غزل

شارخ عبیر

وفا مجھ سے کوئی نبھاتا نہیں
تمہیں کام کوئی بھی آتا نہیں

"یہ گھر اب کسی کو منا تا نہیں”
مگر لوٹ کر کوئی آتا نہیں

عجب بے رخی ہے تری بات میں
کہ اب چاند نظریں ملاتا نہیں

پرندوں کو حیرت سے تکتا ہوں میں
گماں کو نظریہ بناتا نہیں

جو میرے تصوّر میں گم تھا کبھی
مجھے حال دل کا سناتا نہیں

سفر ہی مسافر کا انجام ہے
کبھی دل سفر میں لگاتا نہیں

اے تشنہ لبی غور سے بات سن
کیا کوزے میں دریا سماتا نہیں

مری چھت پے بادل بنائے گئے
میں تاروں سے نظریں ملاتا نہیں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*