ششی تھرور کا دعویٰ : طالبانی گروہ میں مبینہ طور پر دو ہندوستانی بھی شامل

نئی دہلی : افغانستان پر طالبان کے قبضے اور صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار کے بعدطالبان کے مخصوص ’’طالبانی نظام‘‘ کا آغاز ہوچکا ہے ۔ کابل کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں کی سڑکوں پر بھی افراتفری کا ماحول ہے۔ طالبان گاڑیاں روک کر لوگوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔ مفرور صدراشرف غنی کے حامی عوام ہتھیلیوں پر جان رکھ کر ملک سے فرار ہو رہے ہیں ۔ دریں اثناء کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے طالبان کے بارے میں بڑا انکشاف کیا ہے۔ ششی تھرور نے کہا کہ دو ہندوستانی نوجوان بھی افغانستان میں مچائی جانے والی ’’دہشت ‘‘ میں شامل ہیں۔کانگریسی لیڈر اورایم پی ششی تھرور نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دونوں افراد کیرالہ کے رہنے والے ہیں اور دونوں ملیالم زبان بول رہے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے ایک ویڈیو ٹویٹ کی ہے جس میں یہ دونوں افراد ہاتھوں میں بندوقیں تھامے ہوئے ہیں ،اور یہ دونوںملیالم زبان بول رہے ہیں۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ششی تھرور نے لکھا کہ یہ سن کر ایسا لگتا ہے کہ وہاں دو ملیالم کے طالبان بھی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک نے 8 سیکنڈ تک ملیالم زبان بولااور ، دوسرا اسے سن رہا ہے۔ویڈیو میں صاف طور پر نظر آرہا ہے کہ کابل کے مضافات میں پہنچتے ہی ایک طالبان فتح کی خوشی میں سڑک پر بیٹھ کر رونے لگتا ہے، تو دوسرا شخص اسے کچھ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے،یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