شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا(ذکی طارق بارہ بنکوی کی غزل گوئی کے آئینے میں)-ڈاکٹر صالحہ صدیقی  

 

salehasiddiquin@gmail.com

خیال کے مؤثر اظہار کابہترین وسیلہ شاعری ہے ؛ لیکن اس میں کامیابی کادارومدار اس بات پر ہے کہ شاعر کتناباشعور ہے ۔ اس کی نگاہ کتنی تیز ہے اور سماج میں رونماہونے والے تلخ وترش واقعات اور سنگین حادثات اس کے دل و دماغ اور حساس طبیعت پر کسی طرح اثرانداز ہوتے ہیں ۔ انسانیت کو ہدفِ ذلت بنتے دیکھ کر کیا اس کا دل درد سے تڑپ نہیں اٹھتا ہے۔ کیاوہ مظلوموں کی حمایت کو اپنے ذاتی مفادسے اوپر رکھتاہے۔ ؟ ذکی طارق اِن سوالات کی کسوٹی پر پوری طرح کھرے اُترتے ہیں ۔ ان کی غزلوںمیں زندگی کے آلام ومصائب، مسائلِ حیات اور ارضی واقعیت وحقیقت نمایاں طور پر جلوہ گر ہے۔شاعری میں حلاوت تازگی اور سادگی کا بھر پورعنصر ملتاہے جہاں گنگا جمنی تہذیب کے اقدار کی بحالی، اردو دوستی کی پیش رفت اور پیغام ہے وہیں ایک بہتر معاشرے کی آرزو اور تڑپ بھی ہے۔ان کی شاعری محض زبان دانی، محاورہ بندی اور قافیہ ردیف نہیں ہے۔ ان کے دل کی آواز ہے۔ذکی طارق کا نرالابیان ،ا نوکھا تخیل جذبات کے اظہار میں انہیں غیر معمولی قدرت دیتا ہے ۔ جس ہمہ گیر انداز میں انہوںنے شاعری کی ہے وہ بے مثال اور لافانی ہے ۔ان کی غزلوں کا یہ انداز دیکھیے :

غرقابِ قلزمِِ بلا کس کو صدائیں دے

تیرے علاوہ کون اچھالے اے میرے رب

میں نے اس کے کبھی نخرے دیکھے نہیں

زندگی خود مرے ناز اٹھاتی رہی

ضرور ان سے جنوںبردوش دیوانے گئے ہوںگے

پہاڑوں اور چٹانوں پہ جو رستے ہوئے سے ہیں

وہ،جس کو زمانہ ہوئے میں چھوڑ چکا ہوں

اس کے ہی لئے دل یہ دھڑکتا بھی ملا ہے

ذکی طارق نے بہترین غزلیں کہی ہیں ۔ذکی طارق غزل کے فن پر کماحقہ قادرنظر آتے ہیں ۔ ان کی زبان سلاست وفصاحت اور نزاکت ونفاست سے آراستہ ہے ۔ روایت اور جدّت کے خوشگوار امتزاج کی حامل ان کی غزلیات کو علامات واستعارات اور خوشنماامیجری کے استعمال نے دلہنوں والی خوبصورتی اور دلکشی عطاکی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کاغزلیہ کلام دل کوچھولیتاہے۔ان کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:

جس طرف دیکھئے موت ہی موت ہے

آکے اک قہرنے زندگی چھین لی

ہماری دوستی کو دیکھ کر کڑھتے ہیں بیچارے

جہاں والوں کی خاطر یار زحمت ہوگئے ہم تم

دور سے دیدار کی بس پوری ہونگی حسرتیں

جو بنادیںآشنا ایسی ملاقاتیں سکھا

بھر لوںمٹھی میں ستارے مجھے خواہش بھی ہے

کیا کروںمیری چھلانگوں میں یہ رفعت بھی نہیں

ذکی طارق کی غزلیہ شاعری دھنک رنگوں سے عبارت ہے۔ اردو غزل کے آسمان میں چاند تاروں کے ساتھ کہکشاں کی سجاوٹ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا دامن وسعت افلاک سے کم نہیں۔ ذکی طارق کی غزلیہ شاعری رنگ تغزل سے آراستہ ہے۔ ان کے یہاں روایت کے ساتھ عصر سے بھر پور استفادہ ملتا ہے۔ یُوں تو ذکی طارق نے ہر صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کے لہجے کی شناخت ان کی غزل ہی سے ہوتی ہے ۔ان کی غزل میں تغزل بہت ہے ، جتنا نِکھرا ہو ا رنگِ تغزل ان کے اکثر اشعار میں پایا جاتا ہے ان کے معاصرین میں بہت کم شعرا کو میسّر ہے کے غزل کہنے کا واقعی بالکل نیا و منفرد لب و لہجہ ہے ۔ایسا لب و لہجہ جس میں رومانیت بھی ہوتی ہے ۔عصری حسیت بھی ہوتی ہے ۔جمالیاتی وژن بھی ہوتا ہے ۔نفسیاتی رویے بھی ہوتے ہیں۔اقتصادی ،معاشرتی ،صنعتی اور سماجی عناصر بھی رہتے ہیں۔نیزوہ موضوعات و مسائل وہ چھوٹی بحروں میں بھی بیان کرتے ہیںاور بڑی بحروںمیں بھی ،اور سب سے خاص بات یہ کہ وہ جہاں لفظوں کا انتخاب کرتے ہیں ،نیز ان محاوروں اور کہاوتوں کو اشعار میں ایسے وصل کر دیتے ہیں جیسے سنگ مرمر میں یاقوت و زمرد کی پچکاری ۔ان کی غزل کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :

صد مرحبا وہ ہے مرا محبوب کے جس کو

مخمل سا بدن چاند سا چہرہ بھی ملا ہے

٭

یہ بیانِ غم غزل میں آپ لے آئے کہاں

اس سراپا ناز کے انداز کی باتیں کریں

بڑی خوبیوں والا ہے چارہ گر وہ

مداوائے دردِ جگر جانتا ہے

پاس آئی تو تھی زندگی صرف اشک

دور جب تک رہی مسکراتی رہی

بھول جائو ںمیں یار دنیا کو

مجھکو تو اتنا یاد آئے جا

جہاں تک بات فنی اوصاف کی ہے توذکی طارق کے کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں استعارہ وتشبیہ بھی بڑی فطری انداز میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ الفاظ نہایت سادہ اور عام فہم ہیں۔ الفاظ کی نشست میں فنکاری ملتی ہے۔ کلام میں روانی اور سوز وگداز بہت ہے۔یہاں تک کہ اکثر اشعار بے ساختہ پن اور روانی کی وجہ سے ضرب المثل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سہل ممتنع کی بیشتر مثالیں ان کے کلام میں جا بجا دیکھنے کو ملتی ہیں۔ زبان کی سلاست ، کلام کی پختگی اور مضامین کی بہتات نے ان کے اشعار میں جان ڈال دی ہے، یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :

اس اک بدن کا ہے صدقہ جو پھولوں کو اے ذکیؔ

یہ خوشبو اور نزاکت نصیب ہوتی ہے

راز بھی رہیں گی یہ داد بھی جہاں دے گا

آئو اپنی باتوں کو شاعری بنا ڈالیں

اس کے بن اب کہیں لگتا ہی نہیں جی میرا

اس کو دل موہنے والی کیا دعا آتی ہے

ہو نہ ہو پھولوں سا وہ جسم چھوا ہے اس نے

اس قدر خوشبو میں ڈوبی جو ہواآتی ہے

 

ذکی طارق کی شاعری ان کی دِلی کیفیات اور رومان کی گل پوش و گل افروز وادیوں کے سفر کی منظوم خود نوشت ہی نہیںبلکہ وہ عصری معاشرت کے نشیب و فراز اس کی زبوں حالی، مسائل اور رجحانات و محرکات کا منظر نامہ پیش کرتے ہوئے اپنے عہد کی سچّائیوں کی آئینہ داری اور ترجمانی کا فریضہ بھی بخوبی انجام دیتی ہے ۔ان کے اشعار میں تہذیبی زوال ،مردہ ضمیری ،بے حسی، طبقاتی کشمکش ،دہشت گردی ،رِشتوں کی لاتعلقی ، ظلم و ستم ،جبر و استبداد ،عدم تحفظ اور عدم انصاف کی جھلکیاں صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ انھو ں نے نہ صرف متنوع زمینیں خلق کی ہیں بلکہ ان میں فکر و خیال کے گلستاں آباد کرکے ان میں معنی کے گلاب کھلائے اور مہکائے ہیں ۔ علاوہ ازیں ذکی طارق اپنی شاعری میں جن موضوعات و مسائل کو بیان کرتے ہیں ا س سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی شاعری کا ڈھنگ،اپنے ہم عصروں سے منفرد ہے۔ موضوعات ہوں ،خیالات ہوں ،حادثات ہوں ،یا دوسرے فنی لوازمات ذکی طارق بالکل نئے اسالیب فکر کے ساتھ صفحہ ٔ کاغذپرآشکار کرتے ہیں ۔جن میں نئے مسائل و موضوعات تو ہوتے ہی ہیں ، ساتھ میں الفاظ کا انتخاب بھی ایسا انوکھا ہوتا ہے کہ نئی شعری جہات کا جنم ہوتا ہے ۔جن میںذکی طارق کا قوت مشاہدہ ،عمیق تجربہ ،اور فہم و ادراک شامل ہوتا ہے ۔نیز اس فہم و ادراک اور قوت مشاہدہ میں شامل ہوتے ہیں بہت سے نفسیاتی عوامل جن کا تعلق اس سماج و معاشرہ سے ہوتا ہے جس میں آپ اور ہم سانس لے رہے ہیں ،سچ تو یہ ہے کہ ذکی طارق کے شاعرانہ عناصر روایتی طرز فکر کے غماز نہیں ہیں ۔وہ ایسے انداز کی شاعری کرتے ہیں جس کا رشتہ عصری حسیت سے ہے۔مثال کے طورپر یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:

جان جائو گے تمہارا بھی کبھی ٹوٹا جو دل

کہ غم و دردِ شکستِ آرزو کیا چیز ہے

یہ تکلفات چھوڑو اے بہارو جلد آئو

مرا خیر خواہ آیا مراغمگسار آیا

پھول کھل اٹھتے ہیں قدم بقدم

کیا حسیں تر ملی ہے چال اسے

 

جو سورج کی رمق میں نے ہے کم کی

رکھے گا وہ رقابت زندگی بھر

جس کا ہر باب دل نشیں ہے بہت

حسن کی وہ حسیں کتاب ہے تو

وہ مری سمت دیکھتا ہی نہیں

کس طرح اس کے دل میں راہ کروں

کیا ستم ہے نیند کی ایجاد تھے جو وہ ہی خواب

مجھکو گہری نیند سے بیدار بھی کرنے لگے

پیار میں تجھکو گلے سے تو لگا لیتے مگر

عشق بھی پابندِ شیخ و بر ہمن ہم کو ملا