شیراز ہند کی تخلیقی شوکت!-حقانی القاسمی

 

haqqanialqasmi@gmail.com
Cell: 9891726444

شیراز ہند کے شوکت پر دیسی کو وہ شہرت نہیں ملی، جس کے وہ مستحق تھے تو یہ المیہ صرف ان کی ذات کا نہیں ہے بلکہ اردو ادب کی پوری تاریخ کا ہے۔ حیرت ہے کہ شوکت کے پرشکوہ کلام تک ناقدین کی رسائی کیوں نہیں ہوپائی جبکہ ان کی تخلیق توانائی اور تازگی سے معمور ہے اور دائرہ احساس واظہار بھی مختلف اصناف تک پھیلا ہوا ہے۔ شاعری کی بیشتر صنفوں میں انہوںنے نہ صرف طبع آزمائی کی ہے بلکہ فکری ندرت اور اظہاری جدت کے اعلیٰ نمونے بھی پیش کئے ہیں۔
غزل سے اپنے اظہار کا رشتہ جوڑا تو اپنے جمالیاتی شعور سے غزل کو نئی رعنائیاں عطا کیں، اس کی فنی اور فکری توانائیوں میں اضافہ کیا۔ ان کی غزل میں مکالمہ اپنی ذات سے ہے مگر حیات وکائنات کے مسائل بھی ان کے احساس کے مرکز میں شامل ہیں۔ ان کی غزلوں میں ایک خاص کیفیت ہے۔ تہذیب غم کی کیفیت، خارجی اظہار چاہے حظ وانبساط کا رنگ لئے ہوئے ہو مگر داخلی فضا میں اداسی اور غمگینی بسی ہوئی ہے۔ ان کی زندگی جس داخلی مد وجزر اور نشیب وفراز سے گزری ہے، شاعری اسی مد وجزر کا بیانیہ ہے۔ ان کے اشعار ان کے تجربات ومشاہدات کے عکاس ہیں:
بارہا صبح زندگی میں بھی
موت کی شام یاد آئی ہے

صبح کا انتظار ٹوٹ چکا
اب کوئی شام سوگوار نہیں
زندگی کی صبح میں یہی وہ شام ہے جو ان کی سوگواری کا پتہ دیتی ہے۔ اسی شام میں زندگی کے سارے ستم آنکھوں میں اترنے لگتے ہیں اور پھر آنسو بن کر غزل اور گیت میں ڈھل جاتے ہیں۔
اس لئے اس طرح کے اشعار جنم لیتے ہیں:
اداسی دل پہ طاری ہے ستارو تم تو سوجاؤ
ہمیں تو بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

یہ عالم ہے اب اپنی زندگی کی ناتوانی کا
قیامت بن گیا ہے لمحہ لمحہ عمر فانی کا

سکوت شب کو نہ فردوس کہکشاں سمجھو
ہوائیں تیز ہیں ہر شے کو بے اماں سمجھو

خنجر بہ کف تو لوگ ملے ہر جگہ مگر
مرہم بہ دست کوئی مسیحا نہیں ملا

دوستوں سے بھی مصائب جو ملے ہیں اکثر
یہ بتاؤ وہ حکایات کہوں یا نہ کہوں

بدلے بدلے زندگی کے سارے پیمانے لگے
جانے پہچانے ہوئے چہرے بھی انجانے لگے
یہ شوکت پردیسی کے وہ اشک ہائے آتشیں ہیں جو شاعری میں ڈھل گئے ہیں۔ ان کی بیشتر شاعری کو انہی اشکوں نے تابدار کیا ہے۔’ ساز نغمہ بار‘ میں ان کی جتنی بھی غزلیں ہیں، ان میں سے بیشتر میں حزینہ رنگ نمایاں ہے:
ہر مسرت طلب سے دور رہی
دل سے ہر درد ہم کنار رہا
چلو تم لاکھ بچ کر زندگی کے موڑ سے شوکت
خیال آتا رہے گا پھر بھی غم ہائے نہانی کا
شوکت پردیسی کی غزلوں میں احساس کا ایک رواں دریا ہے اور اظہار کا ایک مترنم آبشار — ان کی غزلوں میں روایت کا رنگ بھی ہے اور عصریت کا آہنگ بھی — غزل ان کے مزاج کا حصہ ہے، اسی لئے غزل میں ان کی جودت طبع نے جو جوہر دکھائے ہیں، وہ ان کی فنی پختگی اور قدرت کلامی کا مکمل ثبوت ہیں۔
بطور گواہی شوکت کے یہ چند اشعار پیش ہیں:
جب مقدر میں کنارہ ہی نہ ہو
کیا گلہ وقت کے طوفانوں سے
ہنستے ہنستے بہے ہیں آنسو بھی
روتے روتے ہنسی بھی آئی ہے
زندگی مانگ، مانگنے والے
موت مانگے سے کس کو آئی ہے
دشمنی کی بھی قدر کرتا ہوں
آڑے وقتوں میں کام آئی ہے
باعث لطف وہ اسیری تھی
باعث رنج یہ رہائی ہے
موج غم سے نہ ہو کوئی مایوس
زندگی ڈوب کر ابھرتی ہے
ہے بڑی کشمکش مگر پھر بھی
حسرت زندگی تو آج بھی ہے
ہوش والے تو الجھتے ہی رہے
راستے طے ہوئے دیوانوں سے
ان اشعار میں شوکت پردیسی کے داخلی جذبات کی حدت اور احساس کی شدت کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ زندگی نے انہیں جو تجربے دیے ہیں، انہی کی عکاسی اپنی شاعری میں کی ہے۔

