ایس آئی ایم کی 1984کی کانفرنس کے تعلق سے مولانا سلمان ندوی کا خلافِ واقعہ بیان -ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

گزشتہ کچھ عرصے سے مولانا سلمان حسینی ندوی کے افکار کی وجہ سے ملک کے علمی و دینی حلقوں میں بھونچال سا آیا ہوا ہے ۔ آئے دن مولانا کا کوئی نہ کوئی متنازعہ ویڈیو جاری ہوتا ہے اور فوراً اس کی حمایت اور مخالفت کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ میرے متعدد مخلص احباب نے ان کے چھیڑے گئے بعض موضوعات پر میری رائے جاننی چاہی ، لیکن میں نے اس خاردار وادی میں قدم نہ رکھنے ہی میں عافیت سمجھی ۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ بعض اصحابِ علم اپنا فریضہ ادا کررہے ہیں اور ان موضوعات پر صحیح نقطۂ نظر کی وضاحت کررہے ہیں ۔
مولانا سلمان صاحب کا دو منٹ کا ایک ویڈیو کلپ ابھی حال میں میری نظر سے گزرا ہے ، جس میں انھوں نے ردِّ شیعیت کے حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے مرحوم طلبہ تنظیم ایس آئی ایم کی ایک کانفرنس میں اپنی شرکت کا احوال بیان کیا ہے ۔ چوں کہ اس کانفرنس میں میں بھی شریک تھا ، میری نگاہوں کے سامنے وہ پورا واقعہ پیش آیا تھا ، اس لیے سلمان صاحب کا یہ ویڈیو دیکھ اور سن کر مجھے بہت زیادہ حیرت ہوئی کہ انھوں نے صحیح ترجمانی نہیں کی ہے ۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ مولانا جھوٹ بول رہے ہیں کہ یہ بے ادبی ہوگی ، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ مولانا کی بیش تر باتیں خلافِ واقعہ ہیں ۔ میں اس موقع پر بھی خاموش رہتا ، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ اس مرحوم تنظیم پر کوئی دو آنسو بہانے کا روادار نہیں ہے اور اس مخصوص واقعہ کے سلسلے میں درست موقف بیان کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ، اس لیے اپنی خاموشی توڑنے پر میں خود کو مجبور پاتا ہوں ۔
مولانا نے اپنے ویڈیو میں بیان کیا ہے :
” میری رگوں میں تو خون حسینی دوڑ رہا ہے ، اس لیے شیعوں سے میں نے جنگ کی اور یہ آپ کو معلوم ہے اور پورے ملک کو معلوم ہے کہ جب ایس آئی ایم کی طرف سے رام لیلا گراؤنڈ میں ایک عظیم الشان کانفرنس کی گئی اور اس کانفرنس کے پیچھے ایرانی سفارت خانہ تھا اور خمینی صاحب کی تائید کے لیے اصلاً وہ کانفرنس کی گئی تھی اور ہمارے بھائی قاسم رسول الیاس صاحب ایس آئی ایم کے اس وقت کے ذمہ دار تھے تو جب میں وہاں گیا مولانا علی میاں صاحب کا ایک پیغام لے کر تو مجھ پر پہرے بٹھا دیے گئے ۔ پہلے تو کوشش کی گئی کہ میں اسٹیج تک نہ پہنچ سکوں اور جب میں اسٹیج پر پہنچا اور مولانا کا پیغام بیان کرنے کے بعد میں نے اپنی بات کہی کہ خوب یاد رکھیے کہ خمینی صاحب اسلامی قائد نہیں ہیں ، بلکہ اثنا عشری قائد ہیں اور ان کے یہ عقائد ہیں ، اس وقت جو طوفان اٹھا ، ایس آئی ایم کے نوجوان تو ساتھ ہو گئے اور وہ شیعہ نوجوان جو اس میں موجود تھے ، انہوں نے مجھ پر جس طرح حملہ کیا اور جس وقت وہ کارروائی ہو رہی تھی ، وہ ہنگامہ تھا ، وہ طوفان تھا ، اس وقت جمعیۃ العلماء کے حضرت مولانا اسعد صاحب ، مولانا ارشد صاحب ، پورا دیوبند کان لگائے بیٹھا تھا، دلی میں اس واقعہ کی لمحہ لمحہ کی وہاں اطلاع پہنچی اور میں اس معرکے میں داخل ہوا اور جو لوگ میرے ساتھ تھے دیوبند اور ندوہ کے ، ان پر حملہ ہوا ، ان کو چوٹیں بھی لگیں ، اور الحمد للہ انھوں نے مجھے تحفظ فراہم کیا اور اس کے بعد وہاں سے واپسی ہوئی اور پھر ایس آئی ایم کے خلاف میں نے لکھا ، انہوں نے میرے خلاف لکھا اور اسی واقعے کے بعد ایس آئی ایم کی موت ہوگئی ۔ قاسم رسول الیاس ساری کہانی جانتے ہیں اور میرے پاس تو لفظ لفظ نوٹ ہے ، لمحہ لمحہ نوٹ ہے ، میری مذکراتی میں سب درج ہے ، شائع بھی ہوچکا ہے ۔ بہرحال ، مولانا سجاد صاحب کاش کہ اشارہ کر دیتے کہ ایک میرے بھائی مولانا سلمان ہیں جنہوں نے شیعوں سے جنگ کی اور دلی میں کی اور خمینی صاحب کے بارے میں مولانا منظور تو کتاب لکھ کر فارغ ہو گئے ، علی میاں کتاب لکھ کر فارغ ہوگئے ، لیکن جس نے وہ جنگ کی دلی میں ، جس کی خبر کیرلا سے لے کر کشمیر تک گونج گئی اس کا بھی حوالہ ہوتا تو اچھا ہوتا۔”
ایس آئی ایم کی یہ تیسری کل ہند کانفرنس تھی ، جو 26 تا 28 اکتوبر 1984 ء کو دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہوئی تھی ۔ مولانا کی خلافِ حقیقت باتوں کی وضاحت سے قبل پیش آمدہ واقعہ کے سلسلے میں دوسرے موقف کی ترجمانی کرنے والی چند سطریں ملاحظہ ہوں ۔ برادرِ عزیز نعمان بدر فلاحی نے ایس آئی ایم کی تاریخ لکھی ہے ۔ انھوں نے اس کانفرنس کی لمحہ بہ لمحہ روداد اپنی کتاب میں شامل کی ہے ۔ اس واقعہ کو انھوں نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
” مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا ارسال کردہ تحریری پیغام پڑھ کر سنانے کے لیے جب ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ مولانا سلمان حسنی ندوی صاحب کو ڈائس پر بلایا گیا تو انھوں نے مولانا علی میاں کا حوصلہ افزا پیغام سنانے کے بعد موقع و محل اور اجازت کے بغیر خطاب شروع کر دیا اور غیر مناسب انداز میں اپنے منفی خیالات کا اظہار کرنے لگے ۔ اسٹیج پر موجود ذمہ داران نے مولانا کو روکنے اور سمجھانے کی کوشش کی ، مگر وہ شدّتِ جذبات سے مغلوب ہونے کے سبب خاموش نہیں ہو پائے ۔ بالآخر سامعین کا اشتعال دیکھ کر مائک بند کر دیا گیا اور مولانا محترم کو اپنی حفاظت میں لے کر باعزت طریقے سے اسٹیج سے رخصت کیا گیا۔ مولانا کے غیر حکیمانہ خطاب کی وجہ سے سامعین میں جو ردِّ عمل ہوا اس کی وجہ سے بد مزگی اور ابتری کی ایک وقتی کیفیت پیدا ہوگئی تھی ، جو تھوڑی ہی دیر بعد مولانا سید حامد حسین صاحب کی ولولہ انگیز تقریر سے دور ہو گئی ۔”
ایک نام ور عالم دین ، عظیم مصنف اور بے مثال خطیب کے غیر محتاط اندازِ بیان اور ایک نو آموز اور نوجوان قلم کار کے سنجیدہ اندازِ بیان کو بہ آسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔
مولانا کے خلافِ حقیقت بیانات درج ذیل ہیں :
1 _ ” اس کانفرنس کے پیچھے ایرانی سفارت خانہ تھا۔”
یہ سراسر بہتان ہے ۔ ایرانی سفارت خانہ سے اس کانفرنس کا کوئی تعلق نہ تھا ۔
2 _ "خمینی صاحب کی تائید کے لیے اصلاً وہ کانفرنس کی گئی تھی ۔ ”
حقیقت یہ ہے کہ اس کانفرنس کا مرکزی موضوع ‘ہندوستانی سماج کا بحران اور تحریکِ اسلامی’ تھا ۔ اس میں ملک کے نظامِ تعلیم کا بحران بھی زیر بحث آیا ، عالمی سیشن میں مختلف ممالک میں کام کرنے والی اسلامی تحریکات کے نمائندوں نے اظہارِ خیال کیا۔ کلچرل اور ادبی سیشن کا انعقاد بھی ہوا ۔ ‘ہندوستان میں عورتوں کے مسائل :اسباب اور علاج’ کے عنوان سے ایک سمپوزیم خواتین اور طالبات کے لیے خاص تھا ۔ بچوں کا تعلیمی مظاہرہ بھی ہوا ۔ ایسی رنگا رنگ کانفرنس ، جس کا فوکس ہندوستانی سماج پر تھا ، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ خمینی صاحب کی تائید کے لیے منعقد کی گئی تھی ، کتنی بڑی زیادتی ہے!
