شعرائے مدھوبنی کا مختصر تعارف – حسیب الرحمٰن شائق قاسمی

قسط (12)

 

(24) اختر برداہوی ، برداہا،کمتول

نسیم اختر نام ، تخلص اختر ، قلمی نام اختر برداہوی ۔والد گرامی کا نام محمد خلیل مرحوم ، والدہ محترمہ مرحومہ عائشہ ۔

1955ء کو برداہا وایا کمتول میں پیدا ہوئے ، انٹر میڈیٹ تک تعلیم حاصل کی بعد ازاں تجارت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے ۔

شعر و سخن سے خاصی دل چسپی ہے ، استاذ الشعراء جناب رہبر چندن پٹوی سے شرف تلمذ حاصل ہے ۔ نرسری روڈ کرم گنج لہریا سرائے دربھنگہ میں مقیم ہیں اور وہاں کی ادبی فضا میں اپنے شعری ذوق کی آبیاری کر رہے ہیں ، ردبھنگہ کی موجودہ فعال اور متحرک ادبی انجمن "بزم رہبر” سے جڑے ہیں اور اس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی شعری نشستوں میں پابندی سے شریک ہوتے ہیں ، ان کے اشعار میں دیہی جمالیات کے عناصر پائے جاتے ہیں ، خود دار ، نیک طینت اور سادہ مزاج واقع ہوئے ہیں ، کسی صلہ اور ستائش کی تمنا کے بغیر اردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں ، ان کا کوئی شعری مجموعہ اب تک منظر عام پر نہیں آیا ہے ، اس طرف بھی انہیں توجہ دینی چاہیے ۔

نمونۂ کلام

ملیں گے مزے جھونپڑی میں محل کے

ہیں کیچڑ میں ہی پھول کھلتے کنول کے

 

ہو مطلوب گر آسماں کی بلندی

تورکھو زمیں پر قدم تم سنبھل کے

 

کھلی نہ ابھی تک میرے دل کی کلیاں

رہے دل کے ارمان دل میں مچل کے

 

سسکتی رہی زندگی جس کی خاطر

وہ جاتا رہا اپنی آنکھیں بدل کے

 

جہالت کے اصنام بیٹھے ہیں دل میں

نکالو محمد کی سنت پہ چل کے

 

ہوا گرم ہے شہر میں اب بھی اختر

ہے مرنا اسی کافر جاں گسل کے

 

دلوں پر راج کرتے ہیں دل آزاری نہیں کرتے

یہی وصف مسلماں ہے جہاں داری نہیں کرتے

 

ازل سے ایک جیسا ہے ہمارا ظاہر و باطن

جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں عیاری نہیں کرتے

 

مدد مظلوم کی کرنا ہماری عین فطرت ہے

کسی ظالم کی ہم لیکن طرفداری نہیں کرتے

 

وطن کی مانگ صندل کی جگہ خوں سے بھری اپنے

وطن پر جان ہم دیتے ہیں غداری نہیں کرتے

 

ہمارے زخم پر جو آج مرہم رکھنے آئے ہیں

سیاسی لوگ ہیں یہ ہم سے دل داری نہیں کرتے

 

سبب کچھ بھی نہیں اس کے سوا امراء کی آنکھوں میں

ہیں کاٹا اس لیے اختر کہ درباری نہیں کرتے

 

(25) گلشاد قاسمی ، گنگولی ، مدھوبنی

نام محمد گلشاد ، تخلص گلشاد ، قلمی نام گلشاد قاسمی ، والد محترم کا نام جناب عبدالشکور ۔

1987ء کو گنگولی میں پیدا ہوئے ، ابتدائی تعلیم مدرسہ شیخ الاسلام شیخوپور اعظم گڑھ یوپی میں ہوئی بعد ازاں دیوبند کا رخ کیا اور دارالعلوم دیوبند سے عالمیت اور فضیلت کی سند حاصل کی ۔

