شکارا بمقابلہ کشمیر فائلز:ایک فلم پر خاموشی، دوسری فلم کی تشہیر کیوں؟ – رویش کمار

کشمیر فائلس پر اشوک کمار پانڈے کا تبصرہ ضرور دیکھیں۔ اشوک کمار پانڈے نے ہندی میں ’کشمیر اور کشمیری پنڈت‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ 399 صفحات کی اس کتاب میں اشوک نے ان تمام کتابوں کا حوالہ دیا ہے، جہاں سے انھوں نے حقائق و شواہد حاصل کیے ہیں اور اپنی بات رکھی ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے آپ کچھ اور کتابوں کے بارے میں جان سکتے ہیں، جو کشمیر اور کشمیری پنڈت پر ہیں۔ راج کمل کی شائع کردہ اس 399 صفحات کی کتاب کی قیمت 399 روپے ہے۔ ایک روپیہ میں ایک صفحہ، اس سے کم قیمت اور کیا ہو سکتی ہے۔ایک ویڈیو میں اشوک نے حقائق کے ساتھ اپنی بات کہی ہے۔ ہم نے ان سے گزارش کی ہے کہ یہاں جو تنقیدی تبصرے آئیں ان کو غور سے پڑھیں اور اگر وقت اجازت دے تو ان تبصروں اور سوالات کے بارے میں دوبارہ ویڈیو بنائیں۔

میرا اپنا ماننا ہے کہ دفعہ 370 اور کشمیر کے سوال نے ہندی ریاست کی سیاست کو تباہ کر دیا ہے۔ میں یہ بات اپنے شوز میں کئی بار کہتا اور لکھتا رہا ہوں۔ بغیر جانے، پڑھے  ہر شخص کچے پکے حقائق کے بارے میں حتمی معلومات کا دعویٰ کرتا پایا جائے گا۔ کشمیری پنڈتوں کی نسل کشی اور اخراج کی افسوسناک تاریخ کو ایک سیاسی گروپ نے پرلطف مسئلے کے طور پر پھیلایا ؛ تاکہ یوپی بہار کے لوگ اس کی لپیٹ میں آئیں اور نفرت کی آگ تیزی سے پھیلے، انھیں اس معاملے میں کامیابی بھی مل رہی ہے۔

کانگریس نے کشمیر، کشمیری پنڈتوں اور دفعہ 370 کے بارے میں ہندی ریاستوں میں کبھی تقریر نہیں کی۔ مجھے یاد نہیں کہ راہل گاندھی یا پرینکا گاندھی نے اس پر کوئی لمبی تقریر کی ہو۔ مذمت کرنا یا ایک دو سطروں میں تنقید کرنا الگ بات ہے۔ کانگریس ایسے موضوع سے ڈرتی ہے، کبھی بھی تحریری یا زبانی موقف کا اظہار نہیں کرتی۔ اس پارٹی کی سیاسی ذمے داری ہے کہ کشمیری پنڈتوں اور دفعہ 370 کے بارے میں ہونے والی بحث پر ایک نہیں؛ بلکہ بار بار، زبانی اور تحریری طور پر اپنا موقف رکھے۔ پارٹی کو کم از کم تین چار صفحات کا لمبا بیان جاری کرنا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ پارٹی اس وقت کیسے سوچتی تھی؟ کیا کیا؟ اپنی غلطی بھی تسلیم کرے اور اب کیا سوچتی ہے،اس پر بھی اپنی رائے رکھے۔ یہ کام پریس کانفرنس کی بائٹس سے نہیں ہو سکتاہے؛ لیکن کانگریس اتنی محنت کیوں کرے گی؟ اشوک کمار پانڈے نے اس ویڈیو میں کہا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کے قتل کے بعد راجیو گاندھی نے پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیا تھا اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ کشمیر میں فوج بھیجی جائے۔

 

 

دوسری طرف یوپی اور بہار میں 90 کی دہائی سے کس نے حکومت کی۔ بہار میں راشٹریہ جنتا دل اور یوپی میں بی ایس پی اور ایس پی۔ ان جماعتوں کے پاس صرف لیڈر تھے اور انسانی وسائل وافر تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ ان جماعتوں نے کبھی یوپی بہار میں کشمیر کے سوال پر تفصیل سے بات کی ہے ۔ یہ ضرور یاد ہے کہ جنتا دل یونائیٹڈ نے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کی مخالفت کی تھی، ہٹانے کے خلاف قرارداد پاس کی تھی اور تب بھی اور آج بھی بی جے پی جنتا دل یونائیٹڈ کے ساتھ مل کر حکومت بنا رہی ہے، جب آرٹیکل 370 ہٹایا گیا تو جے ڈی (یو) نے اپنا احتجاج ختم کر دیا، اگر نام کی مخالفت کی جائے تو اس کا کوئی مطلب نہیں۔ ہم تفصیل سے نہیں جانتے کہ جے ڈی (یو) نے کیوں احتجاج کیا اور اس نے ہٹانے کے وقت احتجاج کیوں نہیں کیا؟ اس طرح سے ہندی ریاست میں اس معاملے کو لے کر ایک سیاسی خلا پیدا ہو گیا۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی اور سنگھ نے گودی میڈیا اور آئی ٹی سیل کے ذریعے اپنی بات جتنی چاہی پھیلائی۔ تب بھی سماجی انصاف کے خیمے کی پارٹیاں اور کانگریس نے عوام کے درمیان اس پر کوئی موقف نہیں پیش کیا۔

دوسرا یہ کہ کشمیر پر جو کچھ بھی لکھا گیا، وہ زیادہ تر انگریزی میں لکھا گیا۔ صرف کشمیر جانے والے صحافی انگریزی اخباروں کے ادارتی صفحات پر لکھتے تھے۔ میں کون ہوں ان کے تمام مضامین کو مسترد کرنے والا؛ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان مضامین کا مقصد ان سوالوں کا بار بار جواب دینا نہیں تھا، جن کو لے کر ہندی ریاست کے لیڈروں، کارکنوں اور قارئین کا سماج ناراض تھا۔ اگر وہ غلط باتوں میں الجھا ہوا تھا تو اس کے پاس صحیح چیزوں کا متبادل بھی موجود نہیں تھا۔ اشوک کمار پانڈے کے علاوہ ارملیش کی واحد کتاب ہندی میں ہے۔  ہندی اخبارات میں کشمیر، کشمیری پنڈتوں اور آرٹیکل 370 کے بارے میں اسی طرح کا پروپیگنڈہ پھیلایا گیا، جیسا کہ بی جے پی اور سنگھ کا ہے۔

کشمیر، آرٹیکل 370 اور کشمیری پنڈتوں کی نسل کشی کے بارے میں جس طرح کے رجحانات عام کیے گئے ہیں، انھیں سو مؤرخین بھی درست نہیں کر سکتے۔ اشوک کمار پانڈے نے یہ کوشش کی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ موضوع بہت پیچیدہ ہے۔ اس پر انھی کو آگے آکر بات کرنی چاہیے،جو کشمیر پر پڑھتے رہے ہیں۔

 

 

90 کی دہائی میں بہت سے کشمیری پنڈت وادی میں رہ گئے، سکھ بھی رہتے آئے ہیں۔ ہم ان کے تجربات سے واقف نہیں ہیں۔ انھیں کبھی بھی اس بحث میں نہیں لایا جاتا کہ ان کے خاندانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، جب کہ 90 کے بعد بھی وادی میں دہشت کا دور جاری تھا تو وہ کیوں ٹھہرے رہے؟

گزشتہ سال اکتوبر میں سری نگر میں ماکھن لال بندرو کا قتل کر دیا گیا ۔ ماکھن لال بندرو کی ادویات کی دکان تھی اور دہشت گردانہ حملے کے دنوں میں بھی ان کی دکان کھلی رہی۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ انھیں کیوں قتل کیا گیا اور اس قتل کے بعد کشمیری عوام کا کیا رد عمل تھا؟

حال ہی میں فلم شکارا آئی تھی، جو کشمیری پنڈتوں کے قتل اور ان کی نقل مکانی ہی پر مبنی ہے۔ فلم کے رائٹر راہل پنڈتا اور ہدایت کار ودھو ونود چوپڑا دونوں کشمیری پنڈت ہیں۔ دونوں کے گھر جل گئے اور چھوٹ گئے، کئی رشتے دار مارے گئے۔ بی جے پی فلم شکارا پر خاموش کیوں رہی؟ بلکہ اس فلم کو لے کر دونوں کو ٹرول کیا گیا۔ راہل پنڈتا اور ودھو ونود چوپڑا کو کیوں ٹرول کیا گیا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ بی جے پی اور سنگھ والوں نے فلم شکارا کی تشہیر کیوں نہیں کی؟ جواب تب ملے گا، جب آپ شکارا کو دیکھیں گے، دیکھا جانا چاہیے کہ دونوں میں کیا فرق ہے۔

ترجمہ:نایاب حسن

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*