سنگھو بارڈر پر احتجاج کررہے کسانوں کے خلاف دہلی پولیس نے درج کی ایف آئی آر

نئی دہلی:دہلی پولیس نے سنگھو بارڈر کی ریڈ لائٹ پر بیٹھے احتجاج کرنے والے کسانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ کسان سماجی فاصلے کی پیروی نہیں کررہے ہیں۔ یہ کسان 29 نومبر کو لامپور بارڈر سے زبردستی دہلی بارڈر میں داخل ہوئے اور سنگھو بارڈر کی ریڈ لائٹ پر دھرنے پر بیٹھ گئے، اس وقت سے کسان ایسے ہی روڈ بند کرکے بیٹھے ہیں۔ 7 دسمبر کو پولیس نے علی پور پولیس اسٹیشن میں کسانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی، کسان سنگھو بارڈر پر گزشتہ15 دنوں سے نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ آج ان کی تحریک کا 16 واں دن تھا۔ حکومت اور کسان تنظیموں کے مابین اب تک مذاکرات کے پانچ دور ہوچکے ہیں، لیکن تمام ملاقاتیں غیر نتیجہ ر ہیں۔ اب کسان تنظیموں نے 14 دسمبر سے ملک گیر احتجاج کی وارننگ دی ہے۔ 12 دسمبر کو دہلی -جے پور شاہراہ کو بند رکھنے کے لیے تمام ٹول پلازہ پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔گزشتہ کچھ مہینوں سے ہزاروں کسان نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور ان قوانین کو مرکزی حکومت سے واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کسانوں کو خوف ہے کہ نئے قانون کی آڑ میں ان کی فصلیں نجی سیکٹر کم قیمت پر خرید سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کم سے کم سپورٹ قیمت سے بھی کسانوں کو محروم کیا جاسکتا ہے۔