شعبۂ اردو نیوکالج،چنئی کے زیر اہتمام اردو کی قدر آور شخصیات کی رحلت پر تعزیتی نشست کا انعقاد

چنئی:(ساجدحسین ندوی)چنئی کی مشہور ومعروف دانش گاہ نیوکالج کے شعبہ اردو میں 5فروری2021 بروز جمعہ کو سابق صدر شعبہ عربی فارسی و اردو پروفیسر سید سجاد حسین کی صدارت میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں اردو کے عظیم نقاد شمس الرحمان فاروقی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق صدرشعبہ اردو پروفیسر ظفر احمد صدیقی، تمل ناڈو میں سرکاری سطح پر اردوکو بحال کرنے اور تمل ناڈو اردو اکیڈمی کو دوبارہ فعال بنانے کی انتھک کوشش کرنے والے خادم اردو جناب ملک العزیز کاتب اور اردو کے مشہور و معروف استاد شاعر رحمان جامی حیدرآباد کو شعبہ اردو نیوکالج کی طرف خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کی گئیں۔
تعزیتی نشست کا آغاز شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر سید شبیر حسین کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ صدر شعبہ اردو ڈاکٹر طیب خرادی نے نظامت کے فرائض انجام دیا۔ انہوں نے اپنے تعارفی کلمات میں فرمایا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ’’مرنے والوں کی خوبیوں کو بیان کرو‘‘ اسی پر عمل کرتے شعبہ اردو نیوکالج نے اردو کے قدر آور شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کی خوبیوں و خدمات کو بیان کرنے لیے اس تعزیتی نشست کاانعقاد کیا ہے۔ ڈاکٹر طیب خرادی نے شمس الرحمان فاروقی کے بارے میں کہا کہ وہ اردو کے عظیم ناقد تھے۔ فاروقی صاحب نے صرف اردو تنقید کو جدیدیت سے ہم آہنگ کیا بلکہ اردو کے فن پاروں کا تنقیدی تجزیہ کرتے ہوئے مغربی تنقید پر بھی کھل کر گفتگو کی ہے اوردلائل کے ساتھ مغربی ناقدین پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ انہوں نے اردو کے لیے جو خدمات انجام دی ہے اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ایسی شخصیتیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔انہوں نے پروفیسر ظفر احمد صدیقی پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا شمار اعلی پائے کے محققین میں ہوتا ہے۔ وہ تقریباً 40 سال تک درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے اور بطور استاذ ان کی اعلی خدمات کا ہر سطح پر اعتراف کیا جاتا ہے۔ تحقیق سے خاص دلچسپی کے تحت وہ طویل عرصہ سے اردو اور فارسی کے شعراء و ادباء پر تحقیقی کام انجام دیتے رہے۔ ملک العزیز کاتب کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اردو کے مجاہد تھے۔انہوں نے تمل ناڈو میں اسکولی سطح پر اقلیتی زبانوں خاص طور پر اردو کو بحال کرنے کی بڑی کوشش کی اور مسلسل اس کے لیے لڑائی لڑتے رہے، اسی طرح انہوں نے تمل ناڈو اردو اکیڈمی پھر سے فعال بنانے کے لیے حکومتی سطح پر اعلٰی عہدہ داروں سے ملاقات کرتے رہے۔شعبہ اردو کی خدمات و کارکردگیوں کے معترف تھے. ریاست تمل ناڈو کبھی بھی ان کی اردو خدمات کو فراموش نہیں کرپائے گی۔ اسی طرح جناب رحمان جامی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اردو کے معروف شاعرتھے، ان کی شاعری میں اقبال کی چھاپ موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ رحمان جامی میری شادی کی تہنیتی نظم بھی لکھی تھی۔ شعبہ اردو ان تمام قدرآور شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین
اس تعزیتی نشست کے صدر استاذ الاساتذہ فخرِ جنوب پروفیسر سید سجا د حسین صاحب شمس الرحمان فاروقی صاحب پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ فاروقی ایک فرد واحد کا نام نہیں بلکہ وہ ایک نجمن تھے۔ ایک دبستان علم وادب تھے۔ آپ اردو کے پروفیسر نہیں تھے لیکن ان کی تصنیفات سے مستفید ہوکر ہزاروں لوگ پروفیسر بنے۔ انہوں کہا کہ فاروقی صاحب سے ہماری پہلی ملاقات بنارس ہندو یونیورسٹی میں 1979میں ہوئی جب میں لکچررشپ کے لیے بنارس ہندو یونیورسٹی میں انٹرویو کے لیے حاضر ہوا تھا اس وقت وہ سلیکشن کمیٹی کے ممبر تھے۔ حسن اتفاق اسی وقت ظفر احمد صدیقی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی وہ بھی وہاں انٹرویو کے لیے حاضر تھے اور ان کا سلیکشن بھی ہوگیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمس الرحمان فاروقی صاحب کئی اعتبار سے منفرد تھے۔کیوں کہ انھوں نے لغات سے معانی ومفاہیم اخذ کرکے اپنی تنقید کو ثروت مند کیا، ایسی مثال کسی اور ناقد کے یہاں نظر نہیں آتی ہے۔انہوں نے ظفر احمد صدیقی کے بار ے میں فرمایا کہ وہ علم کے سمندر تھے۔ تحقیق وجستجومیں انہوں نے بے شمار کارنامہ انجام دیا ہے۔ شمس الرحمان فاروقی صاحب سے گہرے مراسم تھے، یہی وجہ تھی کہ جس پروگرام میں فاروقی صاحب ہوتے اس میں ظفر احمد صدیقی صاحب ضروری ہوتے۔مدراس یونیورسٹی کے کئی سمیناروں ان کی شرکت ہوئی۔
انہوں نے ملک العزیز کاتب پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ یقینا وہ مجاہد اردو تھے۔وہ میرے کافی قریبی، روزانہ بلا ناغہ وہ مجھ سے فون پر گفتگو کرتے بلکہ انتقال سے ایک روز قبل بھی ان سے گفتگو ہوئی کیا معلوم تھا کہ یہ آخری گفتگو ہے۔ انہوں نے اردو کے لیے بڑی قربانیاں دی ہے اور اردو اکیڈمی کے لیے ہمیشہ کوشش کرتے رہے۔ آج وہ ہمارے بیچ نہیں رہے لیکن ان کے عزائم ہمارے ساتھ ہیں ان شاء اللہ انہوں نے جو خواب دیکھا تھا وہ ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔ رحمن جامی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان سے ہماری ملاقات نہیں ہوئی البتہ ان کی شاعری پڑھنے کا موقع ملا۔ ان کی شاعری بڑی گہرائی پائی جاتی ہے۔
شعبہ اردو نیو کالج چینئی اسلاف کی پاسداری اور روایات کی نگہبانی کرتے ہوئے ان مرحومین کی خدمات کو بہترین خراج عقیدت پیش کیا ہے. ہمیں صدر شعبہ اردو و اساتذہ سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں، الحمدللہ بہت جلد یہاں پر تحقیقی کام بھی شروع ہوگا۔اس تعزیتی نشست میں اسسٹنٹ پروفیسر ساجد حسین و سید باقر عباس اور خالق احمد وغیرہ احباب نے شرکت فرمائی۔ اخیر میں اسسٹنٹ پروفیسر غیاث احمد کی دعائیہ کلمات پر یہ تعزیتی نشست کا اختتام پذیر ہوا۔