شعرِ بے اختیار کا شاعر حفیظ میرٹھی

آفتاب احمد منیری
ریسرچ اسکالر جواہر لال نہرو یونیورسٹی

ہماری شاعری میں بہت سے نام ایسے ہیں جن کی دلوں کو گرما دینے والی شاعری ادبی اور نظریاتی گروہ بندیوں کی نذر ہوکر رہ گئی۔
ذاتی منفعتوں سے اپر اٹھ کر پرورش لوح و قلم کرنے والے غیور شعرا (جنہوں نے کبھی اپنی بیاض کو کشکول گدائی بنانا پسند نہیں کیا) کی صفوں میں ایک نام ایسا بھی ہے جسے اردو تنقید نے قادرالکلام شعراکی فہرست میں شامل کی اہے لیکن ادب کے قاضیوں نے کبھی انھیں وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔ کلاسکی اردو شاعری کے اسن نمائندہ شاعر کا نام حفیظ میرٹھی ہے جس کی غزلوں میں انسانی جذبات و احساسات کا دریا موجذن ہے نیز اس شاری کی پس پردہ حقیقی محبت کی متلاشی آنکھوں کا کرب بھی نظر آتا ہے۔
چاہے تن من سے جل جائے
سوزدروں پر آنچ نہ آئے
شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے
دل ٹوٹے آواز نہ آئے
حصار جبر میں زندہ بدن جلائے گئے
کسی نے دم نہیں مارا مگر دھواں بولا
حفیظ کی شاعری کا نشان امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے فرد کے داخلی کرب کو اشارے کنائے میںبیان کیا ہے لیکن ان کی غزلوں میں خیالات کی طغیانی اس قدر ہے کہ ان سے عشق کا کوئی پہلو چھوٹنے نہیں پاتا۔ مثلاً وہ حدیث دلبری بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ انکشاف بھی کرتے ہیں کہ مرغ بسمل کے تڑپنے کا منظر کیا ہوتا۔

بے سہاروں کا انتظام کرو
یعنی ایک اور قتل عام کرو
حصار جبر میں زندہ بدن جلائے گئے
کسی نے دم نہیں مارا مگر دھواں بولا…
مندرجہ بالا اشعار میں آج کی سیاست کے مکروہ چہرے کو جس خوبصورتی کے ساتھ شاعر نے بے نقاب کیا ہے یہ انداز سخن انھیں زندگی کی بصیرتوں سے ہم کنار کرتا ہے۔ خصوصی طور پر جب حفیظ کا یہ شعر سمعاتوں سے ٹکراتا ہے تو اس کے سیاق میں آج کی سسکتی انسانیت کا ایک اور ہولناک منظر آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگتا ہے۔
حصار جبر میں زندہ بدن جلائے گئے
کسی نے دم نہیں مارا مگر دھواں بولا…
حفیظ میرٹھی کی غزلوں کا نمایا ترین وصف زبان و بیان کی شگفتگی کے ساتھ قاری سے ہم کلام ہوتی وہ آواز ہے جو سامع کو مسحور کر دیتی ہے۔
حفیظ کا نظریاتی انسلاک تحریک ادب اسلامی سے تھا، جس کا واضح اظہار ان کی شاعری کے ذریعہ ہوتا ہے۔ جہاں ایک طرف انھوں نے اردو کی کلاسکی شعری روایات کی پیروی کرتے ہوئے مادی زندگی کے کرب اور انتشار کو اپنی غزل کا موضوع بنایا۔ وہیں دوسری جانب انھوں نے اپنے پیش رو اقبال کی فکر کا احیاء کرتے ہوئے اپنی شعری تخلیقات میں اس مرد مومن کو تلاشنے کی کوشش کی ہے جو آزادیٔ نوع بشر کے خوابوں میں حقیقت کا رنگ بھر سکتا ہے۔ حفیظ کی غزل اس دعویٰ کو سند اعتبار عطا کرتی ہے جہاں دیگر شعرائے غزل کی مانند اخلاقی قدروں کے مٹ جانے یا تہذیب و تمدن کے مدفن پرمشینوں کے شہرآباد ہوجانے کا ماتم نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ یہاں یقین و اعتماد کا ایک دریا موجزن ہے اور صبح امید کی ایک روشن کرن قاری کو یہ پیغام دے رہی ہے:
