سرسیّد احمد خاں اور ۱۸۵۷ء : راحت ابرار کا ایک اہم تحقیقی کام – شکیل رشید

جب کتابیں پڑھنے کا شوق ہوا تو جن اچھی کتابوں کے نام سُنے تھے ، مطالعے کے لیے حاصل کرنے کی کوششیں کیں ، بہت سی حاصل ہوئیں ، بہت سی نہیں مل سکیں ، ان ہی میں ایک کتاب ‘ اسبابِ بغاوتِ ہند ‘ تھی ، یہ بانیٔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سرسیّد احمد خاں کی تحریر کردہ وہ کتاب ہے ، جو ملک میں انگریزوں سے آزادی کے لیے 1857کی جنگِ آزادی کے ، جسے انگریزوں نے ’ بغاوت ‘ کا نام دیا تھا ، اسباب پر روشنی ڈالتی ہے ۔ تلاشِ بسیار کے باوجود یہ کتاب لمبے عرصہ تک نہیں مل سکی تھی ۔ اب یہ کتاب کئی جگہ سے شائع ہو چکی ہے ، اور پڑھنے والوں کو آسانی کے ساتھ دستیاب ہو جاتی ہے ۔ حال ہی میں اس کتاب کا ، سرسیّد احمد خاں کی 1857 ہی کے موضوع پر لکھی ہوئی مزید دو کتابوں ’ تاریخ سرکشیٔ ضلع بجنور ‘ اور ’ لائل محمڈنز آف انڈیا ‘ کے اضافے کے ساتھ ، ایک نیا ایڈیشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ’ سرسیّد اکادمی ‘ نے شائع کیا ہے ۔ اس نئے ایڈیشن کے مرتب راحت ابرار ہیں ۔ راحت ابرار کا نام علمی حلقوں میں معروف ہے ، وہ کئی علمی و تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ مجھے آج بھی راحت ابرار سے اپنی پہلی ملاقات خوب یاد ہے ۔ ان دنوں میں ایک المناک سانحہ سے دوچار ہوا تھا ، اور اپنے غم کے ازالہ کے لیے اپنی اہلیہ کے ہمراہ ممبئی سے علی گڑھ چلا گیا تھا ، وہاں میرے کئی عزیز رہتے ہیں ، ان ہی میں ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی بھی ہیں ، جو میرے برادرِ نسبتی ہیں اور یونیورسٹی کے طبّیہ کالج میں پروفیسر ہیں ۔ خیال آیا کہ کیوں نہ یونیورسٹی گھوم کر دیکھ لی جائے ، میں یونیورسٹی کے ’ دفتر رابطۂ عامہ پہنچا ‘ وہیں راحت ابرار سے میری پہلی ملاقات ہوئی ، وہ ان دنوں وہاں ایک اہم پوسٹ پر تھے ، ان کے لیے مجھے یونیورسٹی کی سیر کروانا ، تاریخ بتانا اور وہاں کی اہم شخصیات سے ملوانا مشکل نہیں تھا ۔ اور انھوں نے کئی دنوں تک مجھے یونیورسٹی کی عمارتیں ، شعبے ، لائبریریاں دکھلائیں ، اور لوگوں سے ملوایا ۔ انھوں نے ہی میری رسائی ’ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس ‘ تک کروائی جہاں سے میں نے کئی نایاب کتابیں خریدیں ۔ راحت ابرار کے گھر کئی بار گیا ، کھانا کھایا اور اس سفر کی خوبصورت یادیں لیے ممبئی واپس آگیا ۔ اِدھر بڑے دنوں سے نہ علی گڑھ جانا ہوا تھا اور نہ ہی راحت ابرار سے ملاقات ہو سکی تھی ، لیکن ایک دن موبائل پر بات بھی ہوگئی اور انھوں نے اپنی یہ کتاب ، جس کا ذکر کیا جا رہا ہے ، مجھے بھجوا دی ۔ شکریہ راحت ابرار بھائی !