گلشاد قاسمی نے 2010ء سے اپنے شعری سفر کا آغاز کیا ، ڈاکٹر افضل حسین قاسمی سے کلام پر اصلاح لیتے ہیں ، طبیعت میں موزونیت ہے ، حالات پر گہری نظر ہے ، جو دیکھتے ہیں ، محسوس کرتے ہیں ، اس کو شعری قالب میں ڈھال دیتے ہیں ، ان کے کلام میں جدید شعری حسیت ، جدید پیرایہءاظہار کے ساتھ نظر آتی ہے ۔ حمد ، نعت ، غزل اور مرثیہ جیسی اصناف سخن پر طبع آزمائی کرتے ہیں ؛ لیکن نعتیہ شاعری سے فطری لگاؤ ہے ۔ ان کا ایک مجموعہءکلام "روح کی آواز” (نعتیہ شعری مجموعہ) قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون سے منظر عام پر آ چکا ہے ، اس کتاب میں "زبانِ حق ترجمان شاعر : گلشاد قاسمی” عنوان کے تحت ہندوستان کے مشہور مداح خیر الانام قاری جمشید جوہر نے ان کے حوالے سے لکھا ہے "گلشاد قاسمی کے کلام میں گہرائی و گیرائی محسوس ہوتی ہے جب وہ شعر کہتے ہیں تو ایسا لگتا ہے گویا دودھ کی دھلی زبان استعمال کر رہے ہیں یقینا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انھیں اس فن میں ید طولیٰ حاصل ہے چنانچہ غزل گوئی کا میدان ہو یا شاعری کا قصیدہ گوئی کا موقع ہو یا مرثیہ نگاری کا ہر ایک جولان گاہ میں گلشاد قاسمی کا گھوڑا سر پٹ دوڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے میری نظر میں گلشاد قاسمی صاحب ایک قادر الکلام فنکار ہیں جو بلاتکلف کسی بھی صنف میں طبع آزمائی کر سکتے ہیں”

(روح کی آواز، ص:٧۔٨)

گلشاد قاسمی کا دوسرا شعری مجموعہ "قافلے درد کے” (غزلوں کا مجموعہ) زیر طبع ہے ، بہت جلد آپ کے ہاتھوں میں ہوگا ۔ ان کی غزلوں میں جابجا موجودہ کرب زدہ حالات اور روح فرسا عصری منظرنامے کی عکاسی ہے ، ان کی دو غزلیں ملاحظہ فرمائیں ۔

نمونۂ کلام

یوں ہی نہیں لگاتے ہیں بستر یہاں وہاں

لے جا رہا ہے ہم کو مقدر یہاں وہاں

 

بہتر ہے تم اتار دو شیشے کا یہ لباس

اس شہر میں برستے ہیں پتھر یہاں وہاں

 

کیوں پوچھتے ہو مجھ سے میرا مستقل پتا

بدحال لوگ رہتے ہیں اکثر یہاں وہاں

 

پیاسے ہو علم کے تو چلے آؤ میرے پاس

جاتا نہیں کبھی بھی سمندر یہاں وہاں

 

یہ اولیائے دیں کی نگاہوں کا ہے کمال

گوشے ہیں جو زمیں کے منور یہاں وہاں

 

یہ جلتی بستیاں یہ غریبوں کی سسکیاں

برپا کیا ہے کس نے یہ محشر یہاں وہاں

 

گلشاد آج سارے نکمے مزے میں ہیں

لیکن بھٹک رہے ہیں سخنور یہاں وہاں

 

یہ گاؤں آج تلک کس لیے بہاؤ میں ہے

جواب اس کا فقط باندھ کے کٹاؤ میں ہے

 

یہ بندشیں یہ کرونا یہ تیرتی لاشیں

ہمارے ملک کی جنتا بہت تناؤ میں ہے

 

گواہ یونہی بدلتا نہیں بیاں اپنا

ضرور یہ کسی جلاد کے دباؤ میں ہے

 

میں خاک فکروں خوفناک موجوں کی

جب اختلاف کا طوفاں میری ناؤں میں ہے

 

جو ہیں کپوت وہی دیش کی کریں سیوا

ہر اک سپوت ابھی منہمک چناؤ میں ہے

 

وہ رزم گاہ میں اقدام کر نہیں سکتا

جو سوچتا ہو میری خیریت بچاؤ میں ہے

 

ٹھہر رہے ہیں وہیں قافلے بلاؤں کے

حیات حضرت گلشاد جس پڑاؤ میں ہے

 

(26) نعمت اللہ نعمت ، بڑہارا

 

نام محمد نعمت اللہ ، تخلص نعمت ، والد محترم کا نام جناب محمد ارشاد انصاری ۔ 16 جنوری 1986ء کو بڑہارا بابوبرہی میں ان کی ولادت ہوئی ، مکتبی تعلیم گاؤں ہی میں حاصل کی ۔ پھر بی۔اے اور بی۔ایڈ کر چکنے کے بعد ایم۔ اے (اردو) کیا ۔

تحصیل علوم کے بعد درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے ، فی الحال ایک اسکول میں استاد کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

 

2014ء سے انھوں نے شعر کہنا شروع کیا ، ابتدا میں مشق سخن کے لیے حسن و عشق ، لب و رخسار اور کاکل و گیسو جیسے روایتی موضوعات کا انتخاب کیا ؛ لیکن اب ان کے یہاں موضوعات کا تنوع ملتا ہے، رشتہ داروں کی بے رخی ، اپنوں کی بے وفائی اور حالات کی سختی نے اتنا کچھ سکھا دیا کہ اب ان کی شاعری نے رنگ جمانا شروع کر دیا ہے ، مشاقی و مشاطگی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں ؛ اس لیے ان کے کلام میں نکھار اور سدھار واضح طور پر نظر آتا ہے ۔

انہیں شعروسخن فطری لگاؤ ہے ، بے پناہ محبت ہے ؛ اسی لیے مدہوبنی کے ایک دور افتادہ چھوٹے سے قصبے میں رہ کر بھی شعر و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں ، ان کا کلام گاہے ماہے اخبارات و رسائل کی زینت بنتا رہتا ہے ، ان کا پہلا شعری مجموعہ "گوہر نعمت” زیر ترتیب ہے ۔

نمونۂ کلام

میں سبھی کے واسطے اک گوہر نایاب تھا

اس جہاں میں جب تلک میں صاحب اسباب تھا

 

ایسے لہجے میں وہ کرتا تھا ہمیشہ گفتگو

شعلۂ جوالہ تھا یا قطرۂ تیزاب تھا

 

عزت و ذلت کا مالک ہے میرا پروردگار

زندگی کا لمحہ لمحہ کس قدر شاداب تھا

 

جی رہا تھا خوش گمانی کی ردا میں اوڑھ کر

میری خوش فہمی تھی شاید میرا تشنہ خواب تھا

 

ایک عرصہ بعد ساحل پر جو ہم سے ملے

ان کی آنکھوں میں سمندر کی طرف بس آب تھا

 

آشنا کل تک نہ تھے ہم بھی رموز عشق سے

گو ہمارے کورس میں شامل وفا کا باب تھا

 

ان کی آمد کی خبر سنتے ہی نعمت کا یہاں

کیا بتائیں کس قدر قلب و جگر بے تاب تھا

 

بے تکلف عشق میں حد سے گزرنا ہے ہمیں

آپ کی یادیں لئے دل میں سنورنا ہے ہمیں

 

گیسوئے خم دار اور دلکش ادائیں دیکھ کر

جان و دل سب کچھ نچھاور آج کرنا ہے ہمیں

 

مدتوں کے بعد ہمدم بس تمہارے روبرو

مست آنکھوں کے سمندر میں اتر نا ہے ہمیں

 

آج اس کی مد بھری نظروں کو جیسے دیکھ کر

دوستو لگتا لکھا قسمت میں گرنا ہے ہمیں

 

اس قدر حسرت بھری نظروں سے یوں مت دیکھیے

بس تمہارے شہر میں ایک شب ٹھہرنا ہے ہمیں

 

داستان عشق لکھ کر دوستوں کے سامنے

ایسا لگتا ٹوٹ کر ایک دن بکھرنا ہے ہمیں

 

آپ نعمت کے لیے ہرگز نہ زحمت کیجیے

مسکراتے ہر کٹھن رہ سے گزرنا ہے ہمیں