شعبۂ اردو ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے زیر اہتمام سہ روزہ کثیرلسانی بین الاقوامی ویبینارکا افتتاح

میرٹھ:’’کورونا وائرس جیسے خطرناک اور المیاتی ماحول میں آج کا یہ کثیر لسانی ویبنار وقت کی ضرورت ہے ، جب ہم کورونا وائرس کے ماحول سے باہر آئیں گے تو کافی تبدیلیاں ہمارے سامنے ہونگی۔ ‘‘یہ الفاظ تھے پروفیسر ارتضیٰ کریم کے تھے، جو شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ کے بین الاقوامی ویبنار’’سماجی تغیرات کے اردو زبان و ادب پر اثرات‘‘ عنوان سے منعقدہ سہ روزہ کثیر لسانی عالمی ویبنار (اردو ، ہندی ،انگریزی، سنسکرت اور فارسی) کے افتتاحی اجلاس کا صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے عہد حاضر کے بدلتے حالات و ماحول میںزبان و ادب پر پڑنے والے اثرات کو تفصیل سے واضح کرتے ہوئے سماج و ماحول کے پس منظر پر روشنی ڈالی۔
پروگرام میں مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹرشیخ عقیل احمد(ڈائریکٹر این سی پی یو ایل منسٹری آف ایچ آرڈی حکومت ہند) محترم، وی این رائے(سابق شیخ الجامعہ، مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہند یونیورسٹی، وردھا)شریک ہوئے، اور مہمانان ذی وقار کے بطور محترم عارف نقوی (صدر، اردو انجمن برلن، جرمنی) اور پروفیسر وائی سنگھ (ڈین فیکلٹی آف آرٹس،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ)شریک ہوئے، نظامت کے فرائض صدر شعبہء اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے بحسن و خوبی عطا کئے۔
اس سے قبل پروگرام کا آغاز پروفیسر اسلم جمشید پوری (صدر شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ) نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں پروفیسر اسلم جمشیدپوری نے مہمانان کا استقبال اور پروگرام کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شعبہء اردو کے لئے آج کا یہ سہ روزہ کثیر لسانی ویبنار آج کے مسائل سے پُر ماحول میں ایک تاریخی ویبنار ہوگا۔ آج ہندی، اردو، انگریزی، فارسی اور سنسکرت کے بڑے دانشور ہمارے اس بین الاقوامی ویبنار میں شریک ہیں۔ اس سہ روزہ کثیر لسانی ویبنار میں موجودہ سماجی تغیرات کے اردو زبان و ادب پر اثرات پر تفصیلی گفتگو ہوگی اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عہد حاضر میں تغیرات کی شدت نے سماج کی ہر ایک شہ کو متاثر کیا ہے۔
مہمان خصوصی شیخ عقیل احمد نے اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک ادیب بھی ایک طبقہ اور معاشرہ کے درمیان رہتا ہے۔ وہ جیسا ماحول دیکھتا ہے اسی کو اپنی تخلیقات میں پیش کرتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ صرف جدید ٹیکنالوجی پر ہی پورا فوکس نہ کیا جائے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اخلاقیات ، تعلیم و تہذیب کو بھی برقرار رکھا جائے۔ محترم وی این رانے نے سماجی تغیرات کے سماج پر اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سماج پر پڑنے والا یہ ایک اہم اور مشکل وقت ہے ، اور وقت کا سماجی تبدیلیوںپر اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پروفیسریوسف عامر نے اردو زبان و ادب پر پڑنے والے اثرات پر تفصیلی گفتگو پیش کی اور بتایا کہ ادب فکری طور پر ایک ایسا آئینہ ہے جس سے ادیب کے فکری تخیلات دکھائی دیتے ہیں۔ ادب میں نئے الفاظ کا استعمال ہونے لگا ہے ایسے نازک دور میں ایک ادیب کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔
مہمانان ذی وقار میں محترم عارف نقوی نے ویبنار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج اس ماحول میں اچھی اچھی تخلیقات منظر عام پر آرہی ہیں ہم سماجی تبدیلوں کو معاشی اور سیاسی تبدیلوں سے الگ نہیں کر سکتے۔پروفیسر وائی سنگھ (ڈین فیکلٹی آف آرٹس،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ) نے کہا کہ سماج کی ہر شہء پر بدلتے وقت کے اثرات دکھائی دے رہے ہیں ایسے نازک حالات میں ہمیں وقت کے ساتھ ساتھ چلنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔
صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے نائب شیخ الجامعہ (چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ) پروفیسر وائی وملا نے کہا کہ آج حالات سے ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے اور وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلم صاحب نے جو یہ کارواں چلایا ہے مجھے اُمید ہے کہ اس کارواں کے ذریعہ کئی دوسرے کارواں چل پڑیں گے۔
افتتاحی اجلاس کے بعد ہندی کا سیشن کا میابی کے ساتھ آگے بڑھا اس ہندی سیشن کی مجلس صدارت میں پروفیسر وائی وملا(نائب شیخ الجامعہ ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ) اور صدر شعبہء ہندی پروفیسر نوین چند لوہانی شریک رہے۔ اس سیشن میں پانچ مقالہ نگاروں نے ہندی رسرچ پیپرس پیش کئے ڈاکٹر پرگیہ پاٹھک(ایسو سی ایٹ پروفیسر ،این اے ایس کالج، میرٹھ)نے بعنوان ’’بھاشا اور ساہتیہ کا عہد حاضر میں بدلتا روپ ‘‘پیش کیا ۔محترم جے نندن(جمشیدپور) نے اپنا مقالہ بعنوان’’سوچنا تکنیک کے وسفوٹ اور بھومنڈلی کرن کے دور میں لکھی جارہی کہانی اور ہماری بول چال‘‘پیش کیا۔ڈاکٹرروپا سنگھ(ایسو سی ایٹ پروفیسر، بابو شوبھا رام آرٹ کالج آف الور)نے ’’نسوانی بھاشا کی تلاش‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔محترم شکیل صدیقی(لکھنؤ)نے بعنوان’’ہندی کتھا ساہتہ میں لکھنوی سماج‘‘ پیش کیا۔ڈاکٹرودیا ساگر(شعبہء ہندی ،سی سی ایس یو ، میرٹھ)نے بعنوان’’ویشوِک (کووڈ19-) پری پیکش میں ہندی ساہتہ کی بھومکا‘‘ پر اپنا مقالہ پیش کیا۔
ہندی سیشن کے بعد اردو سیشن کی صدر محفل میں پروفیسر انور پاشا(دہلی) اور پروفیسر کوثر مظہری ( دہلی) نے شرکت کی۔ پروفیسر انور پاشا نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانی بقا کو قائم رکھنے کے لئے انسان اپنی راہیں تلاش کرنے لگتا ہے اور نامناسب حالات میں بھی انسان اپنے کو ڈھال لیتا ہے۔ پروفیسر کوثر مظہری نے کہا کہ انسان کی زندگی میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں یا تغیرات آئے ہیں تو ادب میں بھی وہ تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اس اردو سیشن میں تین مقالات پڑھے گئے، جن میں پہلا مقالہ ڈاکٹر عابد حسین حیدری (سنبھل )نے بعنوان’’شمالی ہند میں نظم میں جذبات نگاری کا مثلث افضل نظیر اور جوش‘‘ پڑھا۔ اس مقالہ میں انہوں نے بتایا کہ افضل سے پہلے امیر خسرو کے یہاں جذبات نگاری کے نقوش ملتے ہیں لیکن ان کا کلام آج بھی زیر بحث ہے، لیکن افضل کا کلام وکٹ کہانی کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا جا چکا ہے اور یہ ہمارے ادب کا مستند دستاویز ہے۔ دوسرا مقالہ ڈاکٹر نعیم انیس (کلکتہ) نے بعنوان’’ مغربی بنگال کے ڈراموں میں سماجی تغیرات کے اثرات ‘‘ پڑھا ۔ تیسرا مقالہ ڈاکٹر فرحت خاتون (میرٹھ)بعنوان’’اسلم جمشید پوری کا افسانہ تیری سادگی کے پیچھے اور سماجی تغیرات‘‘ پڑھا۔ اردو سیشن کے بعد شامِ غزل کے پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں ہندوستان کے مشہور اور ممتاز فنکار محترم مکیش تیواری (میرٹھ) نے اپنی مترنم آواز میں غزلیں پڑھیں اور سامعین کو گنگنانے اور مسکرانے پر مجبور کر دیا۔