سیمانچل کے عوام کس پربھروسہ کریں؟-محمد انصار قاسمی

سیمانچل ڈیولپمنٹ فرنٹ، بہار
بہار میں 2020 اسمبلی الیکشن کابگل بج چکاہے، الیکشن کمیشن نےانتخاب کی حتمی تاریخ کااعلان بھی کردیا ہے، اعلان کےمطابق تین مرحلوں میں 28/اکتوبر ،3/اور 7/نومبر کو ووٹنگ ہے، اسی بیچ سیاسی پارٹیوں کے سربراہ اعلی ، مفکر ودانشور،تبصرہ نگار، صحافی، اینکر،اخبار، ٹیلی ویژن اور نیوز پورٹلز کے مدیران سب کی نگاہیں خاص طور سےسیمانچل پرہیں۔ سیاسی پارٹیاں سیمانچل کے بھولے بھالے عوام کوبس اپنےقریب کرنے اور ان کے ووٹ پرقبضہ جمانےکی ہرممکن کوشش میں لگی ہیں، سیمانچل ارریہ، پورنیہ ،کشن گنج ،کٹیہار ،سپول مدھےپورہ اورسہرسہ جیسے اضلاع پرمشتمل ہے اوریہاں کل 37/اسمبلی حلقے ہیں۔ 2015کےانتخابی نتائج کی بات کریں توجنتادل یونائٹیڈ:12،راشٹریہ جنتادل دل :9،کانگریس :7،بھارتیہ جنتا پارٹی :7، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا :1،اورآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ضمنی انتخاب میں 1/سیٹ پرفتح حاصل کی، 2015 کی صورت حال یہ تھی کہ عظیم اتحاد میں آرجے ڈی، جےڈی یواور کانگریس، جب کہ این ڈی اے میں بی جے پی، ایل جے پی اورراشٹریہ لوک سمتاپارٹی کی شمولیت تھی، مجلس اتحاد المسلمین کی نگاہ سیمانچل کی صرف 6/سیٹوں پرتھی، 2020 کا انتخاب اس سے بہت الگ ہے اور ابھی تماشہ دیکھناباقی ہےکہ کون کس کےساتھ جاتاہے؟ کس پرسیکولرکالیبل لگ جائے اور کون سیکولر کی صف سے نکل جائے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اب دیکھنا یہ بھی ہے کہ تیسرے مورچے میں کس کس کی شمولیت ہوگی۔ سیمانچل جس کی ترقی، فلاح و بہبود اوریہاں کی پسماندگی کودور کرنے کےلئے ایک سےایک قدآوراوربڑے بڑے لیڈران میدان سیاست میں آتےرہے؛ لیکن حاصل کچھ نہیں ہوا، جناب ضیاء الرحمن ،رفیق عالم، سیمانچل گاندھی الحاج تسلیم الدین، سید شہاب الدین،لالوپرساد یادو، شردیادو،راجیش رنجن عرف پپویادو ،سید شاہ نواز حسین، مولانا اسرارالحق قاسمی ،جمیل الرحمن ،محمد طاہر، طارق انور،ایم جےاکبر، سکھدیوپاسوان، چوہدری محمد صلاح الدین، چودھری محبوب علی قیصر ، مادھوری سنگھ، مہندر نارائن سرداراورڈومرلال بیٹھاجیسے سیاسی افراد نے یہاں سےقسمت آزمائی اورکامیاب ہوئے،آنجہانی للت نارائن مشرا، جگن ناتھ مشرا جیسے سیاسی لیڈران بھی سپول کےبلوابازارمیں جنم لئے،مگر کچھ کوچھوڑ کر سب ایک ہی سکے کے الگ الگ رخ ثابت ہوئے اور سیمانچل بدحال کابدحال ہی رہا، ابھی کی صورت حال یہ ہے کہ ہفتےبھر کی