3 _ ” مجھ پر پہرے بٹھا دیے گئے۔ پہلے تو کوشش کی گئی کہ میں اسٹیج تک نہ پہنچ سکوں ۔”
اس کی حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے مقامِ کانفرنس میں پہنچنے کے بعد پہلے اپنے حمایتوں کے ذریعے پوری کوشش کی کہ انہیں بھی تقریر کرنے کا موقع دیا جائے ۔ کانفرنس کے ذمے داروں نے معذرت کی کہ تینوں دن کے تمام پروگرام پہلے سے طے شدہ ہیں ، کسی تقریر کا اضافہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ لیکن جب ان کا دباؤ اور اصرار جاری رہا تو ذمے داروں نے یہ گنجائش پیدا کی کہ کانفرنس کے دوسرے دن عصر اور مغرب کے درمیان کا وقفہ ختم کرکے اس میں ‘ ہندوستانی سماج کا بحران اور مدارسِ عربیہ’ کے عنوان سے ایک اجلاس طے کردیا اور اس میں مولانا کو خطاب کا موقع دیا ۔ مولانا دیے گئے عنوان پر کیا تقریر کرتے ، انھوں نے شیعیت اور خمینیت کے خلاف خوب دل کی بھڑاس نکالی ۔ انھیں مغرب کی اذان تک بولنے کا موقع دیا گیا اور کوئی روک ٹوک نہیں کی گئی۔
4 _ ” مولانا کا پیغام بیان کرنے کے بعد میں نے اپنی بات کہی ۔”
یہ نمازِ مغرب کے بعد کے اجلاس (جو خطابِ عام کے لیے خاص تھا) کا واقعہ ہے ۔ یہاں یہ سوال کرنے کا جی چاہتا ہے کہ مولانا سلمان صاحب کو صرف حضرت مولانا علی میاں کا پیغام پیش کرنے کا موقع دیا گیا تھا ، پھر انھوں نے بلا اجازت اپنی تقریر کیوں شروع کردی؟ جب کہ ان کی خواہش پر نمازِ مغرب سے قبل انہیں تقریر کا موقع دیا جاچکا تھا ۔ کیا وہ اپنے کسی پروگرام میں کسی شخص کو بلا اجازت تقریر کرنے کی اجازت دینے کے روادار ہوں گے؟ ایک بات یہ بھی ملحوظ رہے کہ کانفرنس کے لیے ملک و بیرون ملک سے خاصے پیغامات موصول ہوئے تھے ۔ اندرونِ ملک سے پیغام بھیجنے والوں میں مولانا محمد سالم قاسمی دیوبند ، مولانا نظام الدین قاسمی ناظم امارت شرعیہ بہار ، مولانا محمد امان اللہ قادری سجادہ نشیں خانقاہ مجیبیہ پٹنہ، جناب سید عبد اللہ بخاری شاہی امام جامع مسجد دہلی، مولانا ابو اللیث ندوی اصلاحی امیر جماعت اسلامی ہند ، مولانا وحید الدین خاں مدیر ماہ نامہ الرسالہ دہلی ، جناب سید امین الحسن رضوی ایڈیٹر انگریزی ہفت روزہ ریڈینس دہلی ، مولانا محمد فاروق خاں معروف مترجم قرآن ، جناب محمد مسلم سابق ایڈیٹر سہ روزہ دعوت دہلی ، مولانا اخلاق حسین قاسمی سابق سکریٹری جمعیۃ علماء ہند اور جناب محمد جعفر صدر ایس آئی او آف انڈیا خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں ۔ اگر یہ پیغامات لانے والے اصرار کرتے کہ پیغام پیش کرنے کے بعد انہیں بھی تقریر کا موقع دیا جائے تو کیا پروگرام کا نظم برقرار رہ سکتا تھا؟
5_ ” شیعہ نوجوان جو اس میں موجود تھے ، انہوں نے مجھ پر حملہ کیا ۔”
یہ بالکل خلافِ واقعہ بات ہے ۔ کانفرنس میں شیعہ نوجوان نہیں تھے اور نہ کسی نے مولانا پر حملہ کیا تھا۔
6_ "جو لوگ میرے ساتھ تھے دیوبند اور ندوہ کے ، ان پر حملہ ہوا ، ان کو چوٹیں بھی لگیں ۔”
یہ بھی بالکل خلافِ حقیقت بات ہے ۔ ہوا یہ تھا کہ مولانا نے حضرت مولانا علی میاں کا پیغام پڑھنے کے بعد اپنی تقریر شروع کردی ۔ ذمے دار تھوڑی دیر انتظار کرتے رہے کہ مولانا دو چار جملے بول کر خاموش ہوجائیں گے ، لیکن مولانا کا جوشِ خطابت بڑھتا گیا اور وہ ایرانی انقلاب ، امام خمینی اور شیعیت کے خلاف جارحانہ انداز میں بولتے رہے ۔ بالآخر اسٹیج کے والنٹیرس نے مائک بند کردیا اور مولانا کو ، جو ڈائس سے ہٹنے پر تیار نہ تھے ، پکڑ کر اسٹیج سے اتار دیا ۔ والنٹیرس نے مولانا کے احترام کا پورا خیال رکھا اور ان کے گرد حصار بنا لیا تھا کہ بپھرے ہوئے سامعین میں سے کوئی مولانا کے ساتھ کچھ زیادتی نہ کر بیٹھے ۔ یہ کہنا کہ مولانا کے ساتھ رہنے والوں پر حملہ کیا گیا ، جس سے انہیں چوٹیں آئیں ، بالکل خلافِ حقیقت بات ہے ۔
7_ ” وہاں سے واپسی ہوئی اور پھر ایس آئی ایم کے خلاف میں نے لکھا ، انہوں نے میرے خلاف لکھا ۔”
ایس آئی ایم کے ذمے داروں نے مولانا کے خلاف کیا لکھا؟ اس کی حقیقت بس اتنی ہے کہ کانفرنس کے بعد ذمے داروں نے حضرت مولانا علی میاں کو ایک شکایتی خط لکھا تھا کہ آپ نے جن صاحب کو اپنا نمائندہ بناکر بھیجا تھا انہوں نے کانفرنس میں یہ بدمزگی پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ البتہ مولانا نے ایس آئی ایم کے خلاف کیا کچھ کیا تھا اس کا تذکرہ بعض معتبر لوگوں نے اسی زمانے میں مجھ سے یوں کیا تھا کہ ندوہ کے جو طلبہ اس کانفرنس میں شریک ہوئے تھے ، مولانا نے ندوہ پہنچ کر ایک جلسہ منعقد کرکے ان طلبہ کو اس میں شرکت پر مجبور کیا اور ان سے اعلانِ براءت کروایا ۔ آخر میں اپنے صدارتی خطبے میں مولانا نے شیعیت اور خمینیت کے ساتھ ایس آئی ایم کے خلاف بھی اعلانِ جنگ کیا۔ اس موقع پر انھوں نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جس طرح عرب خون کے ڈول میں ہاتھ ڈال کر قسم کھایا کرتے تھے اسی طرح گویا خون میں ہاتھ ڈبو کر میں بھی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ ان لوگوں کو ختم کرکے رہوں گا۔
8_ "اسی واقعے کے بعد ایس آئی ایم کی موت ہوگئی ۔”
بہت خوب ! مولانا کا روحانی تصرّف کتنا زبردست تھا کہ ان کی ایک نگاہِ غلط نے ایس آئی ایم جیسی طلبہ کی انتہائی منظّم تحریک کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔
حقیقت یہ ہے کہ ایس آئی ایم کی سرگرمیاں اس کے بعد بھی جاری رہیں اور ملک کے ہر حصے میں طلبہ اور نوجوان اس کے تلے اسلام کی خدمت کے لیے جی جان سے لگے رہے ، یہاں تک کہ اس واقعہ کے 17 برس کے بعد 2001 میں حکومتِ ہند نے ظالمانہ طریقے سے بے بنیاد الزامات کے تحت اس پر پابندی عائد کردی ، جو اب تک برقرار ہے۔
مولانا سلمان حسینی ندوی کا علم و فضل مُسلّم ہے ۔ ان کی دینی و علمی خدمات کا بھی زمانہ معترف ہے ، لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی طرف سے جو افکار اور سرگرمیاں ظاہر ہو رہی ہیں ان کی وجہ سے ان کا وقار و اعتبار ملیامیٹ ہوگیا ہے ۔ کیا ان کے حلقۂ منتسبین میں سے کوئی نہیں جو انہیں سمجھائے ، تاکہ ان کا سابقہ اعتبار بحال ہو اور ان کا فیض حسبِ سابق عام ہو !

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*