شموئل احمد کا تازہ ناول چمرا سر-وسیم احمد فدا

شموئل احمد معاصر اردو فکش کا ایک معروف اور معتبر نام ہے۔ عام طور پر ان کے ناول اور افسانے ہمیں فرد کی داخلیت، درون ذات انسانی جذبوں کی شکست و ریخت اور کرداروں کی نفسیاتی کشمکش سے رو برو کراتے ہیں، تاہم حالات حاضرہ کی نازکی، فرد اور معاشرے کے اجتماعی مسائل، انسانی قدروں کی پامالی اور سماج و سیاست پر بھی ان کا قلم یکساں روانگی اور چابکدستی سے چلتا ہے ۔ ان کے پچھلے ناول "ندی” اور "گرداب” جو میں نے پڑھے ہیں، وہ کرداروں کی داخلیت سے کلام کرتے ہیں۔ خصوصاً عورت کی نفسیات اور sexual approach ان ناولوں کی basic theme ہیں۔لیکن ” چمراسُر ” کئی معنوں میں ان کے سابقہ ناولوں سے مختلف ہے۔اس ناول کے ذریعے مصنف نے ہندوستان کے روایتی طبقاتی تفاوت اور موجودہ سیاست کے حوالے سے رونما ہونے والے کئی بڑے اور اہم واقعات کو راست اور علامتی دونوں پیرایۂ اظہار کے توسط سے فکشن کے فریم میں فٹ کیا ہے۔
ان کی تحریر کی جو امتیازی خصوصیات ہیں جیسے سہل نگاری، نثر کی روانی ، جملوں کا اختصار ، بیانیہ کی بے ساختگی اور مکالموں کا راست اور بر محل درو بست۔ وہ اس ناول میں بھی اسی طرح دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن کہیں کہیں پروف ریڈنگ کی اغلاط یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس کی اشاعت میں عجلت سے کام لیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے ہی صفحے پر "ایل ای ڈی” بلب کو ” ای ال ڈی” لکھا گیا ہے۔۔۔۔۔ لفظ ” ویڈیو” کو ہر جگہ ” وی ڈی او ” لکھا گیا ہے گویا یہ کئی الفاظ کا مخفف ہو جبکہ یہ (لفظ ویڈیو) لفظ واحد کے طور پر رائج اور مستعمل ہے اور بھی کئی مقامات پر پروف کے مسائل ہیں کتاب میں ایسے ٹائپو مجھ ایسے قاری کی حس نازک پر گراں گزرتے ہیں!
شموئل صاحب کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ بظاہر سادہ نظر آنے والے موضوعات کو بھی اپنی فکر کی نئی جہات عطا کر متنوع بنا دیتے ہیں ـ ان کے یہاں طویل اور گنجلک فلسفیانہ بیان نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ،سادہ مگر پُر معنی تخلیقی جملوں سے عمیق اور دلچسپ نظریات اور زندگی کے تئیں فلسفوں کو بڑی آسانی سے بیان کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند جملے ملاحظہ کریں۔
” بوڑھے کے پاس مستقبل نہیں ہوتا ، پاس بیٹھ جاؤ تو ماضی کے قصے سنائے گا ”
” یہ پانی میں پیتل کا مگرمچھ چھوڑنے آئی تھی ”
” دیوار پر وقت کی تحریر تھی کہ گائے سے دور رہو ورنہ۔۔۔”
اس طرح کے بے ساختہ اور پر معانی مکالمے اور جملے قاری کے فکری دروازے پر الگ ہی نوع کی دستک دیتے ہیں !!!
ناول کا مرکزی کردار چمراسر بظاہر کہانی کا ایک دلت کردار ہے مگر صدیوں سے چلے آ رہے طبقاتی نظام کے خلاف بغاوت کا ایک روشن استعارہ بن کر ابھرتا ہے۔
ہندو دیومالا اور مشہور اساطیری کرداروں "سُر (دیوتاؤں)” اور ” اسُر (راکچھسوں) ” کی تمثیل سے جنم لینے والے اس ناول میں کئی حقیقی کرداروں اور سانحات کو ناول نگار نے کمال ہنرمندی سے تیز رفتار واقعاتی تسلسل کے ساتھ مربوط کیا ہے- !
آریاؤں کی ہندوستان آمد کو اسر جاتی کے لئے شودر/دلت بننے کی وجہ بتانا یا اسی طرح ناول میں بیان کردہ اور بھی کئی باتیں تاریخی اور ہندو وید پرانوں کے حوالے سے کہاں تک درست ہیں یہ کہنا ذرا مشکل ہے۔ یوں بھی اس طرح کے بیانیے میں mythes (روایات) اور حقائق کے مابین تفریق کرنا کئی بار فکشن نگار کے لئے چیلنجنگ ہو جاتا ہے ۔۔۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ مسلّم ہے کہ شموئل صاحب کا قلم ناہموار اور دشوار گزار راستوں پر بھی برق رفتاری کے ساتھ دوڑنے کا ہنر جانتا ہے۔ اس خیال کی تصدیق ان کے کئی افسانوں "ریپ سنسکرتی” "چنوا کا حلالہ” "سنگھاردان” اور "لو جہاد” وغیرہ کی پڑھت سے بھی ہو جاتی ہے۔ !
لو جہاد سے یاد آیا۔ اس ناول میں مصنف نے اپنے ایک سابق افسانہ ” لو جہاد ” کو بھی کمال مشاقی سے اس ناول کے ڈسکورس کا حصہ بنا دیا ہے، جہاں ان کے اصل افسانہ لو جہاد کا اختتام ہوتا ہے وہاں سے آگے ” لو جہاد ” کے دونوں کلیدی کردار ناول "چمراسر” کے معاون اور ضمنی کردار کے روپ میں آخر تک ناول کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ ناول میں اپنے کسی الگ اور مستقل افسانے کو اس طرح واقعاتی تسلسل کے ساتھ مربوط کر دینے کی یہ تکنیک کم از کم میری ناقص معلومات کے لحاظ سے تو بالکل انوکھی اور دلچسپ ہے۔
اس ناول کے توسط سے فاضل مصنف نے حالات کی مکروہ صورت دکھا کر ڈرایا نہیں بلکہ اپنے زندہ کردار چمراسر کے ذریعے سماجی نابرابری، ظلم، تشدد اور طبقاتی تنفروتعصب کی اس گھٹن کے خلاف حکمت عملی کے لئے قاری کی ذہن سازی کا کام سر انجام دیا ہے۔
شموئل صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس عمدہ ناول کی قرات کو ممکن بنانے کے لئے ان کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔!!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*