مسلسل بارش کی وجہ سے کئی علاقے سیلاب کی زد میں میں ہیں، اور یہ اس سال کاکہیں دوسراتوکہیں تیسراسیلاب ہے، پانی کےکٹاؤسےگھر مکان تودورعبادت گاہیں، قبرستان اور مساجد تک نہیں بچ سکی ہیں،ہرسال کوئی نہ کوئی علاقہ سیلاب کی زد میں آتا ہے اور لوگوں کو جان ومال کابھاری نقصان اٹھانا پڑتاہے؛ لیکن اب تک باضابطہ اس کاکوئی ایساحل نہیں نکل پایاکہ لوگ چین وسکون کی نیند سوسکیں، صنعت وحرفت کی بات کریں تو نہ تواس علاقے میں ایسے کارخانے اور فیکٹریاں ہیں کہ غریب و مزدور دہلی،ممبئی، پنجاب اور کشمیر کوچھوڑکریہاں روزی روٹی کاانتظام کرلیں، تلاش معاش کے لئے ملک کے مختلف شہروں کی طرف نکلنےاوراپنےہی ملک میں پرواسی (مہاجر) مزدورکہلانےپرمجبور ہوتے ہیں اور حدتویہ ہےکہ یہاں سےدہلی، ممبئی اور پنچاب آمدورفت کے لئے ٹرینیں بھی محدود ہیں، یاتوسلی گوڑی،گوہاٹی کی طرف سےآنےوالی ٹرین کشن گنج کٹیہار ہوکر گزرتی ہے، یاپھر گنتی کی چندٹرینیں سہرسہ سے چلتی ہیں،یہ دونوں سیمانچل کاکنارہ ہے، بڑی تعداد جو اس درمیان میں آباد ہے، اس کی مشکل ہنوز باقی ہے، جوگبنی سےارریہ ،پورنیہ ہوکردہلی جانے والی اکلوتی ٹرین "سیمانچل ایکسپریس”ہےاورہفتے میں تین دن کولکاتا کےلئے "جوگبنی کولکاتا” ہے، کہنےکوتو”سیمانچل ایکسپریس” سپرفاسٹ ہے؛ لیکن اس سپر فاسٹ کاافسوسناک المیہ یہ ہے کہ اب تک اس میں باضابطہ کینٹنگ نہیں ہے اوربروقت تودرکنار دوچارگھنٹے تاخیر سےبھی اگردہلی یاجوگبنی پہنچ جائے تواس دن ٹرین میں سوارکسی مسافر کی بزرگی کی برکت ہی کہی جائے گی، ٹھنڈی کےموسم میں جب سخت کہرے کازمانہ ہوتاہے تواس کا رد (کینسل) ہوجانا ایک عام سی بات ہے۔ 1934 کابھیانک زلزلہ اور 2008میں کوسی ندی کی طغیانی اورپشتہ (باندھ) کاٹوٹناکسی قیامت صغریٰ سےکم نہیں تھا، زلزلہ کی وجہ سے کوسی ندی کاپل پوری طرح سے تباہ ہوگیا،آمدورفت ایسی بندہوئی کہ کہ ایک ہی ضلع دوملک کی شکل اختیار کرگیا،ایک طرف سرائے گڑھ ہےدوسری طرف نرملی، اس علاقے کے لوگ یہاں تک کہنے لگے کہ "بیٹی اور روٹی دونوں کارشتہ ختم ہوگیا”۔ سرائے گڑھ سےنرملی کی دوری تقریباً 22/کلومیٹر کی ہے،مگر وہاں پہنچنے کے لیے سہرسہ، سمستی پور،دربھنگہ ، شکری ہوکرتقریبا 300/کلومیٹر کی مسافت طےکرنا پڑتی تھی، ادھر چند سالوں سے NH57 اورکوسی میں پل بن جانے کے بعد پرائیویٹ گاڑی اور بس کے ذریعے سپول، ارریہ، پورنیہ اورمدھےپورہ کے لوگوں کودربھنگہ اور پٹنہ جاناآسان ہواہے۔ اب 86/سال کےبعد اسی مہینہ(ستمبر 2020) میں "سپول” سے”سرائے گڑھ” ہوتے ہوئےکوسی کے پار "آسن پور کوپہا”تک ٹرین چلی، خداکرے کہ آگےنرملی ،جھنجھارپورکابقیہ کام جلد ہوجائے ،تاکہ شکری ، دربھنگہ کے راستے دہلی، پنجاب اور ممبئی جانا آسان ہوجائے اور ایک لمبی مسافت جوکھگڑیا، برونی اور پٹنہ ہوکرطےکرنی پڑتی ہےاس مشقت سےلوگ بچ جائیں،2012میں فاربس گنج سےسپول اورسہرسہ جانے والی ٹرین جو رخصت ہوئی اب تک واپس نہیں ہوئی، مسافرانتظارمیں ہے کہ ٹرین کب پٹری پردوڑے گی،راگھوپورسے فاربس گنج تک کا کام ہنوز باقی ہے، اللّہ کرےکہ جلدتکمیل کوپہنچ جائے۔
زراعت، کاشت کاری یہاں کاعام پیشہ ہے، سیمانچل کےکسان عام طور پرکثرت سےدھان، پٹسن (پاٹ) اور مکئی کی کھیتی کرتے ہیں،دھان اور پٹسن سیلاب سے بچ جائے توزہےقسمت، مکئی جسے کسان اپنی کڑی محنت اور کافی لاگت (خرچ) کےبعد تیار کرتے ہیں، جب موقع آتاہےفصل کی کٹائی اور پیداوار کی فروختگی کاتوقیمت آدھےسےبھی کم ہوجاتی ہے،رواں سال میری معلومات کے مطابق اکثر کسانوں نے مکئی کی کھیتی خوب کی، بلکہ اکثریت توایسی ہے کہ گندم کی کھیتی نہ کے برابر کی، کٹائی سےکچھ مہینے قبل تک تو 2300/2400/روپئے کوئنٹل مکئی کی قیمت تھی؛لیکن جب مکئی تیار ہونے لگی توقیمت گھٹتے گھٹتے900/کےقریب ہوگئی ، ان کسانوں کے پاس نہ تواسٹوراور گودام ہےاور نہ ہی کوئی ایسی محفوظ جگہ ،جہاں اسٹاک کرسکے،نہ توحکومت نے اس طرف توجہ دی اور نہ کوئی رہنما ان کی آواز بن کرکھڑاہوا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مکئی کی ضرورت مارکیٹ میں بڑھتی جارہی ہے؛ کیونکہ مکئی سےتیارہونےوالی اشیا میں روز بروزاضافہ ہو رہا ہے، پھر کسانوں کےساتھ سوتیلا برتاؤ کیوں؟
میڈیکل لائن بھی کسمپرسی کی حالت میں ہے، بہتر علاج کے لئے نجی ہسپتال میں مریضوں کوجاناپڑتاہے، جس کےاخراجات کسی سےمخفی نہیں، آبادی کے اعتبار سے اعلیٰ تعلیم کے لئے ادارے،کالجز، انسٹی ٹیوٹ اوریونیورسیٹی کاتناسب قابل افسوس ہے، خلاصہ یہ کہ یہاں کے عوام ابھی بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، نونہالوں کافیوچر تاریک ہے، ہر پانچ سال پرنت نئےدلفریب وعدوں کےساتھ سیاسی بازیگرسیمانچل کی دھرتی پر اترتےہیں؛ لیکن وعدے بس وعدےہی رہتے ہیں، عملی اقدامات صفرکےدرجہ میں ہیں، اب سیمانچل کے عوام سوچنے پرمجبور ہیں کہ کس پراعتماد کریں؟ اور کس کواپنامسیحا مان کراس کی جھولی میں اپناووٹ ڈال دیں، اب یہ دیکھنا یہ دلچسپ ہوگاکہ کس پارٹی کےانتخابی منشور میں سیمانچل کی تعلیمی پس ماندگی کودورکرنے،غربت کےخاتمہ، کسانوں اور مزدوروں کی تعمیروترقی کے لئےکتناحصہ ہے؟