شعبۂ ارد و میں’’ہماری آواز‘‘ اوردیگر تین کتابوں کا اجرا

میرٹھ:کتابیں انسان کی بہترین ساتھی اور علم کی توسیع کا ذریعہ ہیں انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کے بڑھتے دائرہ اثر کے باوجود معیاری اور اچھی کتابوں کی ڈیمانڈ کم نہیں ہوئی ہے۔ یہ الفاظ تھے پروفیسر نوین چند لوہنی ، ڈین فیکلٹی آف آرٹس ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ کے جنہیں وہ شعبۂ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقدہ ’’کتب کی نقاب کشائی‘‘ تقریب میں صدارت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ادا کر رہے تھے۔ اس موقع پرا نہوں نے کتابوں کے مصنفین کو مبارکباد بھی دی اور سامعین کو اچھی کتابوں کے مطالعہ کے فوائد بھی بتائے۔ واضح ہو کہ کورونا بیماری کے چلتے شعبۂ اردو میں پورے ایک سال بعد یہ تقریب ماسک ،سینٹائزر اور سماجی دوری کی پابندی کے ساتھ تین تازہ کتابوں اور شعبے کے ترجمان شسماہی’’ ہماری آواز‘‘ کے اٹھارویں شمارے کی نقاب کشائی کے لئے آف لائن منعقد ہوئی تھی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی معروف اور بزرگ افسانہ نگار محترم اسرار گاندھی ، اور مہمان اعزازی ڈاکٹر معراج الدین احمد،سابق وزیر، حکومت اتر پردیش تھے۔جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی، استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور اظہار تشکر کی رسم ڈاکٹر الکا وشسٹھ نے ادا کی۔
تقریب کا آغاز مولانا محمد جبرائیل نے کلام پاک کی تلاوت اور معزز مہمانان نے شمع روشن کر کے کیا بعد ازاں شعبے کی طالبہ آصفہ انجم نے حفیظ میرٹھی کی نظم’’ دل فروشوں کے لیے کوچہ و بازار بنے‘‘ پیش کی اور تقریب کے صدر پروفیسر نوین چند لوہنی نے پروفیسر اسلم جمشید پوری کی کتاب ’’اسرار گاندھی کے تخلیقی اسرار‘‘ پروفیسر جمال احمد صدیقی صدر شعبہء لائبریری سائنس اور ڈپٹی لائبرین مہاراجہ پرتاپ سنگھ سینٹرل لائبریری نے ڈاکٹر ارشاد سیانوی کی کتاب بعنوان پروفیسر اسلم جمشید پوری : فن اور فنکار ،محترم شاہد صدیقی، آئی ، آر ،ایس نے محترمہ ریشما جمشید کی کتاب ’’یوپی ٹیٹ اورسی ٹیٹ گائیڈ ‘‘ ڈاکٹر معراج الدین احمد نے حفیظ میرٹھی پر ’’ہماری آواز ‘‘ کے خصوصی شمارے کی نقاب کشائی کی رسم انجام دی۔
اس کے بعد فیض عام ڈگری کالج کی استانی ڈاکٹر فرحت خاتون نے’’ اسرار گاندھی کے تخلیقی اسرار‘‘شعبۂ اردو کی استانی ڈاکٹر شاداب علیم نے ’’ اسلم جمشید پوری : فن اور فنکار‘‘، ڈاکٹر آصف علی نے ’’یوپی ٹیٹ اورسی ٹیٹ گائیڈ‘‘ اور مہاتما گاندھی پی چی کالج سنبھل کے استاد محترم نوید خان نے ’’ہماری آواز‘‘ کے خصوصی شمارے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ ڈاکٹر فرحت خاتون نے بتایا کہ 1970ء کے بعدافسانے کی دنیا میںنئی نسل کا داخلہ ہوا ۔اس نئی نسل نے قاری کو عصر حاضر کے مسائل اور اس میں جنم لینے والے نشیب و فراز کا احساس قاری کو دلایا اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کا منظر نامہ ان جدید افسانوں میں پیش کیا۔ ان جدید افسانہ نگاروں میںایک نام اسرار گاندھی کا بھی ہے۔پروفیسر اسلم جمشید پوری کی زیر تبصرہ کتاب انہی سے متعلق ہے ۔ کتاب میں مقتدر ناقدوں کے مضامین کے علاوہ پروفیسر موصوف کا ایک جامع اورپر مغز مقدم بھی موجود ہے جو اسرار گاندھی کی شخصیت اور ان کے فن رموزونکات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔اور کتاب میں شامل تمام تنقیدی مضامین اسرار گاندھی کی شخصیت اورفن کو پرت در پرت کھول کر قاری کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹر شاداب علیم نے کتاب کا باب در باب تجزیہ کرتے ہوئے کہا اسلم جمشید پوری : فن اور فنکار کے مطالعہ کے بعد اس حقیقت سے روگردانی ممکن نہیں کہ یہ کتاب اسلم شناسی کے باب میں اضافے کا باعث ہوگی۔جب جب اسلم صاحب کی شخصیت و فن پر تحقیقی کام ہوگا یہ کتاب طلباء کے لئے سند کی حیثیت رکھے گی اور اسلم صاحب کو نئے تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کا اہم فریضہ انجام دے گی۔اس تحسین آمیز کارنامے کے لئے ڈاکٹر سیانوی قابل مبارک باد ہیں۔ڈاکٹر آصف علی نے یوپی ٹیٹ اور سی ٹیٹ گائیڈ کو وقت کی اہم ضرورت بتاتے ہوئے کہا کہ درسگاہوں کے امتحانات سے لے کر ملازمتوں کے لئے ہونے والے مقابلہ جاتی ٹیسٹوں تک میں سوالات وجوابات کا معروضی نظام نافذ العمل ہے لہٰذا ایسی صورت میں آبجیکٹیو (معروضی) سسٹم پر مبنی اردو کتابوں کی اشد ضرورت ہے اگر ایسی کتابیں کسی خاص امتحان ،خاص موضوع کی زمرہ بندی کرکے تیار کی جائیں تو مزیدبہتر ہے۔زیر تبصرہ کتاب اس لئے بھی مفید ہے کہ اس میں پرائمری اور جونیر اسکولوں میں ہونے والی تقرری کو نظر میں رکھ کر مواد جمع کیا گیا ہے۔
محترم نوید خان نے بتایا کہ ہماری آواز کے اس خصوصی شمارے میں حفیظ میرٹھی کو منظوم خراج عقیدت، تازہ کتابوں پر تبصرے شعبے کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں ،واردان شعبہ کے تاثرات ،ربط باہم، اشتہارات مقوبری اور ہندی سیکشن کے علاوہ حفیظ میرٹھی کا منتخب کلام اور ان کی شخصیت و فن پر ملک کے 31نامور دانشوروں کے اہم تحقیقی و تنقیدی مضامین شامل ہیں جن سے نہ صرف حفیظ میرٹھی کے ادبی قدکا یقین ہوتا ہے بلکہ مطالعہ کی مزید راہیں بھی کھلتی ہیں۔
مہمان خصوصی اسرار گاندھی نے کہا کہ دو کتابیں عام طور پر مالی منقعت کا نہیں مالی خسارے کا ذریعہ ہیں مگر پھر بھی اردو والے س خدمت خلق کے جذبے سے انجام دے رہے ہیں ان کا جذبہ قابل احترام اورلائق تقلید ہے۔مہمان اعزازی ڈاکٹر معراج الدین احمد نے اجراء شدہ کتابوں کے مصنفوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ کسی زبان کی توسیع اور مستقبل کی تابناکی کاپیمانہ اس زبان کو بولنے اور سمجھنے والوں کی کثرت اور اس زبان میں شائع شدہ کتابیں ہیں۔اور میں سمجھتا ہوںاردو زبان اس اعتبار سے بڑی خوش نصیب ہے کہ نہ تو اس کے بولنے اور سمجھنے والوں کی کمی ہے اور نہ کتابوں کی۔