شردپوار کا بیان وزیر اعظم مودی نہیں،بلکہ بھگوان رام کے خلاف ہے:اوما بھارتی

بھوپال:مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلی اوما بھارتی نے ایودھیا رام مندر معاملے میں سابق مرکزی وزیر اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سپریمو شرد پوارکے ایودھیا رام مندر کے بیان پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ صرف یہی نہیں، انہوں نے پوار کو ’رام دروہی ‘بھی قرار دیا ہے۔ اما نے کہاکہ پوار کا یہ بیان رام کے خلاف ہے، یہ بیان وزیر اعظم مودی کے خلاف نہیں بلکہ بھگوان رام کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر وزیر اعظم 2 گھنٹے وہاں پہنچ جائیں گے تو کون سی معیشت خراب ہوجائے گی۔ سابق چیف منسٹر امابھارتی ساون آج بھوپال کے قریب سیہور کے قدیم گنیش مندر پہنچیں ۔اس دوران انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پوار کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ این سی پی سربراہ کا پی ایم مودی کے خلاف نہیں ،بھگوان رام کے خلاف ہے۔اوما نے کہاکہ وزیر اعظم وہ شخص ہے جو 4 گھنٹے سے زیادہ نہیں سوتا ہے، 24 گھنٹے کام کرتا ہے۔ آج تک کوئی چھٹی نہیں لی۔ وہ جہاز میں کام کرتے ہوئے جائیںگے۔ مجھے ان کی فطرت میں معلوم ہے۔ شرد پوار کا بیان بھگوان رام کے خلاف ہے۔ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے مجوزہ بھومی پوجن پروگرام کے بارے میںاین سی پی کے سربراہ شرد پوار نے کہا ہے کہ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ جس دن مندر تعمیر ہوگا اسی دن کورونا وائرس جائے گا۔ اس لیے شاید انہوں نے یہ پروگرام رکھا ہے۔ کوروناوائرس ابھی ہمارے لئے سب سے اہم ہے۔ شرد پوار نے کہا تھا کہ ہر ایک کو ہمیشہ اس کے بارے میں سوچنا چاہئے کہ کس چیز کو اہمیت دی جائے۔ اس وقت ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ کوروناسے متاثرہ افراد کا علاج کیا جائے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جس دن مندر بنے گا اسی دن کورونا جائے گا۔