دیکھ کر رنگ چمن ہونا پریشاں مالی
کوکبِ غنچہ سے شاخیں ہیں چکنے والی
حفیظ کی غزل کا موضوعاتی مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ان کے اشعار خیال کی گہرائی اور شوخی گفتار پر بار نہیں بنتے اور نہ ہی شاعر کارنج و غم شعر کو بوجھل کرتا ہے۔
یہ بانکپن ہے ہمارا کہ ظلم پر ہم نے
بجائے نالۂ و فریاد شاعری کی ہے
حفیظ کی غزلوں میں پنہاں رجائیت پسندی در اصل ان کی حقیقت شناسی ہے وہ اپنے پیش رو حالی اور اقبال کی طرح ہی تنقید حیات کو شاعری کااصل منصب تصور کرتے تھے۔ انھیں احمقوں کی جنت میں رہنا گوارہ نہیں تھا، بلکہ وہ انقلاب وقت کے مختلف مراحل سے باخبر رہتے تھے۔ ان کی اسی طرز شاعری کا نفیس اظہار اس شعر میں ہوا ہے۔
آئے گا اس چمن میں تصرف کا وقت بھی
پہلے قفس کی آب و ہوا دیکھتے چلیں
ایمرجنسی کے زمانے میں حکومت وقت نے جن باضمیر فنکاروں کو ان کی حق گوئی کے جرم میں قید زنداں میں ڈالا ان میں حفیظ بھی شامل تھے۔ ان آزمائش کے لمحوں میں دل شکستہ ہوئے بغیر حفیظ نے ان انقلابی اشعار کے ذریعہ حالات کی ستم ظریفوں کی بھرپور ترجمانی کی۔
آج کچھ ایسا طے پایا حق کے اجارہ داروں میں
جو ہم پر ایمان نہ لائے چنوا دو دیواروں میں
ہر ظالم سے ٹکر لی ہے سچے فنکاروں نے حفیظ
ہم وہ نہیں جو ڈر کر کہہ دیں ہم ہیں تابعدادروں میں
جہاں تک فن شاعری کے آداب بجا لانے کا سوال ہے تو حفیظ کی غزل کا تنقیدی مطالعہ ہمیں یہ کہنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے کہ ان کے کلام میں زبان کی فصاحت ، لطافت خیال، حسنِ بیان، جذبات نگاری اثر آفرینی اور جدت طرازی یہ تمام عناصر شعری بدرجہ اتم موجود نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میں اختر انصاری کے یہ الفاظ دلیل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
حفیظ کے یہاں غزل کی روایت کی پاسداری بھی ہے اور غزل کی فنی لوازم کا احترام بھی۔ غزل کے رموز و علائم کو انھوں نے سلیقے کے ساتھ برتا ہے۔ بہت سی علامتوں کو ان کے فرمودہ بے جان متعلقات کے ساتھ ترک کر دیا ہے۔ مفید اور کارآمد علامتوں کے امکانات سے فائدہ اٹھایا ہے اور تقریباً ہر جگہ تخیل اور جذبات کی خلاقانہ قوت سے کام لینے کی کوشش کی ہے۔۱
حفیظ میرٹھی کی غزل کے سیاق میں تحریر کیے گئے اختر انصاری کے یہ الفاظ محض رسمی نہیں ہیں، حفیظ کی شاعری اس کی منطقی بنیادیں بھی فراہم کرتی ہے جس کا مطالعہ قاری کو یہ پیغام دیتا ہے کہ یہاں ابتدا تا انتہا تصنع کا کوئی دخل نہیں۔ یہاں وہ اثرانگیز شاعری ہے جس کے وسیلے اس باکمال سخنورنے تاررباب کے ساتھ محشر خیال بن جانے والی دکھتی رگوں پر بھی انگلیاں رکھ دیں…
