شوکتِ عثمانیہ: خاندان آصف جاہی اور حیدرآباد کے عروج و زوال پر ایک بے مثال کتاب- ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

کتاب کا نام: شوکت عثمانیہ
ناشر : تلنگانہ اردو کیڈیمی‘ حیدرآباد
صفحات 468، تمام صفحات رنگین
قیمت : 2ہزار روپئے
ملنے کا پتہ: میڈیا پلس‘ جامعہ نظامیہ کامپلکس‘ چوتھی منزل، روبرو ایس بی آئی، گن فاؤنڈری، حیدرآباد
فون: 9395381226

حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو ہندوستان میں شامل ہوئے 70برس کا عرصہ ہوگیا۔ مگر اس بے مثال مملکت کے شاندار ماضی کی یادیں اب بھی کچھ ذہنوں میں تازہ ہیں۔ تاریخ میں محفوظ ہیں۔ چوں کہ تاریخ کو آہستہ آہستہ تبدیل کیا جارہا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ عہد گزشتہ کی عظمت، شان و شوکت سے نئی نسل کو واقف کروایا جائے تاکہ تعصب پسند عناصر کے گمراہ کن پروپگنڈہ کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ ریاست حیدرآباد میں پہلے قطب شاہی حکمرانوں نے حکومت کی۔ چارمینار، مکہ مسجد ان کے دور کی یادگار ہیں۔ وہ دور بھی اتحاد و یکجہتی کا دور تھا اور پھر 1724ء سے آصف جاہی حکمرانوں نے اقتدار سنبھالا تب سے لے کر 1948ء تک حیدرآباد اپنے سیکولر کردار، رفاہِ عامہ کیلئے اقدامات حکمرانوں کی رعایا پروری کے لئے نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا میں اپنی مثال آپ رہا۔ آصف جاہی حکمرانوں کا ذکر چھیڑا جاتا ہے تو نواب میر عثمان علی خان کا تصور ابھرتا ہے جو آزاد ریاست حیدرآباد کے آخری حکمران اور ہندوستان میں شامل کئے گئے حیدرآباد کے پہلے راج پرمکھ تھے۔ جب بھی 17/ستمبر آتا ہے حیدرآبادیوں کی روح کے زخم تازہ ہوجاتے ہیں۔ اور ان سے خون رسنے لگتا ہے۔ جو پولیس ایکشن کے نام پر انسانیت کے قتل عام کے چشم دید گواہ بقید حیات ہیں۔ ان کے لئے گزرا ہوا کل ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ اور ان کے بعد کی نسلیں اِن واقعات کو اپنے بزرگوں کی زبانی سن کر اور کچھ کتابوں میں پڑھ کر پولیس ایکشن کے بارے میں بہت کچھ جانتی ہیں۔ پولیس ایکشن کیا تھا؟ ایک مسلم ریاست کا خاتمہ۔ حاکم محکوم بنے اور جس حکمران نواب میر عثمان علی خاں نے اپنے دورِ حکومت میں سیکولر کردار کی مثال قائم کی ان کے کردار کو تاریخ کو مسخ کرکے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
تلنگانہ ریاست اردو اکیڈمی نے بڑی ہمت اور جرأت کے ساتھ خاندانِ آصف جاہی کی خدمات کو شوکت عثمانیہ کے روپ میں پیش کیاہے۔ جس میں ممتاز ادیب قلم کار و محققین نے جس انداز میں تاریخ کو تحریر میں پیش کیا پڑھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے اپنا قلم توڑ دیا ہے۔ علامہ اعجاز فرخ کے زبان و بیان اور ان کے اندازِ نگارش کا اعتراف کرنے کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔ اپنے طویل مضمون ”حیدرآباد سے حیدرآباد تک“ میں انہوں نے پوری تاریخ کو دیاہے۔ ساتوں آصف جاہی حکمرانوں کے دور حکومت، ان کی خدمات، ان کی انفرادی خصوصیات فن تعمیر‘ غرض یہ کہ شاید ہی ایسا کوئی گوشہ بچا ہو جس کا ذکر انہوں نے نہ کیا ہو۔ محترمہ طیبہ بیگم جو بلگرامی خاندان کی مایہ نازہ خاتون ادیبہ تھیں‘ اور آخری نظام انہیں اپنی بیٹی کی طرح چاہتے تھے جو محلات کے اندر کے حالات کی چشم دید گواہ تھیں‘ انہوں نے نواب میر عثمان علی خاں کی شخصیت‘ اخلاق اور عادات کو اتنے متاثر کن الفاظ میں بیان کیا ہے کہ نظام کی قدر و منزلت بڑھ جاتی ہے۔ ایسی بہت سی باتیں طیبہ بیگم نے بیان کیں جن کا شاید پہلے کسی اور کتاب میں ذکر نہیں ہوا ہے۔ نواب میر عثمان علی خان اپنے دور کے امیر ترین حکمران تھے۔ مگرسادگی پسند تھے۔ خوشامد پسندی سے دور تھے۔ مساجد میں ان کا بادشاہ کی حیثیت سے استقبال نہ کرنے کی سختی سے ہدایت تھی۔ وہ کٹر مسلمان تھے مگر صحیح معنوں میں ایک سیکولر حکمران تھے جن کے لئے ہندو اور مسلمان دو آنکھیں تھے۔ پروفیسر بیگ احساس نے جامعہ عثمانیہ کے قیام کے پس منظر کو اس خوبی سے بیان کیا کہ پڑھنے والا 100 سال پہلے دور میں پہنچ جاتا ہے۔ پروفیسر سلیمان صدیقی کا تذکرہ عثمانیہ یونیورسٹی 1960 اور 1970ء کی دہائی کے دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اس دور کے کرکٹرس عابد علی جئے سمہا تصور کے پردہ پر ابھرنے لگتے ہیں۔ دارالترجمہ کا قیام ایک ایسا کارنامہ تھا جس پر نسلیں فخر کرسکتی تھیں‘ جو آخری نظام کی علم دوستی‘ اپنی ریاست کو تعلیم یافتہ بنانے کے شوق اور ان کی وسیع النظری کی عکاسی کرتا ہے۔ بدرشکیب کا مضمون دستاویزی اہمیت کا حامل ہے۔ غوثیہ بانو نے آخری نظام کے فرامین اور دستاویزات کی تفصیلات بہت ہی دلکش انداز میں پیش کی ہیں۔ یہ ان کے فرامین، ان کے مزاج، فطرت، فراخ دلی کے ساتھ ساتھ خودداری کی بھی شہادت دیتی ہیں۔ چاہے وہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں وائے سرائے کی مداخلت کو قبول نہ کرنے سے متعلق ہو یا جوش ملیح آبادی کو ملک بدر کرنے سے متعلق ہو‘ یا پھر عبادت گاہوں کو جاری کیے جانے والے عطیات اور جاگیروں سے متعلق ہو۔ عبدالعزیز سہیل اور ڈاکٹر شیلا راج نے اپنے اپنے مضمون ”آصف جاہی حکمرانوں کی رواداری“ پر جو قلم چلایا وہ دراصل تعصب پسند عناصر کو جواب ہے جو نظام کو ایک فرقہ پرست حکمراں ثابت کرنے کے لئے کوشش کرتے رہتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آصف جاہی سات حکمرانوں کے دور میں وزیر اعظم سے لے کر دیوان کے عہدے تک 11غیر مسلم فائز تھے۔ آخری نظام کے وزیر اعظم مہاراجہ کشن پرشاد اور کمشنر پولیس راجا بہادر وینکٹ رام ریڈی تھے۔ جبکہ ہر مذہب کے لوگ نظام کے درباریوں میں شامل تھے۔ نظام کے دورِ حکومت میں لگ بھگ 50ہزار عبادت گاہیں تھیں جن میں سے 34ہزار 509 ہندوؤں کی اور 14ہزار 777 مسلمانوں کی تھی۔ ان میں 32ہزار مندر تھے اور 6ہزار مساجد تھیں جنہیں حکومت کی جانب سے سالانہ 23ہزار روپئے امداد دی جاتی تھی۔ ان میں سے بعض قابل ذکر مندروں میں سیتارام باغ مندر کو سالانہ 50ہزار روپئے، اس کے پجاری پنڈت رام ولاس کی تنخواہ مقرر کی تھی جن کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے کو یہ امداد جاری رہی۔ کئی مشہور منادر کو باقاعدہ گرانٹ جاری ہوتی تھیں جن کے فرامین موجود ہیں۔ ان منادر میں کشن باغ ٹیمپل، جھام سنگھ ٹیمپل، یادگیر گٹہ بھونگیر، بھدرا چلم کی رام نومی ٹیمپل، بالک داس مٹھ، آنند گری اور تروپتی کی بالاجی منادر قابل ذکر ہیں۔ چرچز، گردوارے، مشنری اسکولس کو گرانٹ دی جاتی رہی۔ ڈاکٹر آمنہ تحسین نے اپنے مضمون میں بتایا ہے کہ کس طرح آخری نظام کے دور میں خواتین کی ترقی کے لئے راہیں ہموار کی گئیں‘ مواقع پیدا کئے گئے۔ ڈاکٹر معید جاوید نے تفصیلی روشنی ڈالی کہ کس طرح اردو صحیح معنوں میں دور آصف جاہی میں پروان چڑھی۔ اردو سرکاری زبان ضرور تھی مگر رعایا کی سہولت کے لئے نظام نے اسے روزگار سے نہیں جوڑا۔ البتہ جامعہ عثمانیہ اردو ذریعہ تعلیم کی پہلی یونیورسٹی بن گئی۔
