شعرائے مدھوبنی کا مختصر تعارف – حسیب الرحمٰن شائق قاسمی

قسط (13)

(27) ڈاکٹر عبدالقیوم ساقی ، راج نگر

 

نام عبدالقیوم ، ساقی تخلص ، قلمی نام عبدالقیوم ساقی ، والد گرامی کا نام مرحوم محمد مسلم ۔

11/ نومبر 1960ء کو غوث نگر پوسٹ رام پٹی تھانہ راج نگر میں ان کی ولادت ہوئی ، پی۔ ایچ ۔ ڈی اور ڈی ۔ لٹ کرنے کے بعد شعبہء ملازمت سے وابستہ ہوگئے ، پہلے شعبہءاردو پی جی ڈیپارٹمنٹ متھلا یونیورسٹی کے انتظامی امور سے ، بعد ازاں یونیورسٹی ہذا ہی کے پی جی شعبہ ہندی سے منسلک رہے ۔

ساقی صاحب کو ابتدا ہی سے شعر و ادب سے شغف رہا ہے ، ان کا کلام ملک کے رسائل و جرائد کی زینت بنتا رہا ہے ، "محسن دربھنگوی: حیات اور شاعری” کے نام سے ایک تحقیقی مقالہ لکھا ، جس پر انہیں پی۔ ایچ ۔ ڈی کی سند حاصل ہوئی ۔ ان کی تصنیفات میں "گم شدہ افسانے” ، "افشائے راز” اور ایک شعری مجموعہ "نغمہءنو” شامل ہیں ، پروفیسر سید ضیاء الرحمن کی نگرانی میں سور رحیم اور اقبال کے یکساں خیالات کا تقابلی مطالعہ کے عنوان سے متھلا یونیورسٹی سے ڈی لٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ انہیں لکھنے پڑھنے سے فطری لگاؤ ہے ، مطالعہ ان کی خوراک ہے ، دربھنگہ میں مقیم ہیں اور وہاں کی ادبی تنظیموں سے جڑ کر اردو زبان و ادب کی خدمت کر رہے ہیں ۔

 

نمونۂ کلام

 

راتوں کی چاندنی میں وحشت سی لگ رہی ہے

اب آدمی کو ہم سے نفرت سی لگ رہی ہے

 

اس طرح نوچ ڈالا خود اپنا آشیانہ

بربادیوں کو ہم سے الفت سی ہو رہی ہے

 

بزم طرب بھی اپنی خاموشیوں کا مسکن

آغوش دلبری بھی تربت سے لگ رہی ہے

 

آنگن میں چاندنی کے کھڑکی کوئی کھلی ہے

وہ یاد آرہے ہیں قربت سی لگ رہی ہے

 

ساقی اس انجمن میں تیری جگہ کہاں ہے

گوشے میں تم کھڑے ہو حسرت سی لگ رہی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ذرا اپنے جنون شوق کو بیدار رہنے دو

بڑھو آگے نوشتے کو پس دیوار رہنے دو

 

ہوئی ہے پرورش اپنی سمندر کے تھپیڑوں میں

ہر اک سنگ گراں کو درپئے آزار رہنے دو

 

حریر و پرنیاں ہیں تلخیاں موج حوادث کی

جہاں اہل جہاں کو برسر پیکار رہنے دو

 

جہاں میں جو جہاں جیسا ہے سب اس کا ہے اےواعظ

مبارک زہد تجھ کو پس انہیں مےخوار رہنے دو

 

وہ ساقی ہے زمانے کا پلاتا ہے زمانے کو

ذرا ٹھہرو اسے مستی میں بھی ہوشیار رہنے دو

 

(28) حیدر وارثی ، بی بی پاکر، دربھنگہ

 

نام علاؤ الدین حیدر ، قلمی نام حیدر وارثی ، حضرت وارث علی شاہ سے رشتہء طریقت کے اظہار کے لئے ان کے خاندان کے تمام افراد اپنے نام کے ساتھ وارثی لگاتے ہیں ، والد گرامی نورالہدیٰ وارثی مرحوم ، یکم جنوری 1946ء کو پیدا ہوئے ۔ ان کا آبائی وطن اڈیرن ہاٹ رہیکا ، مدھوبنی ہے ، عرصہ دراز سے دربھنگہ میں سکونت پذیر ہیں ۔

انگریزی میں ایم اے کرنے کے بعد بی ۔ایڈ کیا بعدازاں شعبہ تدریس سے وابستہ ہو گئے ، ایس ایم ایچ ایس لہریا سرائے دربھنگہ کے پرنسپل رہے ، وہیں سے 31 دسمبر 2005ء کو سبکدوش ہوئے ۔

