شعبہ اردو بی ایم کالج رہیکا میں عالمی یوم اردو کا انعقاد اردو ہماری گنگا جمنی تہذیب کی ترجمان ہے:ابرار اجراوی

مدھوبنی:شعبہ اردو بی ایم کالج رہیکا مدھوبنی میں عالمی یوم اردو کے موقع پر ایک مختصر ادبی تقریب منعقد کی گئی، جس کی صدارت صدر شعبہ اُردو ڈاکٹر ابرار اجراوینے کی اور شعبے کے طلبہ اور طالبات نے بھی اردو زبان و ادب سے متعلق موضوعات پر گفتگو کی ، اخیر میں پروگرام کی صدارت کررہے ڈاکٹر ابرار اجراوی نے کہا کہ ہر سال علامہ اقبال کے یوم پیدائش 9/نومبر کو عالمی سطح پر یوم اُردو کا انعقاد کیا جاتا ہے،اور مختلف ادبی اور شعری تقاریب کا اہتمام کرکے اردو زبان کی شیرینی اور اس کی عالمگیری کو نمایاں کیا جاتا ہے، انھوں نے کہا کہ اردو غیر ملکی زبان نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کی مٹی سے جنم لینے والی ایسی زبان ہے جو اشتراک و اتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی بھائی چارہ کی بنیادوں کو مستحکم کرتی ہے، اردو ہماری گنگا جمنی تہذیب کی بہترین ترجمان اور ہماری پہچان ہے، اردو شعرا نے مذہبی بنیادوں پر ادبی سرمایہ تخلیق نہیں کیا ہے، اردو زبان نے وطن عزیز ہندستان کی جنگ آزادی میں بھی نمایاں رول ادا کیا ہے، اردو شاعروں اور ادیبوں نے احتجاجی اور مزاحمتی ادب کے راستے ملک کی آزادی اور یہاں کی تہذیب و ثقافت کی آبیاری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، انھوں نے کہا کہ آج کل ہر زبان کو روزگار سے وابستہ کرکے دیکھا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قسم کا روزگار اور نوکری صلاحیت کی بنیاد پر ملتی ہے، کوئی بھی زبان روزی روٹی کی ضمانت نہیں لے سکتی،اردو ہماری مادری زبان ہے، اسی زبان میں ہماری ماں نے ہمیں لوریاں اور کہانیاں سنائی ہیں ، ہمیں اردو کو بغیر کسی احساس کمتری کےاپنا ذریعہ اظہار تسلیم کرنا چاہیے اور اسکولوں کالجوں میں اپنے بچوں کو اُردو موضوع اختیار کرنے کی ترغیب دینی چاہیے، ہمیں اردو کا اخبار اور رسائل مانگ کر نہیں، خرید کر پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے، اردو میڈیم کی کتابیں خرید کر پڑھنا چاہیے، تبھی اردو ہمارے گھروں میں پھول پھول سکتی ہے اور ہمارے بچے اپنی قدیم روایات سے آشنا ہوسکتے ہیں اور اردونہ صرف ہندستان اور بر صغیر میں بلکہ عالمی پیمانے پر اپنی شناخت قائم کرسکتی ہے- ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ زبان حکومت کی سرپرستی یا حکومتی مراعات کے بل بوتے پر زندہ نہیں رہتی بلکہ یہ عوامی حمایت اور روز مرہ کے استعمال سے زندہ رہتی اور ترقی کرتی ہے – اس موقع پر شعبہ کے طلبہ اور طالبات اور ان کے گارجین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جنھوں نے یہ عہد کیا کہ ہم لازمی طور پر اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دیں گے اور اردو کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کریں گے –