صدیق کپن معاملے کی سماعت: چیف جسٹس نے اچھا کیا۔ ایم ودود ساجد

اچھا ہوا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی سہ رکنی بنچ نے کیرالہ کے ماخوذ صحافی صدیق کپن کوراحت نہیں دی۔ چیف جسٹس نے وکیل دفاع کو زیادہ سنا بھی نہیں۔ بہت مختصر سی سماعت اور کپن کے وکیل کپل سبل کے اصرار کے بعد حکومت اتر پردیش کو نوٹس جاری کردیا اور اگلی سماعت کی تاریخ 20 نومبر طے کردی۔اس تاریخ پر یوپی حکومت کو بھی موجود رہنے کو کہا گیا ہے۔
صدیق کپن دراصل کیرالہ کے ایک صحافی ہیں جو گزشتہ نو سال سے دہلی میں رہتے ہیں۔ہاتھرس میں ایک دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کے بعد اعلی ذات کے ملزموں نے اس پر اتنا تشدد کیا تھا کہ وہ دہلی میں دوران علاج دم توڑ گئی تھی۔اس کے بعد ہاتھرس انتظامیہ اور پولیس نے رات کے اندھیرے میں اس کی لاش کو چتا کے حوالہ کردیا تھا اور اس کے اہل خانہ تک کو اس کی شکل نہیں دکھائی تھی۔اس واقعہ پر پورے ملک میں بے چینی پھیلی۔ہاتھرس میں اپوزیشن پارٹیوں کا تانتا لگ گیا لیکن حکومت یوپی نے متاثرہ خاندان پر پہرہ بٹھادیا۔ایسے میں میڈیا سے وابستہ بعض لوگوں نے متاثرہ کے احوال کو عام کیا اور اس کے بعد بہت سے صحافی دور دراز کا سفر کرکے اس کے گاؤں تک پہنچنے لگے۔
انہی میں کیرالہ کے صحافی صدیق کپن بھی تھے جو 5 اکتوبر کو تین نوجوانوں کے ساتھ ہاتھرس جارہے تھے۔ان نوجوانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دہلی میں اسٹوڈنٹس ہیں اور پی ایف آئی کی طلبہ شاخ کے ذمہ دار ہیں۔ابھی یہ چاروں ہاتھرس پہنچے بھی نہیں تھے اور متھرا ٹول پلازا پر ہی تھے کہ یوپی پولیس نے انہیں متعدد سخت دفعات کے تحت گرفتار کرلیا۔ان میں UAPA کے تحت ملک سے غداری تک کی دفعات بھی شامل ہیں۔اس وقت سے کپن جیل میں ہیں اور ان کے اہل خانہ یا وکیلوں تک کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔
انڈین ایکسپریس کی 16نومبر کی اشاعت میں صدیق کپن کی پریشان حال اہلیہ ریحانہ کا انٹرویو شائع ہوا ہے۔اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے شوہر کے پاس تو ہاتھرس جانے کا کرایہ تک نہیں تھا اور وہ ان نوجوانوں کے ساتھ اسی لئے سفر کر رہے تھے کہ کار کا انتظام انہوں نے ہی کیا تھا۔وہ متاثرہ کے اہل خانہ سے مل کر اسٹوری کرنا چاہتے تھے۔ریحانہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ یہاں سے وہاں تک لوگوں سے مدد مانگتی پھر رہی ہیں لیکن ان کی کسی نے مدد نہیں کی۔
آخر لوگوں کو کیوں امید تھی کہ صدیق کپن کو سپریم کورٹ سے راحت مل جائے گی؟ کیا اس لئے کہ سپریم کورٹ نے ایک مجرمانہ معاملہ میں عدالتی حراست میں بند ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ارنب گوسوامی کو 11نومبر کو ایک غیر معمولی سماعت کے بعد(عارضی) ضمانت دیدی تھی؟ بلاشبہ امید کی بنیاد یہی تھی۔لیکن قانونی صورتحال یہ ہے کہ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی والی سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے ارنب کو جو راحت دی تھی اس کا اسے اختیار ہی نہیں تھا۔۔وہ غلط بنیادوں پر دی گئی تھی۔جسٹس چندر چوڑ نے سماعت کے دوران جو پانچ سخت تبصرے کئے تھے ان کا الگ سے جائزہ لیا جائے گا لیکن انہوں نے جو کچھ کہا تھا اس کے بعد پورے ملک میں ہزاروں نہ سہی تو سینکڑوں لوگوں کو تو راحت مل جانی چاہئے تھی۔لیکن ایسا ہوا نہیں۔جسٹس چندر چوڑ نے جو کچھ کہا تھا اس سے نہ صرف ملک بھر کی مقامی (ٹرائل) عدالتوں بلکہ خود ہائی کورٹوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوئی تھی۔لیکن اندازہ یہی ہوا کہ وہ سب کچھ محض ایک فرد (ارنب) کے لئے کہا اور کیا گیا تھااور اس کا کسی اور معاملہ پر کوئی اثر حقیقی معنوں میں پڑنے والا تھا ہی نہیں۔