حدر وارثی صاحب شعروادب کا اچھا ذوق رکھتے ہیں ، ان کی تخلیقات ملک کے اخبارات و رسائل میں شائع ہوتی رہی ہیں ، مضمون نگاری سے بھی خاصی دلچسپی ہے ، مطالعے کے بے حد شوقین ہیں ، اب اردو زبان و ادب کی خدمت ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے ، دربھنگہ کی ادبی نشستوں اور مشاعروں میں پابندی سے شرکت کرتے ہیں ، ان کے کئی شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں ۔ "عکسِ جمال” (پہلا شعری مجموعہ 2002) ” قربت کی خوشبو ” (دوسرا شعری مجموعہ 2007) "ریگ زار حیات” (تیسرا شعری مجموعہ 2008) "سفر روشنی کا” (چوتھا شعری مجموعہ 2010 ) "سمندر کی آنکھ” ( پانچواں شعری مجموعہ 2012) اور "اجنبی سمتوں سے” (چھٹا شعری مجموعہ 2017) قابل ذکر ہیں ۔ شفیع مسلم ہائی اسکول لہریا سرائے دربھنگہ کا سالانہ میگزین "شفیع مجلہ”2001 میں ان کی ترتیب میں شائع ہوا، فی الحال خود نوشت سوانح حیات زیر طبع ہے ۔ اب تک کئی اعزازات و انعامات سے نوازے جا چکے ہیں جن میں بہار اردو اکادمی اور اردو اکادمی اترپردیش کی جانب سے ملنے والے ایوارڈ اہم ہیں ۔

 

ان کے ذخائر کلام میں غزل کے علاوہ حمد ، نعت ، منقبت ، شخصیات اور تہواروں پر نظمیں ہیں ، طرحی غزلیں بھی انھوں نے خوب کہی ہیں ، جن سے ان کی قادرالکلامی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ پروفیسر لطف الرحمٰن ان کے شعری مجموعہ "اجنبی راستوں سے” پر لکھتے ہیں۔

"حیدر کے یہاں اپنا ایک سلیقہ ہے ، انہوں نے تشبیہ ، استعارہ اور کبھی علامت کے ذریعے حیات و کائنات کے نازک مسئلوں کو تخلیقی سطح پر سادگی اور طرح داری کے ساتھ برتنے کی کوشش کی ہے ، اپنی ایسی کوششوں میں بسا اوقات وہ کامیاب بھی رہے ہیں”

حیدر وارثی کے اسلوب و لہجے کے تعلق سے شاہد جمیل سہسرامی بیک کور پر لکھتے ہیں کہ ان کے لہجے میں پگھلتی ہوئی شمع کی مانند شیرنی اور دھیمے پن کا سراغ ملتا ہے ؛ جبکہ انگ میں تنوع کی قمقہ سازی کی تلاش بہ آسانی کی جاسکتی ہے ، اکثر اشعار میں اچھال سے زیادہ گہرائی کو اولیت حاصل ہے جو یکسوئی تحمل اور انتہائی انہماک ساتھ مطالعے کی متقاضی ہے”

نجم الہدیٰ صاحب نے "حیدر وارثی کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ” پر تحقیقی کام کیا ہے ۔

 

نمونۂ کلام

 

تہہ دار سمندر سے ابھرا ہے کہاں کوئی

جس دھار پہ تو اترا اترا ہے کہاں کوئی

 

جو رنگ ملا تجھ کو وہ رنگ حنا کا ہے

اس رنگ حنائی میں مکھڑا ہے کہاں کوئی

 

پودا جو کبھی سوکھا ہریالا بنا ہے اب

جب تک نہ عنایت ہو نکھرا ہے کہاں کوئی

 

اوصاف سے تو اپنے تمثیل محبت ہے

اک پل جو ملا تجھ سے بچھڑا ہے کہاں کوئی

 

کوئی نہ ملا ایسا جو موڑ لے منہ اپنا

تکرار کہاں کوئی جھگڑا ہے کہاں کوئی

 

کس نے تجھے توڑا ہے کومل ہے بہت ہی تو

تو ٹوٹ گیا لیکن بکھرا ہے کہاں کوئی

 

آباد ترے دم سے حیدر ہے مرا قریہ

تو جس کو بسا لے ہے اجڑا ہے کہاں کوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

خود کو نکال لائے کبھی درمیاں سے ہم

وابستہ پھر ہوئے ہیں تیرے کارواں سے ہم

 

ساعت نشاط کی ملے ہم بے نشاط کو

مغموم کب تلک رہیں جور زماں سے ہم

 

مل جائے اب تو تازگی فصل بہار کی

مسلے ہوئے ہیں آج بھی دور زماں سے ہم

 

دامن دریدہ کیوں ہوا یوسف جمال کا

پوچھیں یہی سوال سبھی مہ وشاں سے ہم

 

پائیں ہیں رفعتیں ہمیں آکاش سے پرے

منزل کا پوچھتے ہیں پتہ کہکشاں سے ہم

 

دھجی نہیں اڑاتے غریبوں کی ہم کبھی

ملتے ہیں ان سے اس لیے دل اور جاں سے ہم

 

کون و مکاں میں وارثی پائیں گے کیا مقام

جب اٹھ کے آ گئے ہیں ترے آستاں سے ہم