شمس الرحمن فاروقی کے انتقال پر پروفیسر ابن کنول کا اظہار تعزیت

دہلی:اردوزبان و ادب کے مشہورناقد اورمعروف محقق شمس الرحمن فاروقی کے انتقال سے جو خلاء پیداہوا ہے اس کا پر ہونا بہت مشکل ہے ،انہوںنے اردوزبان و ادب کے مختلف اصناف میں جس طرح گراں قدرخدمات انجام دیںوہ نہ صرف قابل تعریف اور قابل ستائش ہے بلکہ اب اس طرح کا نقاد پیدا ہونا مشکل ہے ،مذکورہ باتیں شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر ابن کنول نے تعزیتی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا،انہوں نے کہاکہ پرفیسر شمس الرحمن فاروقی نے داستان گوئی کو ایسے وقت میں دوبارہ زندہ کیا جب کہ یہ متروک صنف سمجھے جانے لگی تھی ،انہوں نے داستان گوئی کو دوبارہ رواج دیا،انہوں نے طویل ترین داستان ’’داستان امیر حمزہ ‘‘پر جس محنت اورلگن سے کام کیا وہ شاید ہی کوئی کرسکتاہے ،شمس الرحمن فاروقی ایک شخص نہیں بلکہ ایک ادارہ کا نام تھا ،انہوں نے تین درجن سے زیادہ کتابیں تصانیف کیں،پروفیسر ابن کنول نے مزید کہا کہ انہوں نے اردو زبان و ادب کو اورخاص طور سے کلاسیکل ادب کو انگریزی ادب سے متعارف کرایا،یوروپ اورامریکہ میں انہوں نے داستان گوئی کے فروغ میں اہم کرداراداکیا،ان کے جانے سے اردوزبان و ادب کو واقعی بہت بڑا نقصان ہوا ہے ۔