رعنائی افکارو خیالات کا مطلب
عریانی افکار و خیالات نہیںہے
اب کھل کے کہو بات تو کچھ بات بنے گی
یہ دور اشارات و کنایات نہیں ہے
مدتوں پھول سمجھتی رہی ان کو دنیا
ہم نے تو زخم بھی رکھے ہیں سجا کر اتنے
اس بدنصیب شہر میں چلتے ہیں آدمی
اک دوسرے کے سائے سے بچ کر الگ الگ
انسانی زندگی میں پیش نے والے خوشی اور غم کے لمحات انسان کو انتہاپسند بنا دیتے ہیںاوردونوں صورتوں میں انسان حد سے گزر جاتا ہے۔ تاریخ میں بہت کم ایسے واقعات نکل کر سامنے آتے ہیں جب انسان نے صبروشکر کی تصویر بن کر ان لمحوں کو جیا ہے۔ حفیظ میرٹھی ایسے ہی عظیم انسانوں کی روایت کے امین تھے وہ تمام عمر صبر و شکر کا پیکر بنے رہے۔ ایمرجنسی کے دنوں میں ایام اسیری کے دوران ان کا لخت جگر خالق حقیقی سے جاملا ۔ آزمائش کی اس مشکل ترین گھڑی میں بھی حفیظ کے حوصلوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ انھوں نے اپنے اس غم کو شعر کے سانچے میں ڈھالا بھی تو کچھ اس انداز میں گویا کہ قول رسول ﷺ ’’غم میرا رفیق ہے‘‘ کے ترجمان بن گئے…
غم بھی ایک احسان ہے اس کا شکر اکر اے دل شکوہ کیا
غم تو ہماری روح رواں ہے ہم نہیں غم کے ماروں میں
انسان طبعی اعتبار سے کمزور پیدا کیا گیا ہے اور بات اگر شاعر کی کریں تو معاشرہ کے حساس ترین فرد ہونے کی حیثیت سے اس کی جذباتی کیفیت دریا کی تلاطم خیز موجوں کے مساوی ہوتی ہے۔ ایک تخلیق کار کے لیے یہ مشکل ترین مسئلہ ہے کہ وہ اپنے داخلی احساسات کے اظہار سے خود کو باز رکھ سکے۔ لیکن حفیظ کے اندر پایا جانے ولا تعمیر حیات کا بے پایاں حوصلہ ان کے کام آیا اور وہ سلامتی کے ساتھ اس آگ کے دریا سے پار نکل گئے۔ ان کا یہ شعر اسی کیفیت کی غمازی کرتا ہے۔
اب بھی حوصلہ ہے کسی کام آسکوں
میں ٹوٹ گیا ہوں بکھرنے نہ دے مجھے
حفیظ حوادث دوراں کے رمزشناس ہونے کے ساتھ ہی ایک صاحب ذوق انسان بھی تھے۔ اگر ایک طرف ان کی غزلوں میں دھوپ کی تمازت ہے تو دوسری جانب نسیم صبح کی فرحت بخش اور مدحوش کردینے والی دنیا بھی آباد ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو حفیظ حالص غزل کے شاعر ہیں، جن کے یہاں غزل کا ہر رنگ موجود نظر آتا ہے۔ معاملات حسن وعشق کے رارزداں بن کر حفیظ نے اپنی غزل کو جوسوزوگداز عطا کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے:
چاہے تن من سب جل جائے
سوزدروں پر آنچ نہ آئے
شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے
دل ٹوٹے آواز نہ آئے
ائے وائے مجبوری انساں
کیا سوچے اور کیا ہوجائے
مئے خانے کی سمت نہ جانا
جانے کون نظر آجائے
