شعیب اقبال کی اردونوازی بھی ختم،ان کے پوسٹرز سے اردو غائب

نئی دہلی:اردوڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (دہلی) کے نائب صدر صلاح الدین نے جاری بیان میں کہا کہ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے اردوداں لیڈروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اردو کو نہ صرف نظرانداز ہی نہیں کریں گے بلکہ اس کی بقا، ترویج و ترقی کی ہرممکن کوشش بھی کریں گے۔ مگر افسوس کہ پوری دہلی سے دھیرے دھیرے دُکانوں، مکانوں اور شاہراہوں پر اردو تحریرکیے جانے کی روایت ختم سی ہوتی جارہی ہے اور وہ سمٹ کر اس وقت جامع مسجد دہلی، مٹیامحل اور چاندنی چوک تک محدود ہوکر رہ گئی اور اب مٹیامحل حلقہ سے ایم ایل اے شعیب اقبال صاحب جو اردو کے پرستاروں میں شمار ہوتےتھے، ان کی جانب سے بھی شائع ہونے والے پوسٹرز اور شاہراہوں پر ان کے نام سے اردو تحریرختم ہوگئی ہے۔انھوں نے مزیدکہا کہ اردوتحریرنہ کرنااحساس کمتری کی علامت ہے جبکہ اردونہ صرف بھارت کی مقبول عام زبان ہے بلکہ دہلی سمیت ملک کی مختلف ریاستوں کی دوسری سرکاری زبان بھی ہے، یہاں تک کہ بھارت کے پہلے وزیراعظم جناب پنڈت جواہر لعل نہروکی مادری زبان اردوتھی اوراردوبھارت میں پیدا ہوئی، بڑھی اور پروان چڑھی اور اس میں ہر مذہب و طبقہ کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ انہوں نے تمام رہنمائوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملک کی اس پیاری زبان کو رائج کرنے میں مددکریں۔