شوال کے چھ روزوں کی فضیلت-شمس عالم قاسمی

ماہ شوال ہجری کیلنڈرکے اعتبار سے سال کا دسواں مہینہ ہے۔اسی کی پہلی تاریخ کو عید الفطر کی نماز ادا کی جاتی ہے جو تسکین قلب اور روح کی تازگی کا ذریعہ ہے۔ ماہ شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے،ان کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے ۔حضور علیہ الصلوةوالسلام کا ارشاد ہے:
’’من صام رمضان ثم اتبعہ ستا من شوال كان كصيام الدھر‘‘۔
(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1164)
جس نے رمضان کے روزے رکھے، اس کے بعد شوال کے چھ (مستحب)روزے رکھے تو یہ زمانہ بھر روزہ رکھنے کے مانند ہے ۔ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کا مفہوم بھی کچھ اسی طرح ہے ۔ جس نے رمضان کے روزے رکھے تو ایک مہینہ کا روزہ دس مہینوں کے برابر ہوا،پھر عید الفطر کے بعد کے چھ روزے ملا کر سال بھر کے روزے کے برابر ہوئے۔(مسند احمد)
گویا یہ حدیث قرآن کریم کی اس آیت کی توضیح ہے جس میں اللہ سبحانہ تعالی کا ارشاد ہے :من جاء بالحسنة فله عشر ومن جاء بالسيئة فلا یجزی إلا مثلها وھم لا یظلمون.(الأنعام، آیت:160)جو شخص نیک عمل کرے گا اس کو دس گنا اجر ملے گا اور جو شخص برا کام کرے گا اسے اسی مقدارمیں سزا ملے گی اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔
اس اعتبار سے اگر ماہ شوال کے چھ روزے رکھ لیے جائیں تو پورے سال روزہ رکھنے کا اجر ملے گا اور ہر سال اس کا اہتمام کیاجائے تو پوری زندگی روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا۔ ان شاءاللہ

ان مسنون روزوں کے اہتمام کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہمارے فرض روزوں میں جو کمی کوتاہی واقع ہوئی ہے قیامت کے دن انہیں مسنون روزوں سے اس کمی کو پورا کیا جائے گا اور یہ بھی ایک یقینی بات ہے کہ ہم لوگوں سے کماحقہ روزے کے حقوق ادا نہیں ہو پاتے،کوئی اپنی نظر کی حفاظت نہیں کر پا تا، کسی کی زبان بے قابو ہوجاتی ہے وغیرہ وغیرہ اس لیے ان روزوں کا اہتمام بہت اہم ہے۔
یہ چھ روزے یکم تاریخ یعنی عید کے دن کو چھوڑ کر شوال کی دوسری تاریخ سے لے کر مہینہ کے آخر تک الگ الگ یا متواتر دونوں طرح رکھے جا سکتے ہیں لہذا ان روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ البتہ کوئی نہ رکھے تو اسے طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنایا جائے؛کیونکہ یہ مستحب عمل ہے، جسے رکھنے پر ثواب اور نہ رکھنے پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*