شاید اس شر سے کسی خیر کا ظہور ہو!- نایاب حسن

شاید اس شر سے کسی خیر کا ظہور ہو!
نایاب حسن
اقبال نے انیس سو آٹھ کے آس پاس کہا تھا:
آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کُہن پہ اَڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
اتفاق سے مسلمانوں میں من حیث القوم ’ڈرنے‘ اور ’اڑنے‘ کی خو پچھلی کئی صدیوں سے قائم ہے،جس کی وجہ سے عالمی اسٹیج پر ہماری حیثیت لینے والے کی ہے، دینے والے کی نہیں رہی۔ ہمارے اہلِ مدارس بھی اپنے نصاب ونظام کے حوالے سے اسی طرزِ فکر کے شکار رہے ہیں، اس کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں: ایک تو یہ کہ ہم خبطِ عظمت کے شکار ہیں کہ جو ہمارا نظام ہے،اس کا کوئی بدل نہیں، دوسرا یہ کہ ذہنی جمود اور فکر و نظر کے افلاس سے اس حد تک دوچار ہیں کہ ہم اپنے اجتماعی فائدے کے بارے میں بھی سوچنا نہیں چاہتے؛ اس لیے جوں ہی کہیں سے اصلاح کی کوئی آواز اٹھتی ہے،تو اسے یا تو حقارت سے جھٹک دیتے ہیں یا اس لیے اس پر توجہ نہیں دیتے کہ ہم اس کی کنہ تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ ہندوستان میں مدارس کا جو موجودہ نظام ہے،اس کے رواج پر کم و بیش پونے دو سو سال کا عرصہ گزر گیا، ابتدا میں یہ نظام بڑی جامعیت اور خوبیوں کا حامل تھا،اس میں زرخیزی اور افادیت کا عنصر زیادہ تھا، مگر جوں جوں زمانہ آگے بڑھتا گیا، اس کے تقاضے بھی بدلتے گئے؛ لیکن مدارس کے اربابِ بست و کشاد نے اس سلسلے میں کبھی غور و خوض کی زحمت نہیں کی۔ طویل عرصے کے بعد دارالعلوم دیوبند نے اس سلسلے میں کچھ پیش رفت کی اور وہ پیش رفت بھی کیا!
اب جو یوپی سرکار نے غیر سرکاری مدارس کے سروے کی بانگ بلند کی ہے،تو ایک دم سے جھرجھری لے کر ہمارے اکابر بیدار ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک بڑا جلسہ جمعیت علما کرچکی ہے اور دوسرا دارالعلوم دیوبند کی طرف سے اٹھارہ ستمبر کو ہونا ہے، دیگر بڑے ادارے بھی اپنے اپنے طورپر ایکٹیو ہوگئے ہیں، تو بہتر یہ ہے کہ ہماری یہ بیداری محض وقتی اور حادثاتی نہ ثابت ہو،محض جلسہ و بیان بازی تک محدود نہ رہے؛ بلکہ اس سے کوئی پائیدار لائحۂ عمل ، کوئی پختہ منصوبہ، کوئی کارگر اقدام سامنے آنا چاہیے، جس کا تعلق نصابِ تعلیم سے لے کر نظامِ مدارس سے بھی ہو، جو طلبہ کی ہمہ گیر نشوو نما، انھیں دنیا سے بے خبر رکھنے کی بجاے ، باخبر رکھنے اور مین سٹریم سے مربوط کرنے کی تدبیروں پر مشتمل ہو۔ اسی وقت اس پر بھی غور کیا جائے کہ اکیسویں صدی میں ہمارا نصابِ تعلیم زیادہ سے زیادہ جامع، منظم، معنی خیز، ثمر آور کیسے ہوسکتا ہے اور پھر ایک نتیجے پر پہنچ کر روایتی نصاب میں ضروری اصلاحات کی جائیں ۔بڑے اور مرکزی اداروں کو چھوڑ کر ،جہاں شوریٰ اور اجتماعی محاسبے کا نظام ہے، ہندوستان بھر میں جو مدارس کا جال ہے، اس میں افسوس ناک حد تک بدنظمی اور بے سمتی کا رواج ہے، ہر مدرسہ گویا ایک چھوٹی موٹی ’مملکت‘ ہوتی ہے، جس کا فرماں روا اس کا مہتمم ہوتا ہے، اسے عموماً نہ خوفِ خدا ہوتا ہے اور نہ کسی انسان کی بازپرس کا اندیشہ، سو وہ جیسے چاہتا ہے اپنی ’مملکت‘ میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے قبضے میں تو مدرسے کا سارا خزانہ ہوتا ہے، جسے اپنی اور اہل و عیال کی آسایشوں پر بے دریغ لٹاتا ہے، مگر بے چارے استاذ کو چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی کرنے کے بعد پانچ دس ہزار روپے ہاتھ آتے ہیں، اگر کبھی کوئی استاذ تنخواہ بڑھانے کی بات کرے، تو یہ بڑی بڑی توند والے مہتمم حضرات ’اکابر‘ کا حوالہ دے کر اسے خاموش کردیتے ہیں کہ آج سے سوسال پہلے فلاں حضرت تو دو ہی روپے تنخواہ لیتے تھے اور فلاں حضرت تو وہ بھی واپس کردیتے تھے، آپ ایک تو تنخواہ لے رہے ہیں اور پھر اس میں اضافے کی بھی بات کر رہے ہیں، افسوس ہے آپ پر، آپ نے توکل والی حدیثیں نہیں پڑھیں؟ صحابہ نے کیسی کیسی مشقت اٹھاکر دین کو پھیلایا ہے!۔ ’بیداری‘ کی حالیہ لہر میں ضرورت ہے کہ اس اندوہ ناک پہلو پر بھی غور کیا جائے۔ اسی طرح قانونی اعتبار سے کاغذات کو درست رکھنا، مدارس کا رجسٹریشن کرانا، تمام سرگرمیوں کو منظم کرنا اور ان کا ریکارڈ رکھنا،آمد و صرف کا آڈٹ کروانا ؛ یہ ساری چیزیں از حد ضروری ہیں، یہ ہمیشہ سے ضروری تھیں اور ان کی طرف وقتاً فوقتاً خود بہت سے فضلاے مدارس اور ان سے وابستہ بعض مخلصین نے بھی توجہ دلائی، مگر ہم تو کسی کی سنتے ہی نہیں تھے، اب یوگی جی کی سن رہے ہیں ، تو امید کی جانی چاہیے کہ تمام کل پرزے درست ہوجائیں گے اور یوپی کے علاوہ تمام ریاستوں کے مدارس و اہلِ مدارس کو ان پہلووں پر سنجیدہ غور و فکر کرکے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ دیوبند، سہارنپور،لکھنؤ، بنارس، سراےمیر، مبارکپور سب یوپی میں واقع ہیں اور یہاں کے مدرسے ہی مختلف مسالک و مکاتب فکر کی نمایندگی کرتے ہیں، جن سے ہم آہنگی رکھنے والے مدرسے پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر یہ مرکزی ادارے حالات کی نزاکت کو محسوس کرکے کسی کارگر نتیجے پر پہنچیں اور اپنے زیر اثر سرگرمِ کار اداروں کو بھی اس پر کاربند کرواسکیں تو بڑا کام ہوجائے گا۔ دارالعلوم دیوبند کا رابطۂ مدارس تو کئی دہائیوں سے قائم ہے، جس کی صوبائی شاخیں بھیں ہیں، مگر اسے سالانہ جلسوں اور تصدیق ناموں کی تقسیم کے ساتھ اصل اور مطلوبہ کاموں کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*