میں ابھی پوری طرح صحت مند نہیں ہوا ہوں۔اس لئے آج بہت مختصر جائزہ ہی لے پاؤں گا۔ یہاں چند نکات ذہن میں رکھنے ضروری ہیں۔کسی جرم کے الزام میں تفتیش کے دوران اگر کوئی پکڑا جاتا ہے تو ضلع عدالت کو سی آر پی سی کی دفعہ 439 کے تحت ضمانت دینے کا اختیار ہے۔قانون اس انتظام کو اس لئے ترجیح دیتا ہے کہ مقدمہ سے متعلق تمام دستاویزات ضلع جج کے سامنے ہوتے ہیں۔اس لئے اسے معاملہ کی سنگینی کے تحت ضمانت پر فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔عام طوپر ہائی کورٹس بھی اسی کو ترجیح دیتی ہیں کہ ضمانت کیلئے پہلے ضلع جج سے رجوع کیا جائے۔اس کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہائی کورٹ جانے کا ہر شخص متحمل نہیں ہوسکتا۔لہذا غریبوں کے ساتھ مساوی سلوک کرنے کی غرض سے بھی یہ کیا جاتا ہے۔
ہائی کورٹ کو دفعہ 226 کے تحت اپیل سننے اور اس پر فیصلہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ارنب گوسوامی نے(خودکشی پر مجبورکرنے کے معاملہ میں ماخوذ ہونے کے بعد) اسی دفعہ کے تحت ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔اس کے نامی گرامی وکیلوں کو امید تھی کہ ہائی کورٹ فوراً ضمانت دے دیگی۔لیکن ممبئی ہائی کورٹ کے جسٹس ایس ایس شنڈے کی دو رکنی بنچ نے اس معاملہ کو چار دنوں تک بہت تفصیل کے ساتھ سنا اور آخر کار راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے ایک بہت شاندار اور دور رس فیصلہ بھی لکھا۔ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ دفعہ 439 کے تحت ضلع جج سے رجوع کریں اور ضلع جج کو پابند کردیا کہ چار دنوں کے اندر اندر ضمانت پر فیصلہ کردیا جائے۔عدالت کی یہ ہدایت بھی غیر معمولی تھی۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم ضمانت دے دیں گے تو اس سے مقامی عدالت کے اختیارات اور حوصلہ پر ضرب پڑے گی۔
واقعہ یہ ہے کہ یہی صحیح قانونی پوزیشن تھی۔لیکن جس طرح سے اگلے ہی دن سپریم کورٹ میں ارنب کے معاملہ پر ہنگامی سماعت ہوئی اور پھر راحت دی گئی اس نے بہت سے سوال کھڑے کردئے۔سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر دشینت دوے نے سپریم کورٹ کو بہت سخت خط لکھ کر ارنب گوسوامی کو خصوصی اہمیت اور رعایت دینے پر سوالات اٹھائے اور چیف جسٹس تک کی غیر جانبداری پر شبہات ظاہر کئے۔اسی دوران کامیڈین کنال کامرا نے دوانتہائی سخت قسم کے ٹویٹ کردئے جن میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ دراصل سپریم جوک (سب سے بڑا مذاق) بن گیا ہے۔انہوں نے سپریم کورٹ کی عمارت پر لگا ترنگا (کمپیوٹر کے ذریعہ)ہٹاکر بی جے پی کا جھنڈا لگادیا۔اس پر بی جے پی والے سرگرم ہوگئے اور اٹارنی جنرل نے ان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کی اجازت دیدی۔کنال کامرا نے اپنے ٹویٹ پر معافی مانگنے یا انہیں واپس لینے سے صاف انکار کردیا اور سپریم کورٹ پر مزید کئی زبانی حملے کئے۔انہوں نے جموں کشمیر‘سی اے اے اور دوسرے اسی طرح کے اشوز کو بھی اٹھادیا اور سپریم کورٹ سے کہا کہ جو سزا دینی ہو دیدو لیکن میرے معاملہ پر سنوائی کرکے وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ مذکورہ بالا اشوز پر سنوائی کی جائے۔
واقعہ یہ ہے کہ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی فعالیت اور کنال کامرا کے ٹویٹس اور بیانات نے سپریم کورٹ کے سامنے ایک بہت مشکل صورت حال پیدا کردی۔بہت سے مبصرین نے تو صاف کہا کہ کنال کامرا نے سپریم کورٹ کو پھنسادیا ہے۔لیکن میرا موقف اس سے بھی آگے تھا کہ سپریم کورٹ کو ارنب کے معاملہ میں جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کے فیصلہ اور تبصروں نے پھنسا دیا ہے۔سپریم کورٹ کو دفعہ 32 کے تحت معاملات سننے کا اختیار ہے لیکن یہ اختیارات بہت محدود ہیں۔ اس دفعہ کے تحت براہ راست سپریم کورٹ تک آنے کی حوصلہ شکنی اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہر شخص اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پھر یہی ہوگا کہ ارنب گوسوامی جیسا پھنسا ہوا شخص بھاگ کر سپریم کورٹ آجائے گا اور ضلع عدالت اور ہائی کورٹ کو عبور کرکے راحت لے جائے گا۔جبکہ صدیق کپن جیسے سینکڑوں غریب لوگ جیلوں میں سڑتے رہیں گے۔
آپ لکھ لیجئے آج نہیں تو کل سپریم کورٹ یا الہ آباد ہائی کورٹ صدیق کپن کو راحت ہی نہیں دے گا بلکہ حکومت یوپی کو سخت سست بھی سنائے گا۔لیکن آج صدیق کپن کی درخواست کامسترد ہونا ضروری تھا۔ میں جانتا ہوں کہ صدیق کپن پر یہ کھلا ظلم ہورہا ہے۔خود سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے چار ہفتوں قبل ان کی درخواست کو نہیں سنا تھا اور الہ آباد ہائی کورٹ جانے کو کہا تھا۔آج بھی انہوں نے یہی پوچھا کہ آپ الہ آباد ہائی کورٹ کیوں نہیں گئے؟کپن کے وکیل کپل سبل نے کہا کہ صدیق کپن سے نہ اس کے اہل خانہ کو ملنے دیا جارہا ہے اور نہ ہی اس کے وکیلوں کو۔ایسے میں کیسے ہائی کورٹ جائیں؟ اسی پر چیف جسٹس نے یوپی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور اب اس پر جمعہ کو سنوائی ہوگی۔
آج چیف جسٹس کی بنچ نے مہاراشٹر کے بدزبان اور شرپسند سمت ٹھکر کو بھی راحت نہیں دی اور مقامی عدالت سے رجوع کرنے کو کہا۔ سمت ٹھکر نے پے درپے کئی ٹویٹ کرکے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی بے عزتی کی تھی اور مسلمانوں کو بھی لپیٹ لیا تھا۔ اس نے اودھو ٹھاکرے کو اورنگزیب سے بھی تشبیه دی تھی۔وہ بی جے پی اور سنگھ پریوار سے خاص تعلق رکھتا ہے۔ اس کے فرقہ پرست وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے چیف جسٹس سے کہا کہ اگر آپ کو سمت ٹھکر پر عاید معاملات سے جھٹکا نہیں لگا تو پھر آپ کو کسی بھی بات سے جھٹکا نہیں لگے گا۔۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم تو جھٹکوں کے عادی ہیں ۔
مجھے اس موضوع پر اور تفصیل سے لکھنا تھا لیکن اب بیٹھنے کی سکت نہیں ہے۔لیکن اتنا جان لینا ضروری ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں جس حال کو پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اس میں ایک صدیق کپن کی مشکلات سے زیادہ ارنب گوسوامی جیسوں سے نپٹنا ضروری ہوگیا ہے۔اور اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ سپریم کورٹ وہی رویہ اختیار کرے جو اس نے آج کپن اور ٹھکر کے معاملے میں کیا۔۔۔ مجھے قانون کی جو تھوڑی بہت واقفیت ہے اس کی روشنی میں پورے وثوق سے کہہ سکتاہوں کہ آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سہ رکنی بنچ نے یہ جو کہا ہے کہ ہم آرٹیکل 32 کے تحت سپریم کورٹ آنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتے‘ یہ دراصل جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی دو رکنی بنچ کے فیصلہ پر ان کی سخت ناگواری کا ہی مظہر ہے۔ اور یہ صدیق کپن کی قیمت پر ہی سہی بہت ضروری تھا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*