سِکھ سے سیکھ! ـ مسعود جاوید

 

دنیا کے تقریباً ہر ترقی یافتہ ممالک میں تجارت و ملازمت کی غرض سے کمند ڈالنے والی اور تقریباً ہر گھر سے دو ایک جوان فوج میں خدمات دینے والی سکھ قوم کا زمین اور زراعت سے جذباتی وابستگی ہے۔ پنجاب کی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو، کھیتوں کی لہلہاتی ہریالی اور دہقانی زندگی پر بے شمار قصے کہانیاں اور گیت لکھے گئے ہیں۔ وہاں کی زرخیز زمین وہاں کی محنت کش قوم اور ان کی زمین سے بے مثال لگاؤ کے مدنظر سب سے پہلے سبز انقلاب وہیں لایا گیا۔ قحط پر قابو پانے کے لیے اور گیہوں،چاول میں خود کفیل بنانے کے لئے ساٹھ کی دہائی میں جب سبز انقلاب کا فیصلہ کیا گیا تو اس کے لئے سب سے پہلے پنجاب کا انتخاب کیا گیا۔ ملک میں گیہوں کی کل پیداوار میں ٣٨ فیصد اور چاول کی کل پیداوار میں ٢٦ فیصد محصول پنجاب کا ہوتاہے۔ اسی لئے پنجاب کو اناج کی کوٹھی اور اناج کا کٹورا کہا جاتا ہے۔

آج جب ان کی عزیز ترین زمین، اس کی زراعت اور محصول پر خطرہ منڈلا رہا ہے تو پنجاب کے کسان خواتین مرد اور بچوں کا سڑک پر اتر آنا فطری ہے۔

اس قوم کے بارے میں بطور مزاح سہی، کہا جاتا ہے کہ یہ موٹے دماغ کے ہوتے ہیں۔ہاں یہ موٹے دماغ کے ہوتے ہیں اسی لئے:

١- یہودیوں کی طرح یہ بھی بہترین تاجر ہوتے ہیں۔

١٩٨٤ سے قبل تک ایک اندازے کے مطابق دہلی میں ٦٠% تجارتی کاروبار سکھوں اور پنجابیوں کے ہاتھ میں تھا۔

٢- گداگری اس قوم میں ممنوع ہے۔ اسے روکنے کے لئے ان کے یہاں سکھ یکجہتی کے تحت باہمی تعاون کا نظام ہے۔ گداگری کی نوبت آنے سے پہلے وہ ایسے لوگوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق سرمایہ دے کر تجارت کرا دیتے ہیں۔

گداگری تو اسلام میں بھی معیوب ہے لیکن ہمارے پاس اسے روکنے کے لئے ایسا کوئی نظام نہیں ہے۔

٣- انسانی خدمت کو اس قوم نے اپنی پہچان بنا لی ہے۔ کسی ملک میں خانہ جنگی، کہیں نسلی بربریت، کہیں مذہبی فسادات یا آسمانی آفت ہو، سکھ لنگر لگا کر ان مظلوموں کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔

٤- فضول کی مذہبی بحث اور ٹی وی ڈیبیٹ میں حصہ نہیں لیتے۔ آج تک انہوں نے گرودوارہ کے اندر یا باہر یہ سوال نہیں کیا کہ سائلنسر والے پستول کے دور میں کرپان رکھنا کیوں ضروری ہے۔ ان کے یہاں کے لبرل، سیکولر اور دانشور طبقے نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کڑا، کیش، کچھہ اور کنگھا سے اپنی پہچان بنا کر رکھنا سیکولر ریاست میں ناپسند کیا جاتا ہے اس لئے یہ علامتی شعائر ختم کر دیے جائیں۔ دنیا کے کسی حصے میں وہ جائیں مذہبی شعائر نہ صرف بلا چون وچرا اپنائے رکھتے ہیں بلکہ اگر کسی ملک کے کسی اسکول کالج یا کسی اور محکمہ میں شعائر پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف متحد ہو کر قانونی لڑائی لڑ کر بحال کراتے ہیں۔ ہم ہوتے تو شاید متعدد علماے کرام اور مفتیان عظام کو سیکولرازم، مصلحت اور جدید دور کے تقاضوں کی دہائی دے کر مسئلوں پر نظر ثانی کرنے کو کہتے یا خود تاویل کر لیتے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*