سر سید کے تعلیمی نظریات-انجینئر محمد عادل

تعلیم ایک ایسا نور ہے، جو آدمی کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کرانسانیت کی منزلوں پر فائزکرتا ہے۔وہ اس کی شخصیت کو مہ و انجم کی طرح روشن رکھتا ہے، جس کی روشنی سے آنے والی نسلیں فیض یاب ہوتی ہیں،یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے ایک نسل دوسری نسل تک اپنی تہذیبی و تمدنی،علمی و ادبی خدمات کوورثہ کے طور پر منتقل کر سکتی ہے۔
سر سید احمد خاں کی تعلیمی خدمات اور نظریات آج بھی آنے والی نسلوں کی آب یاری کر رہے ہیں۔ان کی عظیم تعلیمی خدمات کو رہتی دنیا تک فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ان ہی کی کوششوں اور کاوشوں کے نتیجے میں ہندوستانی سماج میں جدید تعلیم کی فضا ہموار ہوئی،جو قوم پستی و کمتری کی گہرائیوں میں گم تھی اس کو ابھر کر آسمان میں کہکشاں کی مانندچمکنے کے مواقع فراہم ہوئے۔
سرسید بخوبی جانتے تھے کہ تعلیم کا مختلف علوم و فنون سے ایک گہرا رشتہ ہے۔مثلاً فلسفہ، تاریخ، نفسیات، سماجیات،حیاتیات وغیرہ وغیرہ۔اس لئے تعلیم کے فروغ میں مختلف عوامل مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔مثلاً خاندان،مذہبی جماعتیں،مختلف قسم کی انجمنیں،مملکت،حکومت اور اسکول ومدارس وغیرہ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ان تمام عوامل کا سہارا لے کر معاشرے میں تعلیم کی اشاعت کے کام انجام دیے جائیں۔
معاشرے کو بیدار کرنے کے لئے انھوں نے ایک رسالہ”تہذیب الاخلاق“ نکالا جس کے ذریعے انھوں نے قوم و ملت میں تعلیم کے راستہ پر گامزن ہونے کا نیک جذبہ بیدار کیا،سماج میں پھیل رہی بہت سی برائیوں سے بچنے اور جہالت کے اندھیروں سے دور رہ کر حق و صداقت،علمی و ادبی کارناموں کے لئے راغب کیا۔ اپنے پیغام کی ترسیل کے لئے سرسید نے بہت ہی سادہ اور عام فہم زبان میں مضامین کی اشاعت کی؛ کیو نکہ سادہ اور سلیس زبان کے لوگوں کے ذہن پر اچھے نتائج مرتب ہوتے ہیں۔سرسید کے اس رسالے نے اردو ادب کے میدان میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔اردو صحافت بھی اس سے کافی متاثر ہوئی۔
۷۵۸۱کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمان پسماندگی اور جہالت کی دنیا میں گم ہو کر رہ گئے تھے۔ایسے نازک وقت میں سر سید نے قوم کی اصلاح کا بیڑا اُٹھایا اور اپنی زندگی کو ہندوستانی عوام میں تعلیم عام کرنے کے لئے وقف کر دیا۔سرسید بخوبی جانتے تھے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کئے بغیر عوام ترقّی کی راہ پر گام زن نہیں ہو سکتی،اس کے لئے سماج میں اعلیٰ اور معیاری تعلیم کی فضا قائم کرنا لازم ہے۔انھوں نے اپنے تعلیمی نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بہت سی کوششیں اور کاوشیں کیں۔عوام کو جدید تعلیم سے آشنا کرانا اُن کا نصب العین تھا، اس کے لئے لوگوں کو سائنس کی تعلیم میں دلچسپی لینا بہت ضروری تھا۔اس کے لیے انھوں نے”سائنٹفک سوسائٹی“ قائم کی اور انگریزی کتابوں کا بہت سا مواد انھوں نے اردو زبان میں منتقل کرایا؛تاکہ عوام مغربی علوم کی اچھی باتوں سے بھی فیض حاصل کر سکیں اور سائنسی فضا قائم ہوسکے اور عوام دنیا میں ہورہی ترقّیات سے بھی ہم کنار ہوسکیں۔اس کے ساتھ ساتھ سرسیدمغربی یونیورسٹیوں کی طرز پر ہندوستان میں بھی یونیورسٹی قائم کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔اس کے لئے انھوں نے انگلستان کا سفر بھی کیا؛ تاکہ وہاں کا تعلیمی نظام دیکھیں اور پھر اسی طرز پر اپنے ملک میں تعلیمی نظام قائم کیا جا سکے تاکہ ہندوستانی عوام بھی تعلیم کے میدان میں دوسرے ممالک کی برابری کر سکیں۔ ولایت میں انھوں نے کیمبرج اور آکسفورڈ جیسی مشہور و معروف یونیورسٹیوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا۔سرسید وہاں چھپ رہے اخبارات ٹیلر اور اسکیٹر سے بھی بہت متاثر ہوئے اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ سماج کی بیداری اور اس کی ترقّی میں صحافت کا بھی اہم رول ہے۔ اسی کی طرز پر انھوں نے ہندوستان آکر”تہذیب الاخلاق“جاری کیا اور اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے مل ایک اسکول کی بنیاد ڈالی۔۵۷۸۱ء میں مولوی سمیع اللہ خاں کی مدد سے علی گڑھ میں ایک مدرسہ قائم کیا۔مسلمانوں کی پسماندگی اور ان کو جہالت کے اندھیرے سے باہر نکالنے کہ لئے وہ ہر ممکن کوشش کرتے رہے،اسی لئے انھوں نے ”آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرس“ کی بنیاد بھی رکھی۔۷۷۸۱ء میں علی گڑھ کالج اور ۱۸۸۱ء میں محمڈن اینگلواورینٹل کالج قائم کئے۔سرسید کی کوششیں اور کاوشیں رنگ لائیں اور ہندوستانی عوام میں تعلیمی نظام قائم ہوا۔ان کے ذریعے قائم کیے گئے کالج کو ۰۲۹۱ء میں یونیورسٹی کا درجہ ملا اور اس کو”علی گڑھ مسلم یونیورسٹی“ کہا جانے لگاجو آج بھی قائم ہے۔
الغرض سر سید وہ دور بین شخصیت تھے،جوجدید تعلیم و تربیت کو قوم و ملت کی ترقی کا ذریعہ مانتے تھے۔اس ضمن میں جو انھوں نے کارنامے اور کاوشیں انجام دیں، وہ کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*