شوکت پردیسی صرف میدان غزل کے شہسوار نہیں بلکہ شہر نظم میں بھی وہ اپنی الگ آن، بان، شان کے ساتھ وارد ہوئے ہیں۔ ’مضراب سخن‘ میں ان کی جو نظمیں ہیں ان میں معاشرتی زندگی کے کوائف ہیں اور محبتوں کی کیفیات بھی۔ تخیلات سے آباد شہر بھی ہیں اور یادوں کا اجڑا ہوا نگر بھی۔ نشاط آرزو کی چمک بھی ہے، بیتے ہوئے لمحوں کی کسک بھی۔ زندگی کی مشاہدے اور تجربے ان کی نظموں کا عنوان بن گئے ہیں۔ میرے محبوب، مجھے اب یاد نہ کر، انجام محبت، یاد شباب، نشاط نو، فکر نشاط، نئی روشنی، ستارہ صبح، رعنائی حیات ان کی خوب صورت نظمیں ہیں۔ ان نظموں کو پڑھتے ہوئے اختر شیرانی کا رومانی رنگ بھی یاد آتا ہے— نظمیں بڑی رواں دواں ہیں اور ان میں ایسی رومانیت ہے جو ذہن کو نئی بہاروں سے آشنا ہے اور تخیل کی نئی لہروں سے روشناس کرتی ہے۔ نظموں میں نغمگی ہے، آہنگ ہے، وہ نثر کا ٹکڑا نہیں محسوس ہوتیں۔ نظم پڑھتے ہوئے ذہن میں خیالات کے نئے جہاں آباد ہوجاتے ہیں اور دل سرشاری کی نئی کیفیتوں سے ہمکنار ہوتا ہے۔ قاری کو ان میں اپنی محسوسات کی دنیا نظر آتی ہے۔
عورت بھی ان کی نظم کا عنوان بنی ہے۔ کتنی خوب صورتی سے انہوںنے عورت کی حقیقت بیان کی ہے:
آکے عالم سجا دیا جس نے
سوز دل کو بڑھا دیا جس نے
درد و غم کو مٹا دیا جس نے
ایک نیا حوصلہ دیا جس نے
اپنے ذوق و حیات افزا سے
گھر کو جنت بنادیا جس نے
اور آخر میں نظم اس خوب صورت احساس پر ختم ہوتی ہے کہ:
اپنی غربت میں بھی سلیقے سے
تم کو جینا سکھادیا جس نے
وہ فسانہ نہیں حقیقت ہے
عظمت زندگی ہے عورت ہے

 

 

عورت سے متعلق ایک دوسری نظم میں انہوںنے عورت کو جہان راز، مخلص ودم ساز، مرکز پرواز کے ساتھ عیار وشاہد باز، فتنے کا آغاز بھی کہا ہے۔
محاکاتی رنگ لئے ہوئے ان کی بہت سی نظمیں زندگی کے بہت سے مناظر اور مظاہر سے روبرو کراتی ہیں۔ شوکت پردیسی کی نظمیہ شاعری کیف و نشاط سے معمور ہے۔ یہاں وہ اپنی غزلوں سے بالکل الگ رنگ میں نظر آتے ہیں — یہاں شام ہی سے ان کے تصور میں زندگی کا چراغ جلنے لگتا ہے۔

