شہزادہ پرویز عالم ـ امیر حمزہ

یہ میری بد قسمتی تھی کہ ڈاکٹر اقبال برکی سے اس کتاب سے پہلے کسی قسم کی بھی شناسائی نہیں تھی ۔ انہوں نے نہیں معلوم کہاں سے میرا نمبر حاصل کیا اور واٹس ایپ کے ذریعہ میرا حالیہ پتہ دریافت کیا ، تب بھی مجھے معلوم نہیں تھا کہ کون صاحب ہیں اور کیوں میرا پتہ دریافت کررہے ہیں ۔ خیر جب ان کی یہ تینوں کتابیں مجھ تک پہنچیں، تو خوشی ہوئی ۔ جب اس میں بچوں کا ناول ’’شہزادہ پرویز عالم ‘‘ دیکھا تو اور بھی خوشی ہوئی ۔ بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے والے ادیبوں کی کثر ت ہے لیکن بچوں کے لیے ناول لکھنے والوں کی تعدا د شاید دس تک بھی نہیں پہنچتی،کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام نے خارجی مطالعے کو بچوں کے نظام الاوقات سے بالکل خارج کر دیا ہے اور دلچسپی نے کچھ اور راہ اختیار کرلی ہے ۔ حقیقت ہے کہ اب بہت ہی کم ادب بچوں کے لیے لکھا جارہا بلکہ بچوں کا ادیب بننے کے لیے بچوں کا ادب لکھا جارہا ہے ۔ صاف سی بات ہے مسئلہ قاری کا ہے ۔ایک زمانہ تھا جب قاری ملکی سطح پر ملتے تھے ۔ ابھی اگر صرف مالیگاؤں کی بات کی جائے تو وہاں تقریبا ًبیس ایسے افراد مل جائیں گے جو بچوں کا ادب لکھ رہے ہوں گے لیکن اگر بچوں کے درمیان ان تخلیق کاروں کے بارے میں معلوم کیا جائے تو جواب صفر میں آئے گا ۔ بچوں کی بات الگ گزشتہ سال ہی میر ی کتاب( ادب اطفا ل ۔ ادب اور ادیب) پر شکایت کرتے ہوئے ایک صاحب نے یہ کہا کہ اس کتاب میں مالیگاؤں کو نظر انداز کیا گیا ہے اور انہوں نے دو تین کتابوں اورمقالات کا ذکر کیا جن میں باضابطہ مالیگاؤں میں ادب اطفال پر خصوصی اور کافی تحریریں موجود ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے طور پر مالیگاؤ ں کے دس اہم ادیبوں کا ذکر کیا جن میں اتفاق سے ڈاکٹر اقبال برکی کا نام شامل نہیں تھا،جب کہ صرف بچوں پر ان کی تقریباً پندرہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں پھر بھی ان کا نام نہ ہونا اب مجھے باعث تعجب لگا ۔
خیر یہ ان کی آپس کی بات ہے ۔ کتاب ملنے کے دو دن بعد کل میں نے یہ کتاب پڑھنا شروع کیا تو بطو ر کہانی پڑھتا ہی چلا گیا اور 128 صفحات کو عصر سے رات سونے تک وقفہ وقفہ سے پڑ ھ کر مکمل کیا تو خاصا سرور اور سکون ملا یہی اس کتاب اور ادب کی کامیابی ہے کہ وہ آپ پر کوئی تاثر چھوڑجاتی ہے اور تھکاتی نہیں ہے ۔ ( زبانی سطح پر آج مجھ پر ایک انکشاف یہ ہوا کہ گزشتہ زمانے میں دلی اور لکھنؤ کی زبان ہوتی تھی لیکن آج اکیسویں صدی میں یونیورسٹیوں کی نثری زبان بھی کچھ اسی قسم کی ہے ، جہاں ایک مشہور یونی ورسٹی سے فارغ التحصیل ایسی نثر لکھتے ہیں جس کے ہر جملے میں خشک نظر یے نظر آتے ہیں ، حتی کہ تعزیتی تحریرمیں بھی تجریدیت ، علمیت اور جرمن عربیت کی بنت سے چاشنی سے خالی تحریر لکھ جاتے ہیں اور اس میں انہیں پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ معاون حروف کا معاون افعال سے رشتہ غلط مقام پر قائم ہورہا ہے ۔ وہ اردومیں عربی زدہ زبان کے خلاف رہے ہیں لیکن عربی الفاظ کو دُم بُریدہ کر کے وہ اپنے لیے نئے اسلوب کی دنیا تلاش کرتے ہیں ۔ اس کاسابقہ اس وقت پڑا جب کورس میں بطور ریفرینس بک اسی یونی ورسٹی کے ایک فاضل کی کتاب داخل تھی باوجود تمام کوشش کے ایک صفحہ کیا ایک پیرا گراف بھی نہیں پڑھاگیا) ـ جب آپ عمدہ زبان پڑھیں گے تو وہ آپ کو تھکائے گی نہیں بلکہ فرحت بخشے گی ، ساتھ ہی اس میں جملے رواں دواں ملیں گے ۔ اسی وجہ سے آپ کو زبان سیکھنے کے لیے انشاپردازوں کی کتابوں کی جانب رہنمائی کی جاتی ہے ۔ جہاں زبان کی چاشنی آپ کو بھر پور انداز میں ملے گی ۔اس کتا میں ناول نگاروں کی طرح بیچ بیچ میں اپنی کھوپڑ ی سے زبر دستی فلسفہ نما جملوں کو داخل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے ۔ اسلوب بالکل سادہ اور دلچسپ ہے زبان بالکل عام ہے جو ساتویں کلاس کا بچہ آسانی سے سمجھ سکے ۔
کہانی کا مکمل حصہ تو نہیں لیکن کچھ حصہ مافوق الفطری عناصر پرمشتمل ہے جو بچوں کوبہت زیادہ لبھاتا ہے ۔ شروع میں تخلیق کار نے اپنی بات شامل کر نے کی ایک مقام پر کوشش کی لیکن فوراً ہی کہانی پر واپس آگئے ۔ پھر آگے کہیں ایسا دیکھنے کو نہیں ملا ۔ بچوں کو باندھے رکھنے والاکر دار بدصورت لڑکی کا کردار ہے ۔ خوبصورت شہزادے کی کہانی میں کسی مقصد کا حصول نہیں ہے بلکہ مقصد تو اس لڑکی کی کہانی میں ہے جس کے حصول میں قاری بھی لگا رہتا ہے ۔ایک زبردست کمال اقبال برکی کی اس کتاب میں یہ نظر آئی کہ انہوں نے قاری کو کسی کردار کا ہمدرد بنانے کی کوشش نہیں کی جو عموما غیر شعوری طور پر فن کار کرجاتے، بلکہ یہ ان کا ہنر بھی ہے کہ ساری توانائی کسی ایک کردار کو سنوارنے میں صرف کردیتے ہیں پھر قاری سے پوچھتے ہیں کو آپ کو کون ساکردار اچھا لگا ، ایسے میں قاری کے پاس ایک کردار کے علاوہ دوسرے کردار کی گنجائش بھی نہیں بچتی ہے ۔ خیر ! کہانیوں میں ٹارگیٹ کا ذکر کرجانا قاری پر قابو پانے کا ایک خوبصورت حربہ ہے ، جو اس طرح بھی نہ کیا جائے کہ خبر بن جائے اور نہ اس طرح کیا جائے کہ قاری پر منشا کا اظہار بھی نہ ہوسکے ۔ کہانی میں زبان بہت ہی زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ بیانیہ ( یہ لفظ میں شاید پہلی مر تبہ استعمال کررہاہوں ) میں قاری پر کہانی میں موجود ہونے کی کیفیت طاری کرنے کے لیے ہمیشہ حال کا صیغہ استعمال ہوتا ہے۔ جس سے قاری ’’ ہوتا تھا ‘‘ سے نکل کر ’ہوا ‘ اور ’ہوتا ہے‘ میں آجائے ۔ جیسے ماضی کے اظہار کے لیے آپ دوجملے لکھیں گے ایک بہت پرانے زمانے کی بات ہے دوسرا بہت پرانے زمانے کی بات تھی ۔لا محالہ پہلے سے قاری اٹیچ ہوجائے گا اور دوسرے سے نہیں ہوپائے گا ۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ ہر مقام پر آپ ایسا معاملہ کریں، بلکہ متن کی جہری قرات سے آپ خود فیصلہ کریں کہ آپ کی زبان پر کیا اچھا لگ رہا ہے ۔
پر وف ریڈنگ کے پیشے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے مجھ میں ایک خراب عادت یہ آن پڑی ہے کہ حرف بحرف پوری تحریر پڑھتا ہوں اور قلم زد بھی کرتا جاتا ہوں، اس کتاب میں بھی کئی مقام پر عطف میں کوتاہی نظر آئی ، جہاں کا ما سے خوبصورتی آتی وہاں حرف عطف اور وصل کے استعمال نے کچھ اچھا نہیں کیا ۔ جملوں میں لفظ ’’ تھا‘‘ کئی مقام پر زائد محسوس ہوا ، ایسی چند اور چیزیں د یکھنے کو ملیں جن پرغور کیا جاسکتا ہے،لیکن کہانی کے پلاٹ ، ارتقا اور اختتام پر کوئی کلام نہیں ۔ اس کتاب سے احساس ہوا کہ یقینا اقبال برکی ایک عمدہ کہانی کار ہیں ۔