جیل میں بند صحافی صدیق کپن کورونا پازیٹیو،’اسپتال میں جانوروں کی طرح باندھ کر رکھا گیا’

متھرا: ہاتھرس سانحے میں متاثرہ خاندان سے ملنے اور رپورٹنگ کے لیے کیرالا سے یوپی کا سفر کرنے والے صحافی صدیق کپن پچھلے سال اکتوبر سے ہی پابندِ سلاسل ہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ اور سیڈیشن چارج کے تحت متھرا جیل میں بند ہیں ـ کورونا پازیٹیو پائے گئے ہیں اور متھرا کے میڈیکل کالج اسپتال میں انھیں "جانوروں کی طرح پلنگ سے باندھ کر رکھا گیا ہے "ـ ان کی اہلیہ مسز ریحانہ کپن نے حالات کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور جب تک کورٹ ان کی رہائی کا فیصلہ نہیں دیتا، انھیں اسپتال سے ریلیز کرکے متھرا جیل میں ہی رکھا جائے؛ کیوں کہ اسپتال میں ان کا صحیح علاج نہیں ہو رہا ہےـ درخواست میں کہا گیا ہے کہ صدیق کپن نے مسلسل چار دن سے کچھ نہیں کھایا پیا، جس کی وجہ سے ان کی حالت نازک ہے اور اگر فوری اقدام نہ کیا گیا تو ان کی جان بھی جا سکتی ہےـ درخواست کے مطابق ‘صحیح خبر یہ ہے کہ اس وقت متھرا جیل کے پچاس قیدی کورونا کے شکار ہیں اور انھیں کئی پریشانیوں کا سامنا ہے حتی کہ انھیں بیت الخلا کا پانی پینے پر مجبور کیا گیا، جس کی وجہ سے مخلتف طبی و جسمانی پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں ‘ـ واضح رہے کہ صدیق کپن اکتوبر 2020میں اس وقت متھرا پولیس کے ذریعے گرفتار کر لیے گئے اور انھیں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ اور غداری کے الزام کے تحت جیل میں بند کردیا گیا،جب وہ ہاتھرس عصمت دری و قتل سانحے کی رپورٹنگ کے لیے جائے حادثہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہے تھےـ