سرسیّد احمد خاں کی اِن تینوں کتابوں کی آج کے دنوں میں کیا کوئی اہمیت ہے ؟ یہ ایک اہم سوال ہے ۔ لیکن جس طرح پہلے اِ س سوال کا جواب مشکل نہیں تھا آج بھی مشکل نہیں ہے ۔ یہ کتابیں ہماری ، ایک قوم کی حیثیت سے ، ’ کمیوں ‘ کا احساس دلاتی ہیں ، اور بتاتی ہیں کہ مایوسی کے سمندر میں ڈوبنے کا مطلب موت ہوتا ہے ، کامیابی اور ترقی کے لیے جدوجہد بالخصوص تعلیمی جدوجہد ضروری ہے ۔ راحت ابرار نے ایک مبسوط ’ مقدمہ ‘ تحریر کرکے ، اِن تینوں کتابوں کا ایک ایسا تعارف کرایا ہے ، جو حیاتِ سرسیّد کے بہت سے مبہم گوشوں کی تشریح کرتا ہے ۔ پروفیسر شافع قدوائی نے اِس کتاب میں شامل اپنے ’ حرفے چند ‘ میں راحت ابرار کی بجا تحسین کی ہے کہ ’’ راحت ابرار نے 1857 سے متعلق سرسیّد کی تحریروں کو معروضیت اور علمی دیانت کے ساتھ مرتب کر کے سرسیّد شناسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے جس کے لیے وہ ہدیۂ تبریک کے مستحق ہیں ۔ ‘‘ راحت ابرار نے اس کتاب کی تدوین اور تحقیق کے دوران ، شواہد کے ساتھ ، تین باتیں ایسی بتائی ہیں ، جن پر اس سے قبل کسی نے بات نہیں کی تھی ۔ ایک تو یہ کہ سرسیّد کی سب سے مقبول کتاب ’ اسبابِ بغاوتِ ہند ‘ ہے اور اس کے سو سے زائد ایڈیشن اردو ، انگریزی اور ہندی زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں ۔ دوسری بات یہ کہ ’ اسبابِ بغاوتِ ہند ‘ کا اصل نام ’ اسباب سرکشی ہندوستان کا جواب مضمون ‘ تھا ، اور الطاف حسین حالی نے جب اس کتاب کو ’ حیاتِ سرسیّد ‘ میں بطور ضمیمہ شامل کیا تو اس کا نام ’ اسبابِ بغاوت ہند ‘ کردیا اور آج تک یہی نام چلا آ رہا ہے ۔ حالی کی کتاب پہلی بار 1901 میں کانپور سے شائع ہوئی تھی ۔ تیسری بات یہ کہ رسالہ ’ اسباب بغاوت ہند ‘ کا انگریزی ترجمہ پہلی بار 1873 میں نہیں 1860 میں ، یعنی پہلے بتائے گئے سنہ سے کوئی تیرہ برس قبل ، شائع ہوا تھا ۔

راحت ابرار نے ’ مقدمہ ‘ میں سرسیّد احمد خاں کی ’ سیاسی بصیرت ‘ پر بحث کی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ ’’ سرسیّد کی سیاسی بصیرت ہی تحریک کی فکری جہت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے ۔ سیاست کو مذہب ، معاشرت اور معاش سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ۔ وہ اہک نہیت فعال قائدانہ صلاحیت رکھنے والے سیاست داں تھے ۔ 1857 کی اس جنگ کا تعلق براہِ راست ہندوستان کے معاشی ، سماجی اور مذہبی زندگی سے تھا اور اس دور میں ہر شعبۂ زندگی میں بے چینی پائی جاتی تھی ۔‘‘ وہ لکھتے ہیں کہ سرسیّد نے ’’ اپنے دور کے تعلیمی ، سماجی ، ثقافتی ، معاشی اور سیاسی مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ ملک و ملّت کی تعمیر نو میں مجتہدانہ کردار ادا کیا ۔ اسی وجہ سے ان کا شمار جدید ہندوستان کے معماروں میں ہوتا ہے ۔‘‘ سرسیّد سب سے زیادہ متاثر 1857 کے انقلاب سے ہوئے تھے ، ’’ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ سرسیّد 1857 کی پیداوار ہیں ۔ اس عظیم سانحے سے ابھرنے کے لیے انھوں نے اپنی پوری زندگی ملک و ملّت کی خدمت کے لیے وقف کردی ۔‘‘ راحت ابرار نے تینوں کتابوں کا تفصیلی تعارف کرایا ہے ، وہ لکھتے ہیں کہ بغاوت کے نتیجے میں ، ’’ برطانوی فوج کے غصے اور ظلم و زیادتی سے ہونے والے ذاتی نقصان اور قومی سانحہ کی طرف سرسیّد کے حساس مزاج نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس بغاوت کے نتیجے میں تین کتابیں تصنیف کیں ۔ اس سے پہلے 1841 سے 1857 تک انھوں نے پندرہ کتابیں تالیف کیں ۔ ان کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سرسیّد کو مذہب اور تاریخ سے یکساں دلچسپی تھی اور ان کا تفکّر ، سائنسی اندازِ نظر اور علومِ مفیدہ کی ترویج و اشاعت کے لیے کوشاں تھی ۔‘‘ لیکن 1857 کے پرآشوب حالات میں ’’ مسلم سماج کو جدید مغربی تعلیم کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ۔‘‘ انھوں نے پوری کوشش کی کہ ’’ مسلمانوں کو غدر میں شرکت کے الزام سے کسی نہ کسی طرح بچایا جائے ۔‘‘ یہ کتابیں اسی کوشش کا نتیجہ ہیں ۔ پہلی کتاب ’ سرکشی ضلع بجنور ‘ مئی 1857 سے لے کر 1858 تک کے واقعات درج ہیں ۔ اس میں بجنور کے باشندوں کا ردعمل اور اہلِ فرنگ پر جو بیتی ، اس کی تفصیل صداقت اور بنا کسی خوف کے پیش کر دی ہے ۔‘‘ دوسری کتاب ’ اسباب بغاوت ہند ‘ تھی اور تیسری کتاب’ لائل محمڈنز آف انڈیا ‘ ۔ آخر الذکر تین شماروں پر مشتمل ہے ، پہلے شمارے میں ان بہت سے مسلمانوں کے حالات ہیں جنہوں نے انگریزی حکومت کیی وفاداری میں قربانیاں دیں ،دوسرے شمارہ میں جہاد کے اسلامی تصور پر اور انگریزوں کے اہلِ کتاب ہونے کے سبب ان کے برادارنہ سلوک کی تلقین ہے اور تیسرے شمارہ میں پیغمبر اسلامﷺ اور یہودیوں کے درمیان مدینہ منوّرہ میں ہوئے ایک معاہدہ کی تفصیلات ہیں ۔ ’ مقدمہ ‘ میں آگے علی گڑھ تحریک اور سرسیّد کی قرآن پاک کی تفسیرپر بھی تفصیلی بات کی گئی ہے ۔ تینوں کتابوں کے مختلف ایڈیشنوں اور ترجموں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔اور سرسیّد کی دیگر خدمات کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ راحت ابرار نے اپنے مقدمہ میں یہ بجا اعتراف کیا ہے کہ ، ’’ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گذشتہ پچاس برسوں میں معدودے چند افراد کو چھوڑ کر سرسیّد اور علی گڑھ تحریک پر کوئی بڑا علمی ، تحقیقی اور تصنیفی کام نہیں ہوا ہے ۔ ‘‘ لیکن اب سننے میں آ رہا ہے کہ کام ہو رہا ہے ۔ راحت ابرار مذکورہ تینوں کتابوں کی تدوین کے لیے شکریہ کے حقدار ہیں ۔کتاب میں امریکہ کے سرسیّد شناس ڈیوڈ لیلی ویلڈ کا ’ پیش لفظ ‘ بھی شامل ہے ، انگریزی میں بھی اور ترجمہ بھی ۔ اس کتاب میں یونیورسٹی کے وائس چانسلی طارق منصور کا تہنیتی پیغام بھی ہے ۔انتساب کے الفاظ ہیں ’ ہندوستان کی آزادی کے ۷۵ ویں جشن ِ سالگرہ کے موقع پر سرسیّد احمد خٓں (م ۱۸۹۸ء )کے نام جنھوں نے اس ملک میں جمہوری نظام ِ حکومت کا خواب دیکھا تھا جو ۱۹۴۷ء میں شرمندۂ تعبیر ہوا ۔‘ کتاب 550 صفحات پر مشتمل ہے اور قیمت 600 روپیہ ہے ۔