’شاعر ‘کے نئے شمارے پر کچھ باتیں ـ شکیل رشید

ماہنامہ ’ شاعر ‘ کا ہرنیا شمارہ ،اردو کے ان بہت سے ادبی پرچوں کی یاد دلا دیتا ہے ، جو نکلے ، پسند کیے گئے ،ہاتھوں ہاتھ لیے گئے ،مگرکسی نہ کسی مشکل یا افتادیا کسی نہ کسی وجہ سے، وقت کی دھند میں کھو گئے ۔تو کیا
’ شاعر ‘ کے۱۹۳۰ءسے لے کر آج تک،کہ ۹۲ برس ہو گئےہیں ، جاری رہنے کا سبب یہ مان لیا جائے کہ اسے، کسی مشکل یاافتاد سے نہیں گزرنا پڑا؟ نہیں ،مشکلیں تو بہت آئیں، مگر ایک چیز ہوتی ہے جسے عزم اور ہمت کہا جاتا ہے ۔ ہر طرح کے حالات کے سامنے کھڑا رہنے کا حوصلہ ۔ مدیرانِ ’ شاعر ‘ کے پاس حوصلے کا ، عزم اور ہمت کا فقدان نہ پہلے تھا ،اور نہ آج ہے ،اور یہی عزم و حوصلہ ’شاعر ‘ کو زندگی دیئے ہوئے ہے ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا یہ نیا شمارہ نکل سکتا تھا !افتخار امام صدیقی کے،ایک حادثے میں زخمی ہونے، اورطویل ۱۹ برسوںتک ،بستر میں پڑے رہنےکا غم کب کا ’شاعر ‘ کے دفتر پر تالا ڈلوا دیتا ،اور اگر کسی طرح علامہ سیماب اکبرآبادی کا یہ خانودہ ،یہ طویل برس، برداشت بھی کر لیتا ،تو سالِ رواں کی ۴، اپریل کو افتخار امام صدیقی کی موت کا سانحہ تو صبر کے سارے بند توڑنے والا تھا ، مگر عارضۂ قلب کے مریض ناظر نعمان صدیقی ،دل کے دو دو دوروں سے گزرنے کے،اور بھائی کی موت کا صدمہ اٹھانے کے بعد بھی ،اپنے چھوٹے بھائی ،غمزدہ حامد اقبال صدیقی کی مدد سے آگے بڑھے ،پرچے کی ادارت کی اور ’شاعر ‘ آج ہم سب کے ہاتھوں میں ہے۔ پرچے کے تیسرے صفحے پر ’ سانحۂ عظیم ‘ کی خبر ہے ،جو ’آہ‘ سے شروع ہوتی ہے ۔ ’ آہ ‘کے ساتھ یہ جملے ہیں ’’ شاعر کے عالمی قارئین و قلمکار حضرات سے درخواست ہے کہ مرحوم کی مغفرت کے لئے دعا کریں ۔‘‘ اللہ افتخار امام صدیقی کو کروٹ کروٹ جنت دے، آمین۔ ’ جرعات ‘ کے عنوان سے اداریے میں ناظر نعمان صدیقی ، جنہیں سب ’ مانی بھائی ‘ کہتے ہیں ،’ شاعر کے سامنے جو ایک امتحان کی گھڑی آ کھڑی ہوئی ہے ،اس میں ہم سب کو شریک کرتے ہیں ،اور اس عزم کا اظہار بھی کہ ’’ ہمارے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں اور یقین ہو چلا ہے کہ شاعر اپنی اشاعت کی صدی ضرور پوری کرے گا۔‘‘ ان شا اللہ ۔ ۶۸ صفحات کے اس پرچے میں پڑھنے والوں کے لیے بہت کچھ ہے ،غزلیں ، نظمیں ،افسانے ، انشائیہ ، مختصر کہانیاں ، مقالات ،یادِ رفتگاں اور نوبل انعام یافتہ شاعرہ نوئیز الیزابیتھ گنگ کی ،حسنین عاقب کی ترجمہ کی ہوئی ،نظمیں ۔میں ،ممبئی کے ایک ایسے شاعر کے گوشے کا ذکرخاص طور پر کرنا چاہوں گا ،جسے کورونا کی موذی وبانے ہم سب سے چھین لیا ہے ، عبدالاحد ساز۔ندیم صدیقی نے ’ ایک ساز جو ذہن و قلب میں تا دیر بجتا رہے گا ‘ کے عنوان سے مرحوم کو اس انداز سے یاد کیا ہے کہ ہم سب کی آنکھیں بھیگ جائیں۔ایک سطر پیش ہے:’’ کسی کو تکلیف نہ دینے والے سازؔ نے اپنے آؒخری سفر میں بھی کسی دوست کو کاندھے تک کی زحمت نہیں دی۔‘‘ اللہ سے بس یہی دعا ہے کہ ’ شاعر ‘ نکلتا رہے ،نکلتا ہی رہے ۔