یہ محض اتفاق نہیں ک جدید اردو غزل کے اس نمائندہ شاعر نے جدیدیت کے ستعار ادبی رویے سے کنارہ کش ہو کر مشرقی شعریات کو فروغ دیا اور وجودیت سے پیدا شدہ مسائل نیز فرد کی تنہائی اور احساسات شکست جیسے منفی تصورات کو رد کرتے ہوئے قارئین ادب کو تہذیب غزل سے متعارف کرایا۔
اس شعوری اقدام کے پس پردا یہ تعمیر پسند نظریۂ حیات کام کر رہا تھا کہ اپنے فطر ی حسن سے محروم ہو چکی انسانیت کو از سرِ نوزیست کی رعنائیاں عطا کی جائیں۔ مندرجہ ذیل اشعار کو حفیظ کی اسی شعری انفرادیت کا بلیغ اظہار قرار دیا جا سکتا ہے:
اس دیوانے دل کو دیکھو کیا شیوہ اپنائے ہے
اس پرہی وشواس کرے ہے جس سے دھوکہ کھائے ہے
سارا کلیجہ کٹ کٹ کر جب اشکوں میں بہہ جائے ہے
تب کوئی فرہاد بنے ہے تب مجنوں کہلائے ہے
تم نے مجھ کو رنج دیا تو اس میں تمہارا روش نہیں
پھول بھی کانٹا بن جائے ہے وقت براجب آئے ہے
مذکورہ اشعار میں موجودہ تکرار لفظی کا حسن، سوز و گداز اور فکری بہاؤ ہمیں کلاسکی اردو غزل کی یاد دلاتا ہے۔ موضوع اوراسلوب کی سطح پر قاری کو ان اشعار میں میر و غالب کا عکس بھی نظر آتا ہے۔ خصوصی طور پر یہ شعر:
سارا کلیجہ کٹ کٹ کر جب اشکوں میں بہ جائے ہے
تب کوئی فرہاد بنے ہے تب مجنوں کہلائے ہے
حفیظ نظریاتی اعتبار سے تحریک ادب اسلامی سے وابستہ تھے۔ لہٰذا شاعری ان کے نزدیک دنیا کی ظلمتوں کے خلاف بلند ہونے والی وہ توانا آواز تھی جس سے باطل کے ایوان لرز جاتے ہیں۔ وہ اپنے تخیلات اور گردش ایام کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس نتیجہ تک پہونچے کہ ظلم پر مبنی نظام کی بدولت ہی آدم کی ذریت ہر چہار جانب مظلومیت کی تصویر بنی ہوئی ہے اور فضائے بیسط میں ایک مجرمانہ سکوت طاری ہے۔ اس مقام پر آکر حفیظ موجودہ باطل نظام کے خلاف سراپہ احتجاج بن جاتے ہیں:
ہائے یہ کیا مقام ہے ہائے کہ کیا نظام ہے
عشق کی آستیں بھی نم حسن کی آستیں بھی نم
چلا وہ دور ستم گھر میں چھپ کے بیٹھ گئے
جو ہر صلیب کو مردانہ وار دیکھتے ہیں
اپنے خون دل سے داستان حیات رقم کرنے والے شاعر حفیظ میرٹھی کی روداد سخن کو میں نثار احمد فاروقی کی درج ذیل آرا کے ساتھ ختم کرتا ہوں۔
’’مجھے اس حقیقت کے اظہار میں کوئی تامل نہیں کہ شاعری میں حفیظ کا اپنا اسلوب ہے۔ اپنا رنگ ہے۔ ان کی شاعری مقصدیت سے خالی نہیں اور یہ فن کی وہ منزل ہے جس کی افادیت ہمیشہ باقی رہے گی۔ اس شاعری کے آئینے میں ہمارا عہد ہی نظر نہیں آئے گا بلکہ آنے والی نسلیں اپنے عہد کو بھی ان ہی الفاظ کے پردوں میں تلاش کر سکیں گی۔‘‘ ۲
حواشی:
۱۔ حفیظ میرٹھی ـ’’شعروشعور‘‘ ادارہ ادب اسلامی ہند دہلی ۲۰۰۰ء
۲۔حفیظ میرٹھی، فن اور شخصیت، مرتبین انظار نعیم عزیز بگھروی ادارہ ادب اسلامی ہند دہلی ۲۰۰۰ء
۳۔ کلیات حفیظ، حفیظ میرٹھی، مرکزی مکتہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*