شوکت پردیسی نے صرف بڑوں کے لئے نہیں بلکہ بچوں کے لئے بھی بہت کچھ لکھا ہے اور یہ شاید زیادہ مشکل کام ہے۔ ڈیجیٹل ایج میں تو یہ اور بھی دشوار ہوگیا ہے۔ آج کے عہد میں بچوں کے وہی تخلیق کار کامیاب ہیں جو مائکر وجینیٹک ڈیزائن کے ذریعہ بچوں کی ارتقائی میکانزم پر نظر رکھتے ہیں۔ ان کی بدلتی ہوئی سائیکی، نفسیات، ذہنی تغیرات اور ترجیحات کا خیال رکھتے ہوئے ادب اطفال تخلیق کرتے ہیں۔
شوکت پردیسی نے ادب اطفال کے باب میں بھی اپنی ہنرمندی کا ثبوت دیا ہے اور بچوں کی ذہنی سطح کا خیال رکھتے ہوئے نظمیں لکھی ہیں۔ ان کی بیشتر نظمیں بچوں کے مقبول رسالوں ماہنامہ کھلونا دہلی، ماہنامہ پیام تعلیم دہلی، ماہنامہ ٹافی لکھنؤ میں چھپتی رہی ہیں اور خود انہوںنے ’’منا‘‘ کے نئے نام سے بچوں کا رسالہ جاری کیا۔
شوکت پردیسی کی نظموں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں اثباتیت (Positivism) کا عنصر ہے۔ انہوںنے منفیت کے زنداں سے بچوں کو باہر نکال کر ان کے ذہنی وجود کو مثبت موسم عطا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوںنے پھول سے بچوں کو خزاں نہیں بہار سے آشنا کیا ہے۔ نظموں کو انہی موضوعات پر مرکوز کیا ہے جن سے بچوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آسکے۔ ان کا ذہنی کینوس وسیع ہوسکے۔ ان کی بیشتر نظموں کے عنوانات ایسے ہیں جن سے بچوں کو صحت مند اخلاقی قدروں کی ترغیب وتحریک مل سکے۔ خاص طور پر انہوںنے علم، امن، آزادی، اتحاد، اخوت، عزم وعمل، محنت، خود اعتمادی، حب الوطنی کی ترغیب دی ہے۔ ان کی نظموں میں فطرت کے مناظر بھی ہیں،ماحولیاتی شعور بھی۔ چرند، پرند بھی ہیں، چاند بھی۔ بچوں کو تخلیقی کلچر سے جوڑنے والی بہت ہی خوب صورت نظمیں انہوںنے لکھی ہیں۔ ایسی اصلاحی، تربیتی، اخلاق آموز نظموں سے بچوں کو نئی روشنی ملتی ہے۔ ان کے اندر عزم وعمل کا نیا جذبہ جنم لیتا ہے۔ بچوں کی شخصیت سازی اور ارتقاء پر ان کا خصوصی ارتکاز ہے۔ مکالماتی انداز میں انہوںنے بچوں کو اخلاقی درس دیا ہے:
پیارے بچو! جھوٹ نہ بولو
جھوٹ ہے لعنت اس کو چھوڑو
سچ جو کہوگے راحت ہوگی
ہر محفل میں عزت ہوگی
}سچ کی عزت{
محنت اگر کروگے دنیا میں نام ہوگا
ہرگز کبھی ادھورا کوئی نہ کام ہوگا
اس قوم کے خزانے دولت سے بھر گئے ہیں
محنت سے جس کے بچے غافل نہیں ہوئے ہیں
ہر کام کررہے ہیں آگے ہی بڑھ رہے ہیں
}محنت {
کوشش نئے چراغ جلاتی ضرور ہے
تاریکیوں کو دور ہٹاتی ضرور ہے
ذرے کو آفتاب بناتی ضرور ہے
پڑھنے کا اہتمام کیا پاس ہوگیا
محنت جو صبح وشام کیا پاس ہوگیا
}محنت صبح وشام{
آلو کی برفی، اکڑو خاں، روبی کی گڑیا، ہم بچے ہم شہزادے، … پری بہت پیاری نظمیں ہیں۔ بہت سلیس اور سادہ زبان میں انہوںنے نظمیں کہی ہیں۔ ایسے الفاظ سے گریز کیا ہے جو بچوں کی نازک طبع پہ گراں بار ہوں۔
شوکت پردیسی نے مولوی اسماعیل میرٹھی، حامد اللہ افسر، شفیع الدین نیر کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے خیال کی روشنی اس نسل تک پہنچانے کی کوشش کی ہے جن کی ننھی ننھی آنکھوں میں مستقبل کے بہت سے خواب روشن ہیں۔
’تحفہ اطفال‘ بچوں کے لئے لکھی گئی نظموں کا ایک بہترین مجموعہ ہے۔ یہ نظمیں اسکول کے نصاب میں ضرور شامل ہونی چاہئیں۔

شوکت پردیسی ایک متنوع شخصیت کے حامل ہیں۔ انہوںنے غزلیں، قطعات، رباعیات، نظمیں، فلمی اور غیرفلمی گیت اور بچوں کی نظموں کے ذریعہ اردو زبان وادب کی ثروت میں گراں بہا اضافہ کیا ہے۔ ان کی پوری عمر زبان وادب کی خدمت میں گزری ہے۔ شاعر ممبئی، نیرنگ خیال لاہور، شمع دہلی، بیسویں صدی دہلی، کنگن ممبئی، تحریک دہلی آجکل دہلی، کہکشاں ممبئی، ساغر لاہور کے پرانے شمارے اس کے گواہ ہیں۔ ایسی معتبر گواہی کے باوجود شوکت پردیسی اگر تنقیدی حوالوں سے جلا وطن ہیں تو یہ شوکت کی نہیں اردو ادب کی بدنصیبی ہے۔ شوکت کے یہاں فنی اور فکری سطح پر جو جزالت ہے، وہ ان کی تخلیقی زندگی کی ضمانت ہے۔ ان کے کلام اور کمال ہنر کے پیش نظر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ان کی تخلیقی شوکت کو کبھی زوال نہیں آئے گیا اور شیراز ہند کا یہ ستارہ تخلیقی افق پر ہمیشہ چمکتا رہے گا۔