مبینہ متنازعہ تقریر کا معاملہ:شرجیل عثمانی کیخلاف مقدمہ درج، علی گڑھ میں بجرنگیوں کا احتجاج

علی گڑھ:پونے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طلبہ لیڈر شرجیل عثمانی کے متنازعہ بیان پر ہندو تنظیمیں مشتعل ہیں۔ بدھ کے روز علی گڑھ کے تھانہ گاندھی پارک میں بجرنگیوں نے مظاہرہ کیا۔ عہدیداروں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس راگھویندر سنگھ کو میمورنڈم پیش کیا۔ شرجیل عثمانی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔عہدیداروں نے کہا کہ ہندو مذہب کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر ایسے حالات ہوں گے، تو پھر بجرنگی’ہتھیار‘ اٹھانے پر مجبور ہوگا۔ واضح ہو کہ شرجیل عثمانی کے خلاف پونے کے سوارگیٹ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج ہو گیا ہے۔ بجرنگ دل شہرکنوینر گورو شرمانے کہا کہ میں یوگی اور حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہوں کہ شرجیل کا پاسپورٹ ویزا ضبط کیا جائے۔ جس ملک میں وہ اپنے مالک کو کہتے ہیں ، ان سب کو وہاں بھیجنے کا انتظام کیا جانا چاہیے۔بجرنگ دل کے شہر کنوینر کے مطابق مسلمان کہیں بھی خوفزدہ نہیں ہیں، اس کی ایک مثال علی گڑھ میں’ تشدد‘ ہے، ہم کسی خاص مذہب پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے ، لیکن اگر ہمارے مذہب پر کوئی تبصرہ کرے گا توہمیں اپنے مذہب کی حفاظت کے لیے ہتھیار اٹھانا پڑے،تو ہم ہتھیار اٹھا کر اس کی مخالفت کریں گے۔اس سال ایلگار کونسل 2021 کا انعقاد 30 بھی جنوری کو پونے میں بھیما کورے گاؤں شوریہ دیوس ‘ کے ذریعہ کیا گیا تھا۔ کانفرنس میں ممتاز مصنف اروندھتی رائے ، سابق آئی پی ایس آفیسر ایس ایم مشرف ، بمبئی ہائی کورٹ کے سابق جج بی جی کولسی پاٹل اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم شرجیل عثمانی نے شرکت کی تھی۔ اسی پروگرام میں انہوں نے اپنی تقریر میں مبینہ طور پر ہندو دیوتاؤں کے لئے قابل اعتراض الفاظ استعمال کیے تھے۔جس سے برہم ہوکر بجرنگیوں نے شرجیل عثمانی کے خلاف احتجاج کیا ہے ۔