شرد پوارکا راہل گاندھی پر تبصرہ،ان میں مستقل مزاجی کا فقدان ہے

نئی دہلی:سابق مرکزی وزیر اورکانگریس کے سربراہ شرد پوار نے کانگریس رہنما راہل گاندھی پر ایک بار پھر تبصرہ کیا ہے۔ شرد پوار کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی میں مستقل مزاجی نہیں ہے۔تاہم شرد پوار نے اپنی کتاب میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے راہل کے بارے میں دیے گئے تبصرے پر بھی اعتراض کیا ہے۔ایک انٹرویو میں جب شرد پوار سے پوچھا گیا کہ کیا ملک راہل گاندھی کو قائد کے طور پر اپنانے کے لیے تیار ہے توسابق مرکزی وزیر نے کہا کہ اس کے بارے میں بہت سارے سوالات ہیں ایسا لگتا ہے کہ ان میں مستقل مزاجی کا فقدان ہے۔باراک اوباما کے بارے میں شرد پوار نے کہا کہ میں اپنے ملک کی قیادت کے بارے میں کچھ بھی کہہ سکتا ہوں،لیکن کسی دوسرے ملک کی قیادت پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا،باراک اوباما کا یہ تبصرہ غلط تھا۔کانگریس کی قیادت کے بارے میں شرد پوار نے کہا کہ یہ کسی بھی پارٹی اور ان کی پوری تنظیم پر منحصر ہے کہ وہ کسی کا انتخاب کرتے ہیں اور کس لیڈر کو پوری تنظیم میں اہمیت ہے۔انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی اور ان کے کنبہ کے ساتھ میرا تنازعہ رہا ہے،لیکن ہر کانگریسی اب بھی گاندھی-نہرو خاندان کی طرف راغب ہے۔ واضح رہے کہ شرد پوار کی این سی پی مہاراشٹر میں کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں جب سابق امریکی صدر باراک اوباما کی کتاب جاری کی گئی تھی،اس میں راہل گاندھی کے بارے میں کچھ تبصرے کیے گئے تھے۔ اوباما نے راہل کو ایک گھبرائے ہوے طالب علم کے طور پر بیان کیا جس پر اعتماد کا فقدان ہو اور وہ اپنے استاد کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہو۔ اس بارے میں ملک میں کافی بحث ہوئی تھی۔ کانگریس میں صدر کے عہدے کے لیے انتخاب جلد ہی ہونا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ ایک بار پھر پارٹی کی کمان راہل گاندھی کے ہاتھ میں آئے گی۔لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد راہل نے صدر کا عہدہ چھوڑ دیا،اس کے بعد سونیا گاندھی نے پارٹی کا چارج سنبھال لیا۔ لیکن اب راہل دوبارہ واپس آ سکتے ہیں۔