شعبۂ قانون کے پروفیسر ظہیرالدین اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر مقرر

علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کی فیکلٹی آف لاء کے سابق ڈین اور شعبۂ قانون کے موجودہ چیئرمین پروفیسر ظہیر الدین کو اے ایم یو کا پرووائس چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے ان کی تقرری ان کی معمول کی ذمہ داریوں کے ساتھ تا حکم ثانی کی ہے۔ وہ اے ایم یو کے چوبیسویں پرو وائس چانسلر ہیں۔ پروفیسر ظہیرالدین کا تدریس و تحقیق کا تجربہ تیس برسوں پر محیط ہے۔ ان کے اختصاص کا میدان لیبر لاء، کمرشیل لاء، ایڈمنسٹریٹیو لاء، ٹرانسفر آف پراپرٹی لاء اور ضابطۂ دیوانی ہے۔ انھوں نے تین کتابیں اور تقریباً دو درجن تحقیقی مضامین تحریر کئے ہیں۔ حال ہی میں انھیں بھائی گروداس کالج آف لاء، سنگرور، پنجاب کا پروفیسر-پرنسپل اور 2004 میں راجستھان جوڈیشیل سروسیز کا ممتحن مقرر کیا گیا تھا۔ وہ محمد علی جوہر یونیورسٹی، رامپور کے شعبۂ قانون کے بورڈ آف اسٹڈیز کے بھی مستقل ممبرہیں۔ تعلیمی تجربہ کے ساتھ پروفیسر ظہیر الدین اے ایم یو کی کارپوریٹ زندگی میں بھی سرگرم ہیں ۔ وہ اے ایم یو طلبہ یونین کے انتخابات میں چیف الیکشن افسر اور اے ایم یو ایکزیکیٹیو کونسل ، اکیڈمک کونسل اور یونیورسٹی کورٹ کے رکن رہے ہیں۔وہ دو سال آفتاب ہال کے پرووسٹ اور مختلف اقامتی ہالوں کے وارڈن رہے۔ وہ دو سال این آر ایس سی ہال کے بھی وارڈن رہ چکے ہیں۔ پروفیسرظہیرالدین نے چالیس سے زائد تحقیقی مقالوں کی رہنمائی کی ہے ۔ ان کی نگرانی میں 6پی ایچ ڈی ایوارڈ کی گئی ہے اور 8طلبہ فی الحال ان کی زیر نگرانی ریسرچ کررہے ہیں جن میں دو غیرملکی ریسرچ اسکالر شامل ہیں۔ انھوں نے درجنوں کانفرنسوں اور سیمیناروں میں مقالات اور کلیدی خطبات پیش کئے ہیں۔ رلیجن اینڈ لاء ریویو، سول اینڈ ملٹری لاء جرنل، جرنل آف لیبر لیجسلیشن، انڈین بار ریویو، کلچرسوسائٹی اینڈ لاء، ڈیلیجریٹیو ریسرچ، علی گڑھ لاء جرنل جیسے علمی رسائل میں ان کے تحقیقی مضامین شائع ہوچکے ہیں۔پروفیسرظہیرالدین نے 1980 میں اے ایم یو سے ایل ایل بی اور 1983میں ایل ایل ایم کیا۔ پی ایچ ڈی کے ان کے مقالے کا موضوع تھا: ورکرز: ایکسپلائٹیشن اینڈ لیگل سیف گارڈز۔ انھوں نے 1988میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ اس سے قبل 1976 میں انھوں نے آگرہ یونیورسٹی سے بی ایس سی اور یوپی بورڈ سے 1974 میں انٹر میڈیٹ اور 1972میں ہائی اسکول کیا۔