سرسید اکیڈمی کے زیر اہتمام ’مقالات سرسید‘ اور دیگر کتب کا اجرا

علی گڑھ:’’سرسید اکیڈمی اور دارا شکوہ مرکز تفاہم بین المذاہب و ڈائیلاگ ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دو اہم ادارے ہیں جو کتابوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ عوام تک براہ راست ربط پر بھی توجہ مرکوز کریں تاکہ سماج کو مجموعی طور سے فائدہ ہو ۔ کتابوں کو دیگرہندوستانی زبانوں میں بھی ترجمہ کرکے شائع کیا جائے تاکہ سرسید اور علی گڑھ تحریک کا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے‘‘۔ان خیالات کا اظہار اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے سرسید اکیڈمی کے زیر اہتمام ’مقالات سرسید‘ سمیت دیگر کتابوں اور مونوگراف کی آن لائن رسم اجراء تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وائس چانسلر کے بدست ’مقالات سرسید‘ (مولانا محمد اسماعیل پانی پتی)، جلد اوّل،’ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیلنڈر-1932‘ ، ’ تفہیم سرسید (الطاف احمد اعظمی)، ’شیخ محمد عبداللہ (پاپا میاں)‘ از ڈاکٹر محمد فرقان،’ جسٹس سرشاہ محمد سلیمان ‘از ڈاکٹر اسد فیصل فاروقی اور ’مولوی چراغ علی‘ از ڈاکٹر رضا عباس کا اجراء عمل میں آیا۔ پروفیسر منصور نے کہاکہ اے ایم یو کے صدی سال میں سرسید اور علی گڑھ تحریک سے متعلق قدیم کتابوں کی اشاعت باعث مسرت ہے۔ انھوں نے کہاکہ اشاعتوں کا معیار بلند ہونا چاہئے ، ساتھ ہی کتابوں کا ہندوستانی اور انگریزی سمیت دیگر غیرملکی زبانوں میں ترجمہ بھی ہونا چاہئے تاکہ سرسید اور علی گڑھ تحریک کا پیغام دور دراز تک پہنچے۔ ملٹی ڈسپلنری یونیورسٹی ہونے کے باعث اے ایم یو میں یہ کام آسان ہے ۔ پروفیسر منصور نے کہاہے کہ سرسید اکیڈمی میں ریسرچ کا سلسلہ بھی شروع کیا جائے۔ انھوں نے کہاکہ شیخ محمد عبداللہ پاپا میاں کو ہندوستان میں خواتین کی جدید تعلیم کا بابائے آدم کہا جاسکتا ہے۔ جسٹس سر شاہ محمد سلیمان اور مولوی چراغ علی، علی گڑھ تحریک کا اہم باب ہیں۔ ان کتابوں کی اشاعت کے لئے اکیڈمی کے ذمہ داران مبارکباد کے مستحق ہیں۔اس سے قبل ’مقالات سرسید‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر شافع قدوائی (صدر، شعبۂ ترسیل عامہ، اے ایم یو) نے کہاکہ مولانا اسماعیل پانی پتی کی مرتب کردہ ’مقالات سرسید‘ ۱۹۵۵ء میں شائع ہوئی تھی جس میں نقل نویسوں کی غلطیوں کے باعث کئی کمیاں رہ گئی تھیں۔ سرسید اکیڈمی نے یونیورسٹی کے صدی سال میں اس کتاب کے اغلاط کو درست کرکے اسے شائع کیا ہے۔ پروفیسر شافع قدوائی نے کہاکہ اس اشاعت کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں کئی مضامین جو سرسید کے نام سے شائع نہیں ہوئے تھے انھیں سرسید کے مضامین میں شامل کردیا گیا۔ مشہور انگریزی انشائیہ نویس جوزف ایڈیسن اور رچرڈ اسٹیل کے انشائیوں کے تراجم جس کی صراحت خود سرسید نے کی ہے، انھیں مولانا اسماعیل پانی پتی نے ’مقالات سرسید‘ میں شامل کرلیا تھا۔ اس خلط مبحث کوسرسیداکیڈمی نے اپنی تازہ اشاعت میں دور کردیا ہے۔