نواب میر عثمان علی خاں نے ملک و بیرون ملک کے بیشمار تعلیمی اداروں کو مالی امداد دی۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کو ایک لاکھ روپئے، آندھرا یونیورسٹی کو ایک لاکھ روپئے، رابندر ناتھ ٹائیگور کی شانتی نکیتن کو ایک لاکھ روپئے، اس کے علاوہ تلگو اکیڈیمی، اکیڈیمی آف سائنس بنگلور، شیواجی کالج امراوتی، بھنڈارکر اورینٹل انسٹیوٹ پونہ کے علاوہ انگلینڈ کی یونیورسٹی آف درہم، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف لیڈین، یونیورسٹی آف لندن، انڈیا سوسائٹی لندن، یونیورسٹی آف فلسطین کو بھی مالی امداد دی۔ انہوں نے آندھرا یونیورسٹی کو ویدک ڈکشنری تیار کرنے کے لئے 4سال تک ایک ایک ہزار روپئے امداد دی۔ نواب میر عثمان علی خاں نے 1965ء میں چین کے خلاف جنگ کے موقع پر حکومت ہند کی درخواست پر پانچ ہزار کیلو سونے کا عطیہ دیا تھا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ تعصب پسند عناصر فرقہ پرست مورخین اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے پسماندہ طبقات کے حقوق کا تحفظ کیا اور ان کی مدد کی‘ جس کے لئے باقاعدہ بابا امبیڈکر نے شکریہ ادا کیا تھا۔
ڈاکٹر شجاعت علی راشد نے عہد آصف جاہی کی شیریں روایات، محمد وصی الدین نے دورِ آصف جاہی میں عدالتی نظام، پروفیسر نسیم الدین فریس نے دورِ آصف جاہی میں اردو صحافت، پروفیسر فاطمہ بیگم پروین صاحبہ مرحوم نے نواب میر عثمان علی خان کی شاعری، ارشد مبین زبیری نے آخری نظام کی تعمیراتی اور علمی خدمات، ڈاکٹر نشاط احمد نے ادارہ ادبیات اردو، نسیمہ تراب الحسن نے آخری نظام کے وزراء اور امراء، ثریا جبین نے عہد آصفی میں خواتین دکن کا شعری و نثری ادب، پروفیسر محمد علی اثر نے عہد عثمانی کے اردو ادب پر اور صابر علی سیوانی نے نظام ٹرسٹ لائبریری پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر فضل اللہ مکرم نے حیدرآباد کی تہذیب، رسم و رواج پر جو تحقیقی مضمون لکھا ہے‘ اس میں عہد گزشتہ کا رمضان، بقرعید، میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جشن، محرم کے سوگوار دن، ہولی دیوالی، دسہرہ، نوروز، کرسمس، تمام مذاہب کی عیدین، نہ صرف شادی بیاہ بلکہ ہر اُس رسم کا ذکر کیا ہے جو حیدرآباد کی تہذیب کا لازمی جز رہی۔
حیدرآباد کی عمارتوں، محلات، زیورات کی قدیم تصاویراس کتاب کی زینت میں اضافہ کرتی ہے۔
شوکت عثمانیہ یقینا ایک بھاری بھرکم ضخیم اور قیمت (2000روپئے) کے اعتبار سے مہنگی کتاب ہے مگر شوکت عثمانیہ کو اسی شان و شوکت کے ساتھ پیش کیا گیا۔ یہ کتاب نجی کتب خانوں کی زینت اور وقار میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ تعلیمی اداروں کے کتب خانوں میں ریسرچ کے لئے رہنمائی کرسکتی ہے۔ دیارِ غیر میں رہنے والے حیدرآبادی اس کتاب کے اوراق میں اپنے پیارے حیدرآباد کا لمس محسوس کرسکتے ہیں۔ اپنا ماضی تلاش کرسکتے ہیں۔ اور اپنے نئی نسلوں کو اس سے واقف کرواسکتے ہیں۔
تلنگانہ اردو اکیڈیمی سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ارباب اقتدار سے نمائندگی کرے کہ دورِ آصف جاہی کے واقعات، حکمرانوں کے سیکولر کردار اور ان کی خدمات اور کارہائے نمایاں کو اسکول کے نصاب میں شامل کرے۔