پروفیسر شارب ردولوی کی خود نوشت ‘نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم ‘ ـ ڈاکٹر محمدہارون رشید

کوئی آگاہ نہیں باطن ہم دیگر سے

ہے ہر اک فرد جہاں میں ورقِ ناخواندہ

اسی ورق نا خواندہ کو خواندہ بنانے کی نیت اور غرض ایک انسان کو خود نوشت لکھنے کی طرف راغب کرتی ہے ۔اللہ تعالی نے اس کائنات کو بنانے کا مقصد بھی یہی بیان کیا ہے کہ میں نے دنیا اسی لئے بنائی کہ میں پہچانا جاؤں۔انسان کا اپنی خود نوشت یا آپ بیتی لکھنا اسی خدائی خواہش کی پیروی ہے۔کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ایک انسان میں خدا کی تمام صفتیں کسی نہ کسی شکل اور کسی نہ کسی درجہ میں موجود ہوتی ہیں ۔چاہے وہ اس کا جلال ہو یا اس کا جمال یا” یحب الجمال” کی صفت۔خدا نے لفظ کن سے کائنات پید اکر دی لیکن انسان کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ وہ کن کہے اور ہو جائے۔اسے بہت سی دشواریوں سے گذرنا پڑتا ہے تب کوئی تخلیق معرض وجود میں آ پاتی ہے۔

آپ بیتی یا خود نوشت لکھنا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔آسان اس لئے کہ اس میں کوئی پلاٹ کوئی موضوع سوچنا نہیں ہے بلکہ جو ہوا ہے اسے من و عن صفحہ قرطاس پہ اتار دینا ہے۔ لیکن مشکل اس لیےہے کہ اپنے آپ سے محبت اور دوسروں کا خوف قدم قدم پر دامن گیر رہتا ہے۔پھر خود نوشت کا سب سے بڑا جوہر صداقت ہے اور صداقت کی تصدیق اور گواہی وہی لوگ دے سکتے ہیں جن کا تعلق خود نوشت میں بیان ہوئے واقعے سے براہ راست ہو۔کسی بھی خود نوشت کی صد فیصد صداقت کی گواہی اور تصدیق کوئی نہیں کر سکتا سوائے مصنف کے۔پروفیسر شارب ردولوی کی خود نوشت کا عنوان ہی اس بات کی غمازی کرتاہے کہ انھوں نے وہی لکھا ہے جس سے وہ گذرے ہیں یا جو ان پر گذری ہے۔لیکن ایسا کیوں ہوا ہے اور کب ہوا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ابتدا اور انتہا کی خبر انھیں خود بھی نہیں ہے۔یعنی وہ ایک مشاہد کی حیثیت سے قصہ کو بیان کر رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ پورے بیانیہ کے مرکز و محور وہ خود ہیں،وہ اپنے پیش لفظ ہی میں یہ بھی واضح کر دیتے ہیں کہ ایک قاری اگر تنقیدی نگاہ سے اسے پڑھے تو اسے کن چیزوں کو دھیان میں رکھنا چاہئے اور اسے کن چیزوں کی تلاش نہیں کر نا چاہیے۔شارب ردولوی نے اپنی خونوشت پر ناقدانہ فیصلہ کرنے کے لیے ان اصولوں کو از خود بیان کر دیا ہے جنھیں انھوں نے خودنوشت لکھتے وقت پیش نظررکھا ہے۔یہ اصول ان لوگوں کے لیے بھی راہنما خطوط ہو سکتے ہیں جو آئندہ خود نوشت لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔ظاہر ہے کہ ان اصولوں کو ترتیب دیتے وقت ان کی وہ ترقی پسندی محرک ری ہے جو دوسرے سکہ بند ترقی پسندوں سے الگ ہے۔جس میں انسانی قدروں کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اردو تنقید نے ابھی تک خود نوشت نگاری کے واضح اصول وضع نہیں کیے ہیں۔ شارب صاحب نے اس حوالے سے بھی نہ صرف ایک نظریہ پیش کیا ہے بلکہ اس کی عملی شکل بھی پیش کر کے ایک انقلابی کارنامہ انجام دیا ہے۔جو تادیر یاد رکھا جائے گا

آپ لکھتے ہیں:

‘’ میں سمجھتا ہوں کہ بعض باتیں خود نوشت کا حصہ بننے کے لائق نہیں ہوتیں،خواہ وہ کتنی ہی اہم کیوں نہ رہی ہوں،انھیں نظر انداز کر دینا ہی بہتر ہے اور اگر یہ بتانا ہی ہے کہ چاندی جیسے سفید بال ہمیشہ ایسے نہیں تھے ،کبھی انھوں نے بھی بہتوں کو غالب کے الفاظ میں "تار” کررکھا تھا تو استعاروں اور کنایوں میں اس طرح کے بیان کی بڑی گنجائش ہے۔ایسی باتیں جن کا اظہار زندگی میں مناسب نہیں سمجھا گیا ان کا بالاعلان اظہار،وہ کتنی ہی سچائی پر مبنی کیوں نہ ہو ،معیوب ہے۔اپنی عاشقی کا ذکر وہ ایک ہو یا ایک سے زیادہ دلچسپ سہی ؛لیکن ہوس رانیوں کے بیان پر سوال ضرور پیدا ہو سکتا ہے‘‘۔

پیش لفظ میں ان جملوں ہی سے وہ صاف کر یتے ہیں کہ اس میں ذہنی چٹخارے کا سامان نہیں ملے گا۔خود نوشت کو بعض لوگوں نے تہذیبی حوالے سے بھی تعبیر کیا ہے ؛لیکن شارب ردولوی کے نزدیک خود نوشت ایک بہت دلچسپ اور پر اثر بیانیہ ہے جس کا مرکز شخص واحد یعنی اس کا بیان کرنے والا ہوتا ہے اور پورا عہد اس کا ماضی و حال اس ایک شخص کے ارد گرد گھومتا رہتا ہے ،وہ خود نوشت نگار کو ٹورنٹو کے 1,151 فٹ پر محسوس نہ ہونےوالی رفتار سے گھومتے اس ٹاور سے تعبیر کرتے ہیں، جہاں سے کبھی جگمگاتا شہر نظر آتا ہے، کبھی دور تک اونچی اونچی روشن عمارتوں کا جنگل ،کبھی دھندلی ہوتی روشنیوں کا رومان پرور منظر اور کبھی تاحد نظر پھیلے ہوئے چنار کے جنگلات اور تاریکی ۔اسی طرح خودنوشت لکھنے والا بھی نہ محسوس ہونے والی گردش میں ہے اور رفتہ رفتہ اس کی زندگی کے مناظر بدلتے جاتے ہیں۔کبھی ہر بات کے لئے ضد کرتا ہوا بچہ ہے،کبھی ایک بے فکر اور ہر چیز سے بے نیاز نو جوان ہے ،کبھی حالات اور زمانے کی دھوپ سے تپا ہوا جھریوں بھرا چہرہ،کبھی حالات زمانہ کبھی تہذیبی اقدر ،کبھی سیاسی معرکے ہیں لیکن یہ سب اسی حد تک جس حد تک "شخص مذکور”سے متعلق ہیں، ورنہ خود نوشت تاریخ و تہذیب کے حوالے کی کتاب ہوگی، خود نوشت نہیں۔

نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم کی ابتدا ، ابتدا کی تلاش سے ہوتی ہے جہاں مصنف اپنے ماضی کے جھروکوں میں جھانکنےکی کوشش کررہا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ ردولی کے عباسی محلہ میں اس کے دادا کا بڑا سا مکان زمانے کی تبدیلیوں کا کس طرح شکار ہو کر اپنی رونقیں کھوتا جا رہا ہے ،گھر تک پہنچنے کے چوڑے راستے ناجائز قبضوں کی وجہ سے مسدود نہیں تو محدود ضرور ہو گئے ہیں۔قاری قاضیان سلطانپور اور ردولی کی تاریخ سے روبرو ہوتے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کی والدہ کا انتقال مصنف کی ڈھائی تین سال کی عمر ہی میں ہوگیا تھا،مصنف کو بڑی بہن اوردادا، دادی نے پالا اور دادا حکیم غلام حسنین ہی اس کےپہلےاتالیق تھے۔جن کا ذکر آگے چل کر قدرے تفصیل سے کیا گیا ہے ۔پھر حکیم حسن عبا س یعنی اپنے والد کا ذکر ہے۔مصنف نے بہت باریک بینی کے ساتھ ان دونوں افراد کی شخصیت پر روشنی ڈالی ہے۔آگے بڑھیے تو ردولی کے شعرا، محققین ،ناقدین اور اطباسے ملاقاتیں ہوتی ہیں، جس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ مصنف کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں کن عناصرکے اثرات اور کس علمی آب و ہوا کا خمیر شامل ہے۔

شارب ردولوی کی خود نوشت میں ان کا گھر ہے، خاندان ہے ،تعلیمی مراحل ہیں،اساتذہ ہیں،تحریکیں ہیں،تنظیمیں ہیں،احباب ہیں ،ا ن کی کتابیں ہیں۔محفلیں ہیں ،ردولی سے کانپور،لکھنؤ ،دہلی کی ملازمت ،سکونت اور دعوت کا ذکر ہے، پھر لکھنؤ واپسی کا ذکر ہے،غیرممالک کے اسفار ہیں۔اندرا گاندھی کا قتل بھی ہے،غرض مصنف جہاں جہاں سے گذرا ہے، وہاں وہاں کے نقوش اپنی یادداشت کے نہاں خانوں میں سمیٹ لایا ہے اور انھیں صفحاتِ قرطاس پر اس طرح بکھیر دیا ہے کہ قاری کے سامنے سارے منظر متحرک ہو جاتے ہیں۔کتاب میں شخصیات کی ایک طویل فہرست ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شارب ردولوی نے ہر اس شخص کو یاد رکھا ہے جو ان کی زندگی میں کسی نہ کسی روپ میں کسی نہ کسی شکل میں آیا۔چاہے وہ اروند کمار گجرال ہوں۔گوپی چند نارنگ ہوں،ڈاکٹر تقی عابدی ہوں۔وقار رضوی ہوں،پروفیسر رمیش دیکشت ہوں،ڈاکٹر اقتدارفاروقی ہوں،پروفیسر روپ ریکھا ورما ہوں ،ڈاکٹر عمار رضوی ہوں،عارف محمود ہوں یاڈاکٹر ریشماں پروین ہوں۔ ایک طویل فہرست ہے ان ناموں کی۔شارب ردولوی کی طرف سے ان لوگوں کے لئے یہ ایک اعزاز،خراج اور ایک ناقابل فراموش تحفہ ہے جن کا ذکر خود نوشت میں آیا ہے؛لیکن ان شخصیات میں ردولی کے حوالے سے اردو ادب اور صحافت کی ایک معروف شخصیت پروانہ ردولوی (2008-1933) کی ہے جو ہندوستان میں اردو کے بڑے اخباروں سے وابستہ رہے، ان کا ذکر اس کتاب میں نہیں ملتا۔

ڈاکٹر شمیم نکہت سے ملاقات سے شادی تک کے مراحل میں مصنف نے اپنے قلم اور جذبات کو پوری طرح قابو میں رکھا ہے اور کہیں کنایتا بھی وہ باتیں نہیں آ پائی ہیں جو نہیں آنا چاہئیں۔ایک مکمل خاتون ،ایک بیوی ، ایک دوست اور ایک ہمسفر کا بیان ڈاکٹر شمیم نکہت کی شخصیت کے کئی نفسیاتی پہلووں کو اجاگر کرتا ہے، جس سے شمیم نکہت کی شخصیت کی تفہیم کی راہیں بھی وا ہوتی ہیں۔پھر شمیم نکہت کے آخری دنوں کی بیماری ،ان کے انتقال اور انتقال کے بعد کا منظر نامہ قاری کو اندرتک تک جھنجھوڑ دیتا ہے۔ملاحظہ ہوصرف ایک اقتباس:

’’6بجے شام کے قریب میں نے شمیم سے کہا کہ میں جاکر رپورٹس لے آؤں اور میرے دانت میں ذرا سی تکلیف ہے، وہ کسی دانت کے ڈاکٹر کو کھا دوں،میں عام طور پر خود رپورٹس لینے نہیں جاتا۔ آج دانت کے ڈاکٹر کو دکھانا تھا اور ان کی رپورٹ معلوم کرنے کی بے چینی تھی؛ اس لئے میں خود چلا گیا۔ بے بی اسی کے ذرا دیر بعد گھر آگئی تھیں جب میں نکلا۔میں نے پہلے رہورٹس حاصل کیں اس کے بعد شفقت قمر کے جاننے والے ایک دانتوں کے ڈاکٹر کے یہاں ابھی میں کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجی، میں نے فون اٹھایا تو بے بی کے چیخنے اور رونے کی کی آواز آئی۔شارب بھائی جلدی آئیے اور آکسیجن لیتے آئیے، میں نے فورا برابر میں ڈاکٹر خان سے آکسیجن کے بارےمیں معلوم کیا،وہ مجھے ذاتی طور پر جانتے تھے اس لئے فورا آکسیجن کا انتظام ہو گیا اور آکسیجن لے کر میں گھر پہنچا۔اسی دوران رئیسہ کا دوبئی سے فون آیاتھا جب بے بی مجھ سے بات کر رہی تھیں انھوں نے رونے کی آواز سنی  تو فورا بے بی کے بیٹے ہارون اور داماد نجیب کو فون کیا کہ آپا کی طبیعت خراب ہے تم لوگ فورا ان کےگھر پہنچو۔میرے گھر پہنچنے سے پہلے ابتسام ،ہارون اور نجیب گھر پہنچ چکے تھے اور شمیم کو لےکر اسپتال کے لئے روانہ ہو چکے تھے،میں نے بے بی کو گاڑی میں بٹھایا اور ان کے مطابق مڈلینڈ ہاسٹل پہنچا۔وہاں ہر جگہ معلوم کیا لیکن ایسے کسی مریض کے آنے کی اطلاع نہیں ملی۔بے بی نے ہارون کو فون کیا کہ تم لوگ کہاں ہو،وہ لوگ قریب کی وجہ سے نیرا نرسنگ ہوم چلے گئےتھے۔لیکن انھوں نے کہا کہ آپ لوگ گھر واپس چلئے ہم لوگ آ رہے ہیں،ہم لوگ گھر آ گئے ذرا دیر میں یہ لوگ بھی آ گئے ،شمیم اپنی زندگی کا سفر ختم کر چکی تھیں ۔لمحے بھر میں مجھے محسوس ہوا کہ میں دنیا میں اکیلا ہوں‘‘۔

شارب ردولوی نے خود نوشت میں جس زبان کا استعمال کیا ہے، وہ نہایت سادہ ،صاف ، شفاف ، دھلی اور منجھی ہوئی ہے ۔جو ذہن و دل کو معطر کرتی اور ایک خوشگوار تاثر قائم کرتی ہے۔کہیں جملے بنائے نہیں گئے،تراکیب وضع نہیں کی گئیں۔مترادفات سوچے نہیں گئے؛بلکہ ایک بے ساختہ اور بے تکلف زبان کااستعمال کیا گیا ہے، جو کتاب کی اہم خوبی ہے۔سب سے بڑی بات یہ کہ پوری کتاب میں کہیں وہ ایک نقاد نظر نہیں آتے؛ بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک فلم پیش کر رہے ہیں، جس میں ہر پل مناظر تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ہر منظر کے پس منظر میں کئی مناظر ابھرتے چلے جاتے ہیں۔

کتاب کا آخری منظر نامہ”قہر الہی یا دوسری لہر” ہےاس کے تحت ان شعرا ،ادبا علما ،اطبااور دانشوروں کی فہرست ہے جو کرونا کی نذر ہوگئے۔کتاب کا یہ آخری باب یا عنوان ہمیں ان اپنوں کی یاد دلادیتا ہے، جو ہم سے بچھڑ گئے اور ہماری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

پروفیسر شارب ردولوی کی خودنوشت اردو میں ایک تازہ ترین خود نو شت ہے، جس میں ایک عہد کی مکمل تاریخ اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ آباد ہے،جب ہم ان کے وضع کردہ اصولوں پر ان کی خود نوشت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انھوں نے جو اصول اپنے تئیں وضع کئے ان پر انھوں نے پوری ایمان داری اور کامیابی کے ساتھ نہ صرف عمل کیا ؛بلکہ آئندہ لکھنے والوں کے لئے ایک جدید خود نوشت نگاری کی بنیاد بھی رکھ دی ہے؛ لیکن اگر ہم جوش ،ندا اور حال ہیں آئی انور ندیم کی خود نوشتوں کو سامنے رکھیں تو "نہ ابتدا کی خبر ہے نہ اتہا معلوم”ایک شرمیلے شخص کی ایسی نجی ڈائری بن جاتی ہے، جہاں اس نے بعض چیزوں کا ذکرچوری پکڑے جانے کے خوف سے بڑی احتیاط سے کیا ہے۔ جو ہو سکتا ہے ان لوگوں کو تھوڑامایوس کرے جو شارب ردولوی اور ان کے قریبی احباب کے بارے میں پردے کے پیچھے کی باتیں بھی جاننے کی خواپش رہکھے ہوں؛لیکن یہی احتیاط کتاب کو ایک ایساادبی فن پارہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، جس میں ایک عہد کی تہذیبی داستان کے نقوش پنہاں ہیں۔