شعبۂ اردو سی سی ایس یومیں’’اردو اور ماس میڈیا‘‘ پر آن لائن پرو گرام

میڈیا کی وجہ سے دنیا ایک گاؤں میں تبدیل ہو گئی ہے:پروفیسر اسلم جمشید پوری
میرٹھ(پریس ریلیز):’’ترسیل و ابلاغ یعنی میڈیا انسانی زندگانی کا ایک ایساجز ہے جس کے بغیر زندگی اور تہذیب و ثقافت کا تصور ناممکن ہے۔ تہذیب و ثقافت بحیثیت مضمون ترسیل و ابلاغ کی مرہون منت ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تہذیب و ثقافت کے بغیر ترسیل و ابلاغ کا عمل کار لا یعنی ہے۔ اس لحاظ سے ترسیل و ابلاغ اور تہذیب و ثقافت ایک دوسرے پر منحصر ہیں اور انسانی زندگی کے عروج و ارتقاء کے علم بردار ہیں۔‘‘ یہ الفاظ تھے صدر شعبۂ لسانیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،پرو فیسر عباس جہانگیر وارثی کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’اردو اور ماس میڈیا‘‘ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر میں آن لائن ادا کررہے تھے۔ انہوں نے پڑھے گئے مقالوں کا تجزیہ کیا اور انہیں اپنے اپنے موضوعات پر اہم دستاویز بتایا۔پرو گرام کا آغاز ایم ۔اے ۔کے طالب علم محمد عمران کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ عظمیٰ پروین نے بارگاہ رسالت میں ہدیۂ نعت پیش کیا۔
آج کے ہفتہ واری ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی اور صدر شعبۂ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔جبکہ مقالہ نگاران کے بطورروزنامہ انقلاب کے ریزیڈینس ایڈیٹر ڈاکٹر محمد یامین انصاری،خواجہ معین الدین اردو، عربی، فارسی یونیورسٹی، لکھنؤ کے استاد ڈاکٹر محمد وصی اعظم انصاری اوردوردرشن ، دہلی کے بلیٹن ایڈیٹر نیوز محترم نوازش مہدی شریک ہوئے۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹرشاداب علیم ،نظامت کے فرائض ڈاکٹرآصف علی اور شکریے کی رسم ڈاکٹرارشاد سیانوی نے ادا کی۔جبکہ موضوع اور مہمانان کا تعارف پروفیسر اسلم جمشید پوری نے پیش کیا اس موقع پر انہوں نے اردو اور ماس میڈیا کے حوالے سے اپنی گفتگو میں کہا کہ موجودہ دور اطلاعاتی دھماکوں کا دور ہے۔ ذرائع ترسیل و ابلاغ کی فراوانی اور اس کے اثر و رسوخ کے سبب علم و معلومات میں جس طرح روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے اس نے پوری دنیا کو ایک چھوٹے سے گائوں میں تبدیل کردیا ہے۔صحافت (میڈیا )کسی بھی مہذب اور عظیم معاشرہ کی تعمیر و ترقی میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس لئے اس ستون کی اخلاقی بنیادیں جس قدر گہری ہوتی ہیں معاشرہ بھی اسی قدر ترقی کی اعلیٰ منازل سے ہمکنار ہوتا ہے۔
پروگرام اوربین الاقوامی نوجوان اروو اسکالرز انجمن (آیوسا) کے سرپرست محترم عارف نقوی نے کہا کہ میڈیا کی اثر پذیری کی طرف مغربی زبانیں تو بہت پہلے ہی متوجہ ہوگئی تھیںاسی لئے انہوں نے میڈیا کو ایک علم کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے اس سے متعلق تحقیقات اور نت نئے تجربے کو اپنے ترقیاتی پروگرام میں نہ صرف شامل کیا ہے بلکہ اس کی درس و تدریس کا بھی اہتمام کیا ہے مگر اردو والوں نے اس طرف بہت دیر سے قدم بڑھایا جس کے سبب اردو زبان اس میدان میں کچھ پیچھے ضرور ہے تاہم اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اردو زبان اس کے ذریعے بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
مہمان خصوصی روزنامہ انقلاب ممبئی کے ایڈیٹر جناب شاہد لطیف نے پڑھے گئے مقالوںکے تجزیہ کے علاوہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یقینا اردو زبان ابھی بھی ٹکنالوجی سے دور ہے نئی نسل کو چاہیے کہ اردو زبان کو نئی ٹکنا لوجی سے ہمکنار کرے انہوں نے مزید کہا کہ وہ گذشتہ پچاس سالوں سے یہ سنتے آرہے ہیں کہ اردو کے حالات مایوس کن ہیں، لیکن اسکی سمت ورفتار ثابت کر رہی ہے کہ یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اردو داں سماج کو یہ تاثر دینے سے قاصر ہیں کہ اردو زبان روزگار کے معاملے میں دوسری زبانوں سے کمتر نہیں ہے اور اسی لیے لوگ اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں میں داخل کرا رہے ہیں۔
ڈاکٹر یامین انصاری نے اردو اور انٹرنیٹ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا اور کہا کہ کچھ برس پہلے تک یہ مشکل تصور تھاکہ ہم اردو والے بھی کمپیوٹر کے دور میں شامل ہوںگے، لیکن آج ہم اس کا استعمال نہ صرف اپنی ضروریات بلکہ زبان و ادب کے فروغ کے لیے کر رہے ہیں ۔ انٹرنیٹ نے فاصلوں اور دوریوں کو کم کر دیا ہے اور اردو زبان و ادب کو نئی بستیوں تک پہنچایا ہے۔انہوں نے اعداد و شمار کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اردو زبان کوجو ترقی انٹرنیٹ کے ذریعے حاصل ہوئی ہے وہ ابھی تک کسی دوسرے ذریعے سے حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ڈاکٹر محمد وصی اعظم انصاری نے ’’ہندوستانی فلموں میں اردو زبان ‘‘ کے موضوع پر اپنا مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ قدیم گپھائوں میں کندہ نقش و نگار سے لے کردور جدید کے ریڈیو ، ٹی وی،کمپیوٹر، انٹر نیٹ، واٹس اپ ،فیس بک سے لے کر فلم تک تمام تکنیکی ذرائع ماس میڈیا کے ذیل میں آتے ہیں۔ فلموں نے بھی اردو زبان کے فروغ میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ فلموں کے ڈائیلاگس، کہانیوں، گیتوں اور نغموں کے ذریعے اردو عوام کے اس طبقے تک پہنچی ہے جس تک تحریری طور پر اس کا پہنچنا ممکن نہیں تھا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تھیٹر کے عہدکے اختتام کے بعد جو اردو داں حضرات اس سے جڑے تھے وہ سب کے سب فلم انڈسٹری سے جڑ گئے حتی کہ اردو کے بیشتر بڑے ادیبوں کی تخلیقات پر فلمیں بنی۔ مثلا ً پریم چند کی چودہ تخلیقات پر فلمیں بن چکی ہیں۔
نوازش مہدی کے مقالے کا عنوان تھا ’’ٹیلی ویژن اور اردو عصر حاضر کے تناظر میں‘‘ جس میں انہوں نے بتایا کہ ہم اردو کو صرف اردو چینلس تک محدود کر دیتے ہیں یعنی ہم انہیں جینلس کو اردوجینلس مانتے ہے جو اسکرپٹس سے لے کر پیش کش تک تمام امور اردو رسم الخط میں انجام دیتے ہیں یہ اردو کے ساتھ ناانصافی ہے کیونکہ عام طور پر چینلس کا رسم الخط دیوناگری ہونے کے باوجود ان میں اردو کے الفاظ کا خوب استعمال ہوتا ہے دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ الفاظ متاثر کن ہوتے ہیں اور عوام میں پسند کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے پہل ، منظور، غلطی، موقع، خبر، حادثہ جیسے بے شمار الفاظ گناتے ہوئے بتایا کہ ان کا استعمال ٹیلی ویژن پروگرام میں عام ہے۔اس مو قع پر ڈاکٹرولا جمال العسیلی،ڈاکٹر ہما مسعود ،ڈاکٹر عفت ذکیہ ،عرشی خان، شہانہ خاتون، شفا، رباعارف، سیدہ مریم الٰہی،محمد شمشاد ، فیضان ظفر وغیرہ آن لائن جڑے رہے۔