شمس الرحمن فاروقی کا شب خون:ایک جائزہ-عبدالحی

شمس الرحمن فاروقی کا شب خون جدیدیت کے عہد کی شروعات تھا اور 40برسوں کے طویل عرصے تک اس رسالے کا کوئی ثانی نہیں رہا۔ اپنی طرز کا یہ واحد رسالہ تھا جس نے کوئی خاص نمبر بھی شائع نہیں کیا اور نہ ہی اداریہ شائع ہوا لیکن اس کے باوجود نئی نسل کے ادیبوں اور شاعروں کی ایک طویل فہرست ہے جس نے شب خون سے اصلاح پائی اور شب خون ہی کے ذریعہ ادبی دنیا میں متعارف ہوئے۔
شب خون کے پہلے شمارے کے اداریے ’’کچھ باتیں‘‘ میں مدیر شب خون کی غرض وغایت اور مقاصد پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ہندوستان میںعلمی وادبی رسالوں کی تعداد بہت کم ہوتی جارہی ہے۔ گنتی کے چند ایسے جریدے رہ گئے ہیں جو چراغ راہ بن کر راہ ادب کو روشن کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر تعداد کی کمی اور روشنی کافقدان ان دونوں وجوہ سے بھی بہت ناکافی ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف ان ہی لوگوں پر نہیں جو اردوزبان سے بیگانگی برتنے میں فخرمحسوس کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں پر بھی ہے جو اپنے کو اردو دوست سمجھتے اور کہتے ہیں اس لیے کہ کوئی ادبی تنظیم ایسی نہیں جو تمام بکھرے ہوئے دانوں کو ایک رشتہ میں پرودے،مختلف ومتعدد اہل فکر کے افکار ومحسوسات کو ایک اچھی صورت میں منظر عام پر لاسکے، پرانے لکھنے والوں کی اچھی تخلیقات، چھاپے اور نئے لکھنے والوں کی ہمت افزائی کرے، یہ کمی اردودوستوں کے ہردیار میں محسوس کی جارہی ہے۔ اسی احساس کانتیجہ ہے کہ الہ آباد کے کچھ باہمت ادیبوں اور ادب دوستوں نے یہ ماہنامہ نکالنے کی فکر کی۔ نوجوان اور جوانوں کی اس مختصر محفل میں دوایک بوڑھے بھی شریک کیے گئے جن سے رہنمائی ومزید تعاون کی درخواست کی گئی۔ بوڑھوں نے بھی لبیک کہا مگر احساس وعمل کی منزل میں جوچیز سب سے زیادہ سدراہ تھی وہ وہی تھی جس کو دنیا نے ستارعیوب وقاضی الحاجات سمجھا ہے۔ اپنے اپنے طور پر سبھی اس مرحلے کو طے کرنے کے طریقے پر غور کررہے تھے، مگر باوجود خلوص وفکر کے مالی دقت کی مہم سر ہوتی ہوئی نظر نہ آتی تھی۔ ارباب علم وفن کی اس کشمکش کو دور کرنے کے لیے جمیل فاروقی (پرنسپل قدوائی گرلز کالج) الہ آباد نے اپنی آواز بلند کی۔ نہایت متین وحوصلہ افزا لہجہ میں اطمینان دلایا کہ اگر صرف روپیہ کی کمی سے یہ کارخیر رک رہا ہے تو آپ لوگ اس کی فکر میں وقت نہ ضائع کریں اس کا انتظام ہوجائے گا۔ چنانچہ اسے آواز غیب سمجھ کر کشتی منجدھار میں ڈالی جارہی ہے۔ (شب خون،پہلاشمارہ،اداریہ سید اعجاز حسین،جون 1966 ۔ ص 3)
پہلاشمارہ منظرعام پر آنے کے بعد اسے ہاتھوں ہاتھ لیاگیا۔ اس کے کالموں میں فروغ فکر، صہبائے آبگینہ گداز، زمانہ بڑے شوق سے سن رہاہے۔ قصہ جدید وقدیم، کہتی ہے خلق خدا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ بعد میں ان میں سوانحی گوشے، اورادبی خبروں پر مبنی کالم اخبار واذکار کااضافہ ہوگیا۔ فروغ فکر کے تحت تنقیدی مضامین شائع کیے جاتے تھے۔ شب خون کے دوسرے شمارے میں فروغ فکر کے تحت ڈاکٹر محمد حسن، ڈاکٹر سید محمد عقیل، محمداحمد فاروقی او رشمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی مضامین شائع ہوئے ہیں۔ صہبائے آبگینہ گداز کے تحت شعری نگارشات شائع ہوتی تھیں۔ شب خون کے دوسرے شمارے میں فراق گورکھپوری،آل احمد سرور، سید احتشام حسین، جمیل مظہری، شہریار، عمیق حنفی، یعقوب عثمانی وغیرہ کی شعری تخلیقات شامل اشاعت ہوئی ہیں۔ زمانہ بڑے شوق سے سن رہاہے کالم کے تحت افسانے شائع کیے جاتے تھے۔شب خون کے دوسرے شمارے جولائی 1966 میں راجندر سنگھ بیدی، رفیعہ منظورالامین، واجدہ تبسم کے افسانے ہیں ان کے علاوہ جان کالیر، پی پرم راجو اور جارج لوٹی بورہس کی کہانیوں کے اردوترجمے بھی شائع کیے گئے ہیں۔ قصہ قدیم وجدیدکے تحت کتابوں پرتبصرے اورشعری سرگرمیوں پر مبنی خبریں پیش کی جاتی تھیں کہتی ہے خلق خدا کے تحت قارئین کے تاثرات شائع کیے جاتے تھے۔
شمس الرحمن فاروقی کے رسالے شب خون میںترقی پسندی کے بعد کے ادب کی باتیں نظرآتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ رسالہ جدیدیت کے ترجمان کے طورپر شروع کیاگیا تھا۔ اس لیے اس میں جدیدادب اور جدید نثر نگاروں، شاعروں کی نگارشات ہی زیادہ شائع ہوتی رہی ہیں۔ اداریے میں مغربی ادیبوں کے نثر پاروں سے انتخاب شائع کیاجاتاتھا۔ شب خون ایسا رسالہ تھا جس میں مغربی ادب کی جھلک صاف نظر آجاتی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے مغربی ادب کو کافی اہمیت دی ہے اور اپنے رسالے میں بھی مغربی ادب کو خاطر خواہ جگہ دی ہے۔
ان مختصر ادارتی اقتباسات کے کچھ عنوانات اس طرح ہیں۔
’’ اچھی شاعری وقبولیت کا تاج۔ جارج آرویل۔ جنوری فروری 1974
ناول کی صورتحال۔ برنارڈبرگو تری مارچ اپریل 1974
جدیدیت کی فکری اساس۔ ال مین اور فیڈلسن، اکتوبر نومبر 1974
خالص ناول کا نظریہ۔ آندرے ژید، اگست ستمبر 1976
سر ریلزم کیا ہے؟ آندرے بریتوں۔ اکتوبر نومبر 1976
ادب اور فحاشی،جارج اسٹینر۔ مارچ اپریل 1977
نثر نگار کے لیے ہدایات۔ جارج آرویل۔ مئی جون جولائی 1977
شاعر ارادہ اور مراد، ومزٹ اور بیرڈسلی، اگست ستمبر اکتوبر 1977
یہ موضوعات یوںتو مغربی ادب سے مستعار لیے گئے ہیں لیکن اردو ادب میں بھی ان کی اہمیت سے انکارنہیں کیا جاسکتا ہے۔ مثلا جارج آرویل کا ایک اقتباس اچھی شاعری اورقبولیت کے تاج کے عنوان سے شائع ہواہے جس میں جارج آرویل نے اچھی شاعری کے مقبول عام ہونے کی وجوہات بتائی ہیں۔ اور لکھا ہے کہ ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں اس میں اچھی شاعری چندمخصوص لوگوں کا طرز فکر اور یقین ہے اور ایسا ہی ہونا بھی چاہیے۔ ناول کی صورتحال پر برنارڈبرگو شری نے لکھا ہے کہ ناول نگار کے ناقدین بھلے ہی یہ کہہ د یں کہ اچھے ناولوں کاخاتمہ ہوگیا ہے لیکن پھر بھی ناول میں نئے پن اور تازگی کی تلاش باقی ہے ناول کی ہیئت میں تبدیلی ضروری ہے اور تبھی اچھے ناول وجود میں آسکیںگے۔ شب خون پر بھلے ہی جدیدیت کا الزام عائدکیا جاتا رہاہو لیکن شمس الرحمن فاروقی نے اس میں ترقی پسند ادیبوں اور ان کی اشاعت کو بھی کافی جگہ دی ہے۔ کارل مارکس جسے ترقی پسند ادیب اورمفکر کی تحریروں کو بھی انھوں نے اپنے ادارتی اقتباس میں جگہ دیکر یہ ثابت کردیا ہے کہ شب خون کی اعلیٰ اورمعیاری تحریریں کسی خاص تحریک یا مہم سے مبراہیں۔ شب خون جس وقت جاری ہوا تھا اس دور کے آس پاس مغرب میں فحش ادب کی تحریک شروع ہوئی تھی۔ لوگ غلامی اور قید سے چھٹکا رہ پاکر ذہنی آسودگی حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے ادب کا سہارہ لینے لگے تھے لیکن حقیقتا یہ ادب انسان کے لیے نقصان دہ تھا۔ اس طرح کے ادب اورفحش نگاری پر جارج اسٹینر کا یہ اقتباس مارچ اپریل 1977 کے شمارے میںشائع کیاگیا تھا۔
اس زمانے کے فحش نگار ہماری یہ آخری اور سب سے زیادہ ضروری پرائیویسی کو درہم برہم کردیتے ہیں وہ ہمارے تخیلاتی تفاعل کو خود ہی انجام دینے لگے ہیں۔ وہ ان الفاظ کو ہم سے چھین لے جاتے ہیں جو ہماری راتوں کی ملکیت ہیں اور انھیں اپنی فراز بام سے پکار پکار کرلوگوں کو سناتے ہیں انھیں کھوکھلا کردیتے ہیں۔ اس طرح ادب کی آزادی اور ہمارے سماج کی داخلی آزادی کو نیا خطرہ Censorship یا اظہار کی تنگی نہیں ہے۔ (یہ خطرے تو پرانے ہیں) خطرہ اس میں ہے کہ فحش نگار اپنے پڑھنے والوں اپنے کرداروں اورزبان تینوں کے ساتھ ا یک نہایت لاپرواہ قسم کی حقارت کا اظہار کرتاہے کیوںکہ وہ ہمارے خفیہ خوابوں کو تھوک کے بھائو بیچتا ہے۔ یہ کتابیں انسان کو کم آزاد اور کم منفرد بنادیتی ہیں۔ یہ زبان کو مفلس تر کردیتی ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ امتیاز اور جذباتی تحرک کی تازگی کی صلاحیت زبان کم ہوجاتی ہے۔ یہ کتابیں نئی طرح کی آزادی نہیں بلکہ غلامی کی علمبردار ہیں۔(54جارج اسٹینر،ادب اور فحاشی، شب خون۔مارچ اپریل،1977 ۔ص۔2)
مغربی ادب کے ان اقتباس میں ناول کے مسائل، نئی شاعری کی صورتحال، ادب اورادیب کے رشتوں، دوسرے فنون لطیفہ جیسے آرٹ اور فنکاری، لوک گیتوں جیسے موضوعات کااحاطہ کیاگیا ہے۔ تقریبا سارے موضوعات ہی ایسے ہیں جو اردوزبان وادب کی صورتحال سے پوری طرح مربوط ومبسوط نظرآتے ہیں۔ ان اقتباسات کو علیحدہ طور پر اگر کتابی سائز میں شائع کردیا جائے تو یہ اپنے آپ میں منفرد اور لاجواب انتخاب ہوگا۔ ان میں ایسے ایسے معاملات ومسائل کو موضوع سخن بنایا گیا ہے جو اس سے قبل کہیں نظر نہیں آتے ہیں۔ مثلا سائنس اورشاعری کوموضوع بناتے ہوئے ایف ایل لیوکس کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
انیسویں صدی کی سائنس نے سائنسی آلات کو لاٹھی کی طرح استعمال کرتے ہوئے شاعری کو ٹاٹ باہر کردیا لیکن مجھے لگتا ہے کہ بیسویں صدی کی سائنس دروازہ کھول کر شاعری کاخیرمقدم کرتی ہے۔ سائنس نے جو کچھ شاعری سے لیاتھا اس کی جگہ اسے کچھ دیا بھی ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ قوس قزح کوئی پرواز کرتی ہوئی دیوی نہیں ہے بلکہ روشنی کی لہروں کا کھیل ہے لیکن اس سے بھی آگے بڑھ کر سائنس کہتی ہے کہ لہریں بھی کچھ نہیں محض واہمہ ہیں علامت ہیں اور کچھ ہمارے حسی تاثرات کو بیان کرنے کا طریقہ ہے۔ کلا سیکیت، رومانیت اور واقفیت۔ایف ایل لیوکس۔(ایف ایل لیوکس، شب خون، الٰہ آباد،مئی جون جولائی،1987 ۔ص،1)
شب خون کے ان اقتباسات میں ہمیں موضوعات کا بھی تنوع دکھائی دیتا ہے۔ تانیثی ادب جیسے موضوعات کا بھی احاطہ کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ،وضیعات کے دفاع میں مئی جون جولائی 1991، اگست ستمبر اکتوبر 1991۔ نئی تاریخیت یا مارکسی وضیعات نومبر 1991 تا اپریل 1992 ناول کی خصوصیات، بافن کی نظر میں، مئی تا اکتوبر 1992 کثیر الصوت ناول کا نظریہ۔ میخائل بافتن۔ جنوری فروری 1993 دریدا سے بات چیت، مارچ تامئی 1993،تحریر ی متن، زبانی متن اور بھرتری ہری۔ جولائی 2002،شاعری اور کذب مئی 2002،ولی کی لاش کی بے حرمتی اور مزار کی شہادت، اپریل 2002 وغیرہ قابل ذکر عنوانات ہیں۔ ان اقتباسات میں جہاں اہم مغربی ادیبوں کے شہہ پاروں کا بہترین انتخاب پیش کیاگیا ہے وہیں ان کی شعری تخلیقات کے بھی ترجمے شائع کیے گئے ہیں۔کچھ اقتباسات حالات حاضرہ پر بھی مبنی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ادب سماج کا عکاس ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ عصری واقعات و حالات پر بھی ادبی رسالے میں لکھا جائے ۔
اردو زبان میں شب خون واحد ایسا رسالہ ہے جس نے ادارتی اقتباس میں اس طرح کا تجربہ کیا ہے، اداریہ کسی رسالے یا اخبار کی اپنی پالیسی پر مبنی ہوتا ہے اور اداریے سے اس رسالے یا اخبار کی سمت ورفتار کا اندازہ ہوتا ہے لیکن شب خون میں اداریہ شائع نہ کرکے مغربی ادیبوں کے اقتباسات پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ اداریہ کسی اخبار یاجریدے کے لیے کتنا اہم اورضروری ہے کچھ اہم ناقدین کاخیال ہے کہ اداریہ کسی اخبار یا رسالے کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا ایک انسان کے لیے سانس لینا لیکن شمس الرحمن فاروقی نے اس معاملے میں روایت سے بغاوت کی ہے اور اداریہ نہ شائع کرتے ہوئے بھی اپنے رسالے کو کامیاب وکامران بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ان کارسالہ اپنے عہد کا ممتاز اورقابل ذکر رسالہ ہے کہ جدیدیت کی سمت ورخ طے کرنے میں اس رسالے نے اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس رسالے کی طرز پر ہی بعد میں ذہن جدید، نئی کتاب وغیرہ شروع کیے گئے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ شب خون کے ان ادارتی اقتباسات کو ایک جگہ جمع کرکے انھیں کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔ یہ اردو ادب کے موجودہ مسائل کو دور کرنے اور اس کی موجودہ ترقی کو نئی رفتار دینے میں معاون ثابت ہوگا۔ شب خون ایسا رسالہ ہے جس نے 40سال کی عمر پائی لیکن ان چالیس برسوں میں اپنی منفرد شناخت قائم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کا آخری شمارہ بھی کافی ضخیم اوردستاویزی نوعیت کا ہے اور اس شمارے کو کافی اہتمام کے ساتھ شائع کیاگیا تھا۔ بھلے ہی آج شب خون شائع نہ ہورہاہو لیکن 1966 سے 2005 تک کے شمارے اپنے آپ میںوہ دستاویز ہیں جن میں اردو ادب کی ترقی اورعصری رجحان سے مطابقت کا راز پنہاں ہے۔آج فاروقی صاحب ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ادب میں ان کے کارنامے انھیں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ فاروقی محض ایک شخص کا نام نہیں تھا بلکہ فاروقی ایک عہد کا نام تھا۔ پچھلے 40 برسوں میں اردو تنقید و تحقیق کا میدان دیکھ لیں ، اس میں گنے چنے چند ناموں کی حکمرانی رہی ہے جس کے قافلہ سالار شمس الرحمٰن فاروقی تھے۔ ان کے جانے سے اردو زبان و ادب کی گلیاں سونی ہوگئی ہیں اور ادب میں اب شاید ہی کوئی دوسرا فاروقی پیدا ہو۔ میں اپنی باتیں معروف ادیب و ناقد اور شاعر جناب فاروق ارگلی کے اس اقتباس پر ختم کرتا ہوں۔
انڈین پوسٹل سروس کی مصروف ترین ملازمت کے ساتھ اتنے سارے کارنامے انجام دینا اور علم وادب کی دنیا میں اپنی شخصیت کو لافانی بنالینا فاروقی صاحب کی کرشمائی شخصیت کا کمال ہے۔ دنیا ئے ادب انگشت بدنداں ہے کہ سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے بھی انھوں نے شب خون جیسا عہد ساز اور طاقتور رسالہ جاری کیا جس کے ذریعہ انھوں نے جدیدیت کی اس شدت سے تبلیغ کی کہ پورے ایک دور کو بدل کر رکھ دیا۔ شمس الرحمن فاروق کے برپا کردہ انقلاب نے تخلیق وتصنیف کے دھارے موڑدیئے۔ انھوں نے سرمایہ ومحنت کی کشمکش کے اشتراکی رجحان کے خلا ف آواز بلند کی جس کی مادیت اور نظریات جبر نے ان کے خیال میں تخلیقی ادب کو خطابت اورصحافت بنادیا تھا۔ انھوں نے اردو میں علامتی،ایمائی، اور تجدیدی تخلیقی رجحان کو فروغ دیا جس میں غزل چیستاں بن گئی اورافسانے سے کہانی غائب ہوگئی۔ اس کے لیے شمس الرحمن فاروقی پر ایک مخصوص نظریاتی طبقہ توڑپھوڑ اور ادبی