20 C
نئی دہلی
Image default
مباحثہ

شرجیل امام کو سمجھنے کی ضرورت ہے

عدیل اختر

جے این یو کے طالب علم شرجیل امام کا نام اس وقت چرچا میں ہے۔ ان پر ملک سے بغاوت کے مقدمے ٹھونک دئے گئے ہیں اور جو لوگ کنہیا کمار پر ملک سے بغاوت کے مقدمے کی مخالفت کررہے تھے وہ لوگ شرجیل کے خلاف ڈھنڈورا پیٹنے والے "گودی میڈیا” اور مقدمے لگوانے والے فاشسٹوں کو غلط اور جھوٹا سمجھنے کے بجائے شرجیل کی مذمت کرنے میں لگ گئے ہیں۔
شرجیل پر ملک مخالف بات کہنے کا الزام کنہیا پر ملک مخالف نعرے لگانے کے الزام سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے۔ دونوں کی باتوں اور جذبات کو ایک ہی انداز سے غلط معنی پہنائے گئے ہیں، لیکن کنہیا کمار کمیونسٹ فکر (کفر) کے پروردہ ہیں جب کہ شرجیل اسلامی فکر کے وکیل بن کر سامنے آئے ہیں اس لیے تمام طرح کے نام نہاد لبرل اور آزادی پسند لوگ اور ان کی فکری غلامی کرنے والے مسلم فرقہ پرست کارکن شرجیل کو غلط کہہ رہے ہیں اور کنہیا کو کاندھوں پر اٹھائے گھومتے ہیں۔
جس طرح کنہیا کمار کو اپنی صفائی دینے، مقدمہ لڑنے اور ضمانت پر آزاد گھومنے پھرنے کا حق ہے اسی طرح یہ سارے حقوق شرجیل کو بھی ملنا چاہئیں۔ لبرل اور سیکولر لوگ تو اپنے نفاق کے لئے مشہور ہیں لیکن جو لوگ صداقت پسند ہیں ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شرجیل کا دفاع کریں اور کم سے کم بغاوت کا مقدمہ ثابت ہو نے تک انہیں غلط قرار نہ دیں۔
شرجیل کی جس بات کو بنیاد بناکر ملک سے بغاوت کا قانونی حربہ ان کے خلاف استعمال کیا گیا ہے، اس بات کو چھوڑ کر جو دوسری باتیں ان نوجوان اسکالر نے کہی ہیں ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ شرجیل کا کہنا یہ ہے کہ مسلمان آزاد ہندستان میں اپنے حقوق اور حیثیت کے سوال کو لے کر پہلی بار سڑکوں پر آئے ہیں۔ عام مسلمان صرف یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری دشمن صرف بی جے پی ہے اور مسئلہ بس سی اے اے اور این آرسی کا ہے۔ شرجیل کہتے ہیں کہ عام مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ کانگریسی فکر اور اس سے نکلی ہوئی تنظیمیں، کمیونسٹ فکر اور اس سے نکلی ہوئی تنظیمیں بھی ان کے وجود کی دشمن اسی طرح ہیں جس طرح سنگھی فکر اور اس سے نکلی ہوئی تنظیمیں ہیں۔ پوری قومی سیاسی پالیسی ایک مسئلہ ہے۔ برہمن وادی مذہبی نظام پر مشتمل اکثریتی فرقہ کی حکومت چلی ارہی ہے اور مسلمانوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کا سلسلہ آزاد ہندوستان میں شروع دن سے ہی ہے۔ ملک کو دستور کے مطابق تمام فرقوں اور گروہوں کے لئے برابر کے حقوق اور آزادیوں والا ملک بنانے کی سمت میں آگے بڑھانے کے بجائے برہمن وادی مذہب کو ماننے والے لوگوں کا ملک بنانے کی پالیسی پر کام ہوتا آرہا ہے۔برہمن وادی مذہب کو ماننے والے لوگ اپنے باہمی مفادات کے لئے آپس میں ٹکراتے رہتے ہیں لیکن مسلمانوں کے تعلق سے سوچ اور پالیسی سب کی ایک ہی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے قومی مسائل کی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں نہ دیں۔ دوسروں کو چارہ گر بنانے اور سمجھنے کے بجائے خود اپنے قدموں پر کھڑے ہوں، اپنی تحریک کوخود اپنی سمت دیں اور خود اپنے سیاسی نظریہ اور سیاسی فکرکو سامنے لائیں۔
شرجیل کی یہ باتیں بہت سے سے مفکرین کی فکر کا حصہ ہیں۔ یہ اگرچہ شرجیل کی ذہنی اختراع نہیں ہے لیکن مسلمانوں کی ایک قومی تحریک کے دوران، یونیورسٹیوں میں اٹھنے والی آوازوں میں سے ایک نمایاں آواز بن کر سامنے آئی ہیں اس لیے اسے ڈسکورس میں لانے کی ضرورت ہے۔ تحریکوں کے لئے نظریات کی ضرورت ہوتی ہے، عوامی تحریکیں بے ہنگم انداز میں اک دم سے اٹھتی ہیں لیکن ان کے لئے مفکرین اور قائدین کی ضرورت ہوتی ہے جو تحریکوں کو سمت دیتے ہیں۔ بھارت میں مسلمان سیاسی نظریہ کے لحاظ سے بہت کنفیوژن میں ہیں اسی وجہ سے مسلمانوں کی موجودہ قومی تحریک پر بھی اس کنفیوژن کا اثر صاف نظر آرہا ہے۔ نہ ‌اپنا نظریہ ہے، نہ اپنی سمت ہے، نہ اپنا بل بوتہ ہے۔ نعرے تک اپنے نہیں ہیں۔ مسلمانوں کی بھیڑ کو آج کے گاندھی وادی، امبیڈکر وادی، مارکس وادی اور تمام طرح کے لوگ اسی طرح اپنے لئے استعمال کررہے ہیں جس طرح گاندھی جی نے تحریک خلافت کو اپنے حق میں استعمال کرکے سبوتاژ کردیا تھا۔ جس طرح امبیڈکر صاحب نے برہمن واد سے لڑتے رہنے کے باوجود برہمن واد کو بناۓ رکھنے کا کام کیا تھا۔ مارکس وادیوں کی اسلام اور مسلم دشمنی تو کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
دستور ہند کے لحاظ سے بھارت کے مسلمانوں کو اس بات کا پورا موقع حاصل ہے کہ وہ بھارت کے وفاقی نظام میں اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ اپنے دین کے سیاسی نظریہ سے ترغیب و تحریک لے کرفلاح عامہ کے مشن کی سیاست کریں۔ دستور کو اپنا نظریہ اور آئیڈیل ماننے کے بجائے ساتھ رہنے کا ایک سمجھوتہ سمجھیں۔ اس سمجھوتے کی بنیاد پر اپنے اور دیگر فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریوں پر زور دیں، اپنی طرف سے اس سمجھوتے کو بنائے رکھنے کی کوشش کرتے رہیں، کسی بھی فریق کی طرف سے سمجھوتے کے خلاف ورزی پر دوسرے فریقوں کو ساٹھ لے کر کھڑے ہونے کے لئے ہمیشہ مستعد رہیں۔ اور قرآن کے اصولوں و رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں کہ کن باتوں پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے، کس طرح سمجھوتے کی پابندی کی جاتی ہے اور کن حالات میں سمجھوتہ ٹوٹنے کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔
شرجیل امام کو اللہ کرے کہ غلط الزام سے برائت حاصل ہو جائے اور وہ ایک منطقی فکر کو دستور کے دائرے میں ملت اور ملک کے سامنے رکھنے کے لئے آزاد ہوں۔ ان نوجوان اسکالر سے راقم کی ملاقات کبھی نہیں ہوئی۔ پہلی بار ان کا نام سنا ہے اور ویڈیو اسپیچ سے ان سے تعارف ہوا ہے۔ ان کی جس بات پر تنازعہ کھڑا کیا گیا اسے جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔ لیکن اس بات سے قطع نظر، وہ ایک نئی سیاسی فکر اور مومنانہ کردار کا آئیکن (علامت) بن کر سامنے آئے ہیں۔ ہمیں ایسے با صلاحیت اور با کردار مفکرین اور قائدین کی ضرورت ہے جن کی فکر قرآن و سنت سے ماخوذ ہو اور جو بوسیدہ، بے عمل اور بے بھروسہ قیادت کی جگہ لے سکیں تاکہ مسلمانانِ ہند کا سیاسی سفر صحیح سمت میں جاری ہو اور مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ بوسیدہ اور مجہول افکار کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں کیا جا سکے۔ اللہ کرے ایسے اور اسکالر و کارکن سامنے آئیں جو اعلی تعلیم یافتہ ہوں، قرآن وسنت کے پیغام کو جدید ذہن کے ساتھ سمجھتے ہوں اور سیاست و دستور کا تجزیہ کرکے ملت اسلامیہ ہند کو مغلوبیت سے نکال سکیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں ہے)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment