مسلم ایجوکیشنل کانفرنس میں علامہ شبلی کا حصہ : باتیں عروج اور زوال کی ۔ شکیل رشید

ماہرِ شبلیات ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی نئی کتاب ’’ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس میں علامہ شبلی کا حصہ ‘‘ پڑھ کر ، خوب اندازہ ہوجاتا ہے کہ نہ ’ قومی زوال کا رونا نیا ہے ‘ ، اور نہ ہی ’ مسائل پر سینہ کوبی کرنا ‘ نئی بات ہے ۔ زوال کی باتیں گزرے ہوئے کل میں بھی ہوتی تھیں ، اور آج ہی جیسے مسائل ، گزرے ہوئے کل کو بھی چھڑتے تھے ۔ ہاں ’ کل ‘ اور ’ آج ‘ میں ایک بڑا فرق ضرور ہے ، ’ خلوص ‘ کا فرق ۔ پہلے خلوص ، آج کی طرح دکھاوے کا نہیں تھا ۔ سماجی ، معاشی اور تعلیمی میدان میں ، آج مسلمانوں کی جو بھی شناخت ہے ، وہ اسی ’ خلوص ‘ کا نتیجہ ہے ۔ ورنہ آج مسلمان ، شایدہمیشہ کے لیے زوال کے ساتویں طبق میں پڑے ہوتے ۔ ویسے تو یہ کتاب ، ڈاکٹر الیاس الاعظمی کی ، علامہ شبلی نعمانیؒ کے سلسلے کی کتابوں میں سے ہی ایک ہے ، لیکن پہلے کی کتابوں سے بہت مختلف ۔ اس کتاب میں ، علامہ شبلیؒ کے حوالے سے ’’ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس ‘‘ کی ، اور کانفرنس کے حوالے سے مسلمانانِ ہند کے عروج اور زوال کی ، اور مخلصین کی ناقدری کی ’ تاریخ ‘ بیان کی گئی ہے ۔ میں نے لفظ ’ تاریخ ‘ کو وواین میں ، اس بات پر زور دینے کے لیے لکھا ہے ، کہ یہ ’ تاریخ ‘ کی کوئی ٹھس اکیڈمک کتاب نہیں ہے ، یہ احساسات پر ضرب لگانے والی کتاب ہے ، اسے دل کی زبان سے لکھا گیا ہے ۔
کتاب پر بات کرنے سے پہلے ، ڈپٹی ڈائریکٹر دارالمصنفین اعظم گڑھ ، ڈاکٹر فخرالاسلام اعظمی کے تحریر کردہ ’ پیش لفظ ‘ پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں ۔ ڈاکٹر فخرالاسلام اعظمی نے اپنے ’ پیش لفظ ‘ میں ایک بہت ہی اہم اور قابلِ غور بات کی جانب اشارہ کیا ہے ، وہ لکھتے ہیں ’’ یہ بڑی حیرت کا مقام ہے کہ جس ایجوکیشنل کانفرنس نے ہندوستانی باشندوں کو فکری غذا فراہم کرنے اور تعلیم کے تئیں عوام و خواص کو حساس اور فکر مند بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا اس سے متعلق کوئی ایسی کتاب نہیں لکھی گئی جس میں اس تحریک کے عہد بہ عہد ارتقا اور اس کے ہمہ گیر اثرات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہو ۔ بعض کتابوں میں کانفرنس کے بعض پہلوؤں سے بحث ضرور کی گئی ہے لیکن اس کا نفرنس کی تمام کاروائیوں اور کارگذاریوں کی مکمل معلومات کی خواہش رکھنے والوں کو یقیناً مایوسی ہوگی ۔‘‘ کیا ایک ایسے ادارے کی تاریخ سے ، جس کا مسلمانوں کی تعلیمی تحریک میں اہم ترین کردار ہے ، لوگوں کو نابلد رکھنا ’ خیانت ‘ نہیں ہے؟ یہ خیانت بھی ہے اور ناقدری بھی ۔ افسوس تو یہ ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تک نے ، کہ کانفرنس کی بنیاد سرسید احمد خان ؒ نے رکھی تھی ، اس پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ ڈاکٹر فخر الاسلام اعظمی نے ، کتاب کے مصنف کے تئیں جو یہ لکھا ہے کہ ’’ ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی نے زیر نظر کتاب لکھ کر علمی دنیا کی اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے ،‘‘ وہ بالکل بجا ہے ۔ کتاب کے ’ دیباچہ ‘ میں ، مصنف نے بھی اس افسوس ناک حقیقت کا ذکر کیا ہے ، وہ لکھتے ہیں ، ’’ سچ تو یہ ہے کہ اب تک آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس کی عظیم الشان تعلیمی خدمات اور اس کی طویل تاریخ کا مفصل مطالعہ و جائزہ پیش ہی نہیں کیا جا سکا ہے ۔ حالانکہ مسلمانوں کی تعلیمی زندگی پر کسی اور تحریک کے شاید ہی اتنے اثرات مرتب ہوئے ہوں جتنے ایجوکیشنل کانفرنس کے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ کتاب لکھنے کی جو وجوہ بیان کی ہیں ، ان میں سے ایک وجہ یہ ہے ، ’’ اس تصنیف کا بنیادی مقصد علامہ شبلی نعمانیؒ نے آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے قیام و استحکام اور مسلمانوں کی تعلیمی ترقی میں جو کردار ادا کیا یا جو ان کا بنیادی حصہ ہے ، اس کی وضاحت و تفصیل قلم بند کرنی ہے ۔ نیز کانفرنس کے حوالہ سے علامہ شبلیؒ نے جو علمی ، تعلیمی ، قومی ، ملّی اور تاریخی خدمات انجام دیں ان کے مطالعہ و تجزیہ کے ساتھ ان کی منظوم و منشور تحریروں کو یکجا کرنا ہے جو انہوں نے آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاسوں میں پیش کی تھیں اور جن سے ہمارے تعلیمی نظام اور تعلیمی نقطۂ نظر کی اصلاح میں بہت کچھ مدد ملی ۔ ‘‘ گویا کہ اس کتاب کے لکھنے کا ایک مقصد ، علامہ شبلیؒ کی منظوم اور نثری تحریروں کو جمع کرنا ، اور دوسرا مقصد علامہ کے حوالے سے کانفرنس کی درست تصویر ، آج کی نسل کے سامنے رکھنا ہے۔
کتاب کا آغاز مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے قیام کی مختصر تاریخ سے کیا گیا ہے ۔ سر سید احمد خانؒ نے۲۷ ، دسمبر۱۸۸۶ء کو کانفرنس کی داغ بیل ڈالی ۔ بانیان میں مولوی سمیع اللہ خان ، نواب محسن الملک ، مولانا الطاف حسین حالی ، نواب وقار الملک اور علامہ شبلی ؒوغیرہ بھی شامل تھے ۔ سب جانتے ہیں کہ ۱۸۵۷ء کی ناکام جنگِ آزادی کے بعد مسلمان سیاسی زوال کے ساتھ تہذیبی و تمدنی زوال سے بھی دوچار ہوئے ، جس کے نتائج انتہائی تکلیف دہ تھے ۔ سر سید احمد خان ؒ نےمضمرات کو محسوس کیا اور مسلمانوں کو قعر مذلت سے نکالنے کے لیے میدان میں اتر کر اور بہت کچھ قربان کر کے کام شروع کیا ، ان کے رفقا ان کے ساتھ تھے ۔ پہلے ایم اے او کالج علی گڑھ کی بنیاد ڈالی ، جو آج مسلم یونیورسٹی ہے ، اور پھر کانفرنس کا قیام کیا ۔ قیام کے موقع کا خطبہ ، بقول ڈاکٹر اعظمی ، ’’ ان کے ( سرسید ؒ کے ) دل کی آواز بھی تھا اور ملت کے دل کی بھی ۔‘‘ سرسید ؒ نے اپنے خطبہ میں مسلمانوں کی حالت کے تنزل کا ذکر کیا ، کہا کہ سیاسی امور پر بحث کرنے سے نہیں مسلمانوں کی قومی ترقی صرف تعلیم ہی کے ذریعے ہو گی ، زور دیا کہ مسلمان آپس میں ملیں ، قومی بھلائی ، قومی تعلیم ، قومی ترقی کے لیے جمع ہوں تاکہ قومی ہمدردی پیدا ہو یا جو کچھ وہ ہے اس میں اضافہ ہو ۔ طئے کیا کہ سال میں ایک جلسہ ہو تاکہ تعلیم کی ترقی میں قومی اتفاق اور قومی امداد سے کوشش کی جا سکے ۔ مقاصد میں اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے ساتھ تصنیف و تالیف کے کام بھی تھے ، بعد میں جیسے جیسے اجلاس ہوتے گیے ، قراردادیں پیش ہوتی رہیں ، اور مقاصد کا دائرہ وسیع ہوتا گیا ۔ آگے کے صفحات میں ، کہیں تفصیل کے ساتھ اور کہیں مختصراً ، کانفرنس کے اجلاسوں کی روداد پیش کی گئی ہے ، کُل ۲۶ روداد ۔ یہ رودادیں اپنے اندر اُس ’ کل ‘ کو سموئے ہوئے ہیں جو مسلمانانِ ہند کی تعلیمی تنزلی کا بھی شاہد ہے اور اس تنزلی سے قوم کو باہر نکالنے کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا بھی ۔ پہلا اجلاس ۲۷ تا ۲۹ ،ستمبر ۱۸۸۶ء کو علی گڑھ میں ، مولوی سمیع اللہ کی صدارات میں منعقد ہوا ، لیکن اس کے روحِ رواں سرسیدؒ تھے ، انھی کو کانفرنس کی تاریخ کا پہلا رزولیشن پیش کرنے کا شرف حاصل ہوا ۔ دوسرا رزولیشن علامہ شبلیؒ نے پیش کیاتھا ۔ انھوں نے اپنے خطبہ میں سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے کم حصے کو اجاگر کیا ، مسلمانوں کے اپنے قومی اخبار کے نہ ہونے پر افسوس جتایا ، اپنے حقوق ظاہر کرنے کے لیے ذرائع کے نہ ہونے کی بات کی ، اور کہا کہ ان سب کی وجہ ، اعلی تعلیم کا نہ ہونا ہے ۔ انھوں نے انگریزی ، سائنس اور لٹریچر کی تعلیم کو ضروری قرار دیا ۔ اس اجلاس میں حکومت سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ مغربی علوم کی تعلیم دے اور مشرقی علوم کو مسلمانوں کے لیے چھوڑ دے ۔ ایک فیصلہ یہ کیا گیا کہ مکاتب کی توسیع کی جائے اور حفظِ قرآن کی طرف خصوصی توجہ دی جائے ۔
کانفرنس کے بعد کے اجلاسوں میں بھی اہم فیصلے کیے گیے ، مثلاً اعلیٰ تعلیم کے لیے مسلمان طلبہ کو وظائف دیے جانے کا انتظام کرنا ، اوقاف کے روپیے کو انگریزی اور جدید تعلیم پر خرچ کرنا ، یہ اپیل کہ زکوۃ کے پیسے کو مسلمان بچوں کی تعلیم پر خرچ کیا جائے ، ٹیکنیکل تعلیم کے لیے علاحدہ ادارے کھولنے کا منصوبہ ، کم عمر بچوں کے لیے نصابِ تعلیم کی تیاری پر توجہ مبذول کرانا ، علمی اور ادبی منصوبوں کی تکمیل کے فیصلے ، کانفرنس کی طرف سے اہم کتابوں کی اشاعت کا منصوبہ ، تعلیمِ نسواں کو ترقی دینے کا فیصلہ ، مسلم طلبہ کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں ہوسٹلوں کے قیام کا ٖفیصلہ ، مسلم یونیورسٹی کے قیام کے لیے جدوجہد میں تیزی ، تحریک ندوہ کی حمایت ، انجمن ترقی اردو کا قیام وغیرہ وغیرہ ۔ کانفرنس نے بہت کام کیے ، بہت سے مسائل حل کیے ، مسلمانوں کی تنزلی کے بہت سے اسباب کا سدِ باب کرنے کی مخلصانہ کوششیں کیں ۔ مسائل آج بھی ہیں لیکن آج کوئی سرسید ؒ اور شبلیؒ نہیں ہے ۔ خیر ، جیسا کہ ہوتا آیا ہے کانفرنس کی کامیابی کے ساتھ کچھ مسائل بھی کھڑے ہوئے اور کچھ مخالفتیں بھی ہوئیں نتیجتاً سرسید ؒ کچھ ایسے پریشان ہوئے کہ انھوں نے کانفرنس کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ، لیکن علامہ شبلی ؒ نے اس موقع پر زوردار خطاب کیا اور سرسید ؒ کو منا لیا ۔ شبلیؒ کا کہنا تھا کہ ،کانفرنس کے قیام کے اسباب و مقاصد درست ہیں اور اس کے مفید نتائج بھی برآمد ہونے لگے ہیں ۔ ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی نے بڑی محنت سے کانفرنس کی رودادوں کو جمع کیا ہے اور اُن میں جن امور پر بات کی گئی اور جن اشخاص کا تذکرہ ہے ، ان کے بارے میں بھی تحقیق کر کے معلومات فراہم کی ہیں ۔ سرسید ؒ کی موت کے بعد ، علامہ شبلی نعمانی ؒ کے ساتھ ، کانفرنس کے ذمے داران کے افسوس ناک رویے کا ذکر بھی کتاب میں شامل ہے ۔ ڈاکٹر اعظمی لکھتے ہیں ،’’ کانفرنس کے ابتدائی دور میں یعنی عہدِ سرسید ؒ میں جو لوگ کانفرنس سے وابستہ ہوئے ، ان میں نواب محسن الملک اور مولانا حالی وغیرہ سب کو کانفرنس کی صدارت کی عزت بخشی گئی اور اگر یہ اعزاز نہیں دیا گیا تو علامہ شبلیؒ کو نہیں دیا گیا ۔‘‘ یہی نہیں انجمن ترقی اردو سے بھی شبلیؒ کو استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا تھا ۔ کئی اجلاسوں میں اُن کے ساتھ بے اعتنائی برتی گئی تھی ۔ اور ان کے اُن خطبات کے ساتھ ، جو کانفرنس میں دیے گیے تھے ، بقول ڈاکٹر اعظمی ، ’’ ہمارا رویہ مثبت نہیں رہا ، چنانچہ ان میں چند کے سوا خطبات شبلیؒ میں شامل نہیں ہیں ۔‘‘ اس کتاب میں ’’ مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم ‘‘ یہ خطبہ مکمل شامل ہے ۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ آج مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کس حال میں ہے ؟ کہا تو یہ جا رہا ہے کہ کانفرنس ختم نہیں ہوئی ہے ، لیکن سچ یہی ہے کہ اب اس کا وجود اور عدم وجود برابر ہے ، نہ اس کے اجلاس ہوتے ہیں اور نہ اس کے منصوبوں پر عمل ہو رہا ہے ۔ علی گڑھ کے ایک سفر میں ، کوئی ۲۵ برس قبل ، کانفرنس کے دفتر جانا ہوا تھا ، اجڑا ہوا دفتر ، شاید اب وہ بھی نہ ہو ۔ وہاں سے کئی کتابیں خریدی تھیں ، ’ حیاتِ محسن ‘، ’ وقار حیات ‘، ’ مالابار ‘، ’ تاریخ صولت شاہی ‘ کانفرنس کی سو سالہ روداد ، اور نہ جانے کیا کیا ، پتہ چلا کہ اب کتابیں نہ بچی ہیں نہ شائع ہو رہی ہیں ۔ خیر یہ تو ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا ۔ ڈاکٹر اعظمی نے بالکل درست لکھا ہے ،’’ میں اپنے عہد میں کسی کے ساتھ اس طرح کی زیادتیاں دیکھتا ہوں تو خیال ہوتا تھا کہ یہ زوال کی نشانیاں ہیں مگر مذکورہ واقعات کے علم میں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ ہماری قوم میں اس کا سلسلہ بڑا پرانا ہے اور زوال و ادبار کی جو گھٹا چھائی ہوئی ہے اور ہلاکت اپنا جو سماں دکھلا رہی ہے ، اس کے اسباب ہم سے پہلے والوں کی سرشت میں بھی شامل ہو گیے تھے ۔ گویا ہماری بربادی کے اسباب پہلے سے ہماری قوم میں موجود ہیں ۔‘‘ یہ کتاب ہم سب کی آنکھیں کھول سکتی ہے اس لیے اس کا مطالعہ ضروری ہے ۔ کتاب میں حواشی بہت قیمتی ہیں ۔ اس اہم کتاب کو ’ دارالمصنفین شبلی اکیڈمی ، اعظم گڑھ ‘ نے اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ صفحات ۳۰۳ ہیں اور قیمت ۳۵۰ روپیہ ۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے ’ شبلی اکیڈمی ‘ سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*