے ہونے والی ہر ملاقات مہمیز کا کام کرتی تھی ـ وہ موضوعات کی نشان دہی کرتے ، لکھنے پر ابھارتے ، کچھ لکھ کر دکھاتا تو پسندیدگی کا اظہار کرتے ، دوسروں کے سامنے خوب تعریف کرتے اور مجھے علامہ بناکر پیش کرتےـ مجھے یاد ہے ، میرے علی گڑھ پہنچنے کے کچھ عرصہ کے بعد ایک بار انھوں نے میرے سامنے ‘ نقوش’ لاہور کے قرآن نمبر کا پروجکٹ پیش کیا کہ رسول نمبر کی طرح ، بلکہ اس سے بہتر شکل میں یہ تقریباً 25 جلدوں میں شائع ہوگاـ ساتھ ہی مجھے مصر کی مشہور ادیبہ اور مصنّفہ ڈاکٹر عائشہ عبد الرحمن بنت الشاطی کی کتاب الإعجاز البیانی للقرآن الكريم اردو ترجمہ کرنے کے لیے دی ـ اس کی عبارتیں بہت دقیق تھیں ـ میں نے بہت محنت سے اور جی لگاکر اس کا ترجمہ کیاـ نقوش قرآن نمبر کی صرف 4 جلدیں ہی شائع ہوسکیں اور میرا ترجمہ اس کا حصہ نہ بن سکا ، لیکن بعد میں مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی سے ‘قرآن کریم کا اعجازِ بیان’ کے نام سے اس کی اشاعت ہوگئی اور یہ ترجمہ میرے اولین علمی تعارف کا ذریعہ بناـ

میری دل چسپی کا اصل میدان قرآنیات ہےـ میں نے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے تخصّص فی التفسیر کیا ہےـ لیکن شاید ڈاکٹر صاحب سے تعلق کا نتیجہ تھا کہ مجھے سیرت نبوی پر بھی کام کرنے کا شوق ہوا اور میرے کئی اچھے مقالات مجلہ تحقیقات اسلامی اور ملک و بیرونِ ملک کے دیگر علمی مجلات میں شائع ہوئےـ ان کا مجموعہ ‘سیرتِ نبوی کے دریچوں سے’ کے نام ہند و پاک دونوں جگہ سے کتابی صورت میں طبع ہوا ہےـ بعد میں پاکستان کی ایک طالبہ نے میرے سیرت کے کاموں پر ایم فل کا مقالہ لکھاـ

ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مجھے بہت سے سمیناروں میں شرکت کا موقع ملا ہےـ وہ سمیناروں کی شان ہوتے تھےـ ان کی بذلہ سنجی محفلوں کو زعفران زار بنائے رکھتی تھی ـ ان کی موجودگی میں دوسروں کو کم ہی بولنے کا موقع ملتا تھا _ وہ بے تکان علمی لطائف ، چٹکلے ، واقعات سناتے تھے اور ان کے پاس گھنٹوں بیٹھنے کے باوجود ذرا بھی اکتاہٹ اور تکان کا احساس نہیں ہوتا تھاـ ان کی مجلسوں میں استاذ اور شاگرد کا فرق مٹ جاتا تھا اور وہ بہت زیادہ بے تکلف ہوجاتے تھےـ ان کی سربراہی میں مجھے ادارۂ تحقیقات اسلامی ، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد اور پاکستان کے بعض دیگر علمی اداروں کے اشتراک سے مارچ 2011 میں ‘دورِ جدید میں سیرت نگاری کے رجحانات’ کے مرکزی موضوع پر منعقد ہونے والے سمینار میں ہندوستان سے آٹھ رکنی وفد کے ساتھ سفر کا موقع ملا تھاـ ان کی بدولت منتظمینِ سمینار کی جانب سے اس وفد کا زبردست اعزاز و اکرام کیا گیا تھاـ اس سمینار میں پوری دنیا سے مندوبین تشریف لائے تھے اور پورے پاکستان سے نمایاں ترین اصحابِ علم جمع ہوگئے تھےـ ان حضرات سے وہاں میری ملاقات ہوئی اور اچھا تعارف ہوا ، جس کے نتیجے میں اب تک ان سے علمی روابط استوار ہیں ـ

ڈاکٹر صاحب سے میرے تعلقات کا ایک پہلو بڑا قابلِ رشک اور لائقِ تقلید ہےـ وہ ہے سخت سے سخت تنقید برداشت کرنا اور اس پر ذرا بھی بُرا نہ مانناـ میری حیثیت ان کے ایک شاگرد کی سی تھی ـ انھوں نے مجھے اپنی کئی تصانیف تحفۃً عنایت فرمائیں ـ میں نے تحقیقات اسلامی میں ان پر تبصرہ کیاـ اسی طرح ان کے بعض مضامین پر میں نے نقد و استدراک لکھا اور ان کے بعض افکار پر گرفت کی ، لیکن انھوں نے کبھی ملاقات پر اشارۃً و کنایۃً ناگواری ظاہر کی نہ کسی اور ذریعہ سے ان کے کسی منفی کمنٹ کا مجھے علم ہوسکاـ واقعۃً ڈاکٹر صاحب بہت بڑے ظرف کے مالک تھےـ اتنا بڑا ظرف بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہےـ

ڈاکٹر صاحب سے میرے قریبی گھریلو تعلقات ہوگئے تھےـ میں وقتاً فوقتاً ان کے گھر حاضر ہوتا تو بہت تپاک سے ملتے اور اتنی باتیں کرتے کہ وقت کا احساس ہی نہ ہوتاـ اس موقع پر اندرونِ خانہ سے ڈھیر سی کھانے پینے کی چیزیں آتیں ـ کئی مرتبہ انھوں نے کھانے پر بلایاـ نکاح کے بعد میں اپنی اہلیہ کو لے کر علی گڑھ پہنچا تو دوسرے ہی دن ان کے دولت کدے پر حاضر ہواـ انھوں نے ہم دونوں کو رات کا کھانا کھلائے بغیر واپس نہ آنے دیاـ آنٹی میری اہلیہ کے ساتھ اتنی محبت اور اپنائیت کے ساتھ پیش آئیں کہ وہ اس پہلی ملاقات کی لذّت اب تک محسوس کرتی ہیں ـ ان کے تمام بچے بھی میرا بڑا لحاظ کرتے تھےـ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے حاضر ہوا تو انھوں نے مجھ سے نماز پڑھانے کی خواہش کی _ میں نے عرض کیا کہ علی گڑھ میں بڑی بڑی شخصیات ہیں ، ڈاکٹر صاحب کے معاصرین میں بھی متعدد بزرگ ہیں ، ان میں سے کسی سے نماز پڑھانے کے لیے کہہ دیا جائے ، لیکن وہ نہ مانے ، چنانچہ ان کی خواہش کے احترام میں مجھے ہی نماز پڑھانی پڑی ، جو میرے لیے بڑے شرف کی بات ہےـ

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ڈاکٹر موصوف کی دینی و علمی خدمات کو قبول فرمائے ، انہیں آخرت کے لیے ذخیرہ بنادے ، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے ، انہیں اعلیٰ العلّیّین میں انبیاء و صدّیقین و شہداء کے ساتھ رکھے اور ان کے پس ماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائےـ آمین ، یا ربّ العالمین!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*