ایس آئی او کا آن لائن پروگرام، سیاسی قیدیوں کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

نئی دہلی:سب یاد رکھا جائے گا آنلائن پروگرام ایس آئی او کی جانب سے انعقاد کیا گیا جس میں آصف اقبال، خالد سیفی ، شرجیل امام، عمرخالد اورصدیق کپن کے اہل خانی سے جانیں کہ وہ اپنے عزیزوں کے بغیر کس طرح رمضان گزار رہے ہیں۔عمر خالد کے والد محترم جناب قاسم رسول الیاس صاحب نے کہا کہ ہمیں فخر ہے اپنے بچوں پر جن لوگوں نے دستور ہند کی بقا کے لیے اپنی زندگی کو وقف کیا اور آج زنداں کے پیچھے ہے۔انھوں نے بتایا کہ عمر خالد نے اپنا پاسپورٹ نہیں بنوایا کیوں کے اسے ملک سے باہر نہیں جانا ہے۔آصف اقبال کے والدین کو بھی اپنے بچوں پر فخر ہے کے وہ حق پر ہے اور اس کے لیے لڑ رہے ہیں۔انھوں نے بتایا کے ایس آئی اوکے طلباء ہمیں حوصلہ دیتے رہتے ہیں۔میران حیدر کی بہن نے بتایا کہ جب وہ اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ کورنا کا قہر ہمارے ملک میں شروع ہوا تھا اور وہ اس وقت ریلیف کا کام کر رہے تھے۔شرجیل امام کے بھائی مزمل امام نے بتایا کہ جب بھی ان کی بات ان کے بھائی سے ہوتی ہے وہ وہاں پر قید لوگوں کے حالات بیان کرتے ہیں جن کے پاس وکیل کرنے تک کی استطاعت نہیں ہے اور وہ بے بنیاد الزامات کے سبب زنداں میں ہے۔خالدسیفی کی اہلیہ نرگس سیفی نے بتایا کہ ان کے شوہر پر ظلم اور تشددکی انتہاکی گئی۔ کورٹ کی پہلی حاضری کے وقت ان کے دونوں پیروں پر پلاسٹر تھا۔ وہ ابھی پانچ دنوں سے بیمار ہیں اور ان کا علاج نہیں کریا جارہا ہے۔ وہ جیل میں بھی لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔اود وہاں افطار کا انتظام کرواتے ہیں۔صدیق کپن کی اہلیہ ریحانہ نے بتایا کہ ان کے شوہر ہاتھرس قتل معاملہ کی رپورٹنگ کے لیے جا رہے تھے۔ راستہ میں یوپی پولیس نے ان کو گرفتار کیا اور ان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں سے جوڑا گیا جب کے وہ کسی تحریک کے حصہ نہیں ہیں۔اطہر خاں کی والدہ نور جہاں اپنے بیٹے کے ساتھ نہ ہونے سے آبدیدہ ہوگئیں۔ اور وہ دعا کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس آزمائش سے نجات دے اور ان ک اور تمام بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ ایس آئی او کے صدرسلمان احمدنے بتایاہے کہ ہماری انفرادی زندگی میں جیسے آکسیجن کی ضرورت ہے اسی طرح سماجی زندگی میں انصاف کی ضرورت ہے۔ انصاف کے بنا سماج کا قتل ہو جاتا ہے۔ آج ہماری سرکار اور میڈیاجتنااسلام کے خلاف نفرت پھیلا رہی ہے اگر اتنا ہی فکر وہ اگر صحت اور نظام کی بہتری کے لیے کیا ہوتا تو آج ہمارے ملک میں ہزاروں لوگوں کی جان نہیں جاتی۔