سکھ سے سیکھ:گودی میڈیا سے مقابلے کے لیے کسان مظاہرین نے اپنا اخبار نکالاـ مسعود جاوید

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو
اکبر الہ آبادی

گودی میڈیا کی گمراہ کن رپورٹنگ، جانبداری ، حکومتی ترجمان کا کردار ادا کرنا ، نئے زرعی آرڈیننس کے حامی پینلسٹ کو مدعو کرکے ڈیبیٹ کرانا وغیرہ سے تنگ آکر کسان مظاہرین نے اپنا اخبار نکالا ” ٹرالی ٹائم”۔ اخبار کو یہ نام اس لیے دیا گیا کہ کسان مظاہرین کی اکثریت ٹرالی /ٹریکٹروں پر پنجاب سے دہلی سرحد پر آئے ہوئے ہیں۔
مظاہرین اور دیگر لوگوں کو گودی میڈیا اور سوشل میڈیا کی افواہوں کے خلاف صحیح معلومات پہنچانے کا یہ سب سے معتبر اور موثر ذریعہ ابلاغ ثابت ہوگا۔
متعدد وجوہات کی بنا پر اس ہندوستان کی کل آبادی کے دو ٢% جرأت مند قوم سے مسلمانوں کا موازنہ درست نہیں ہے۔
١- اس میں سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ١٩٨٤ سے قبل تک ہندو سماج بھی اور وہ بھی سکھ کو ہندو اکثریت کا حصہ سمجھتے تھے گرچہ قانونی طور پر وہ جین ، بودھ ، عیسائی اور مسلمانوں کی طرح اقلیت تھے۔ ان میں اور ہندو مذہب کے پیروکاروں میں ایک بہت بڑا فرق یہ بھی ہے کہ سکھ اپنے آپ کو موحد کہتے ہیں ان کے عقیدے میں شرک نہیں ہے۔ وہ کسی دیوی دیوتا کی پوجا نہیں کرتے۔ علامہ طارق عبداللہ مدظلہ العالی نے ایک ملاقات کے دوران ذکر کیا تھا کو سکھ رہنما گروگوبند جی کے اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کے نام ایک مکتوب میں انہوں نے اس کا ذکر بھی کیا ہے کہ وہ موحد ہیں ان کی قوم کے ساتھ موحدوں جیسا سلوک ہونا چاہیے۔ تاہم سواد اعظم کی نظر میں تہذیبی طور پر وہ ہندو ہیں اس لئے ان کے ساتھ ہندو غیر ہندو حساسیت کا ایسا معاملہ نہیں ہے جیسا مسلم نام مسلم تنظیم مسلم پارٹی سے الرجی کا ہے۔
٢- دوسری وجہ : منفی نہیں مثبت مفہوم میں یہ ہےکہ وہ ” موٹے دماغ” کے ہوتے ہیں۔ اسی لئے جو باتیں گرہ باندھ لیتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی طرح بال کی کھال نکالنے میں اپنی توانائی برباد نہیں کرتے رہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر کیش کچھہ کرپان کنگھا کڑا پہننا ہے تو پہننا ہے چوں چرا ، جائز ناجائز تاویل، اور سیکولرازم کا عذر ان کے پاس نہیں ہوتا۔ ٹی وی ڈیبیٹ میں حصہ نہیں لیتے۔ ان کے یہاں دقیانوسی مولوی ملا اور سیکولر لبرل روشن خیال کی تفریق اور ان کے مابین ایک دوسرے کی لعنت ملامت نہیں ہوتی۔
٣- تیسری وجہ: ان کے ہر فرد میں باہمی تعاون کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ وہ اپنے غریب افراد کو گداگری کے لئے چھوڑنے کی بجائے اس کی قابلیت کے مطابق مالی تعاون دے کر ایسے لوگوں کو کھڑا کرتے ہیں۔
٤- چوتھی وجہ: تعلیم کے ساتھ ہنر ان کے یہاں عام ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ جو زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں وہ ہنر کو بروئے کار لاتے ہوۓ ڈھنگ کی روزی روٹی کا بندوبست کر لیتے ہیں۔ لوہے اور لکڑی میں بالخصوص وہ ٹیکنیکل مائنڈ کے ہوتے ہیں۔ زراعت اور تجارت ان کے خمیر میں ہے۔
٥- بیرون ممالک دائمی یا وقتی ہجرت کا ٹرینڈ ان کے یہاں بھی ہے بس فرق یہ ہے کہ انہوں نے اپنی جانفشانی ، ایمانداری اور انسانی خدمات سے بعض یوروپین ممالک میں اپنی اچھی پہچان اور اپنا ایسا مقام بنایا ہے کہ ممبر پارلیمنٹ اور وزارت کے عہدوں پر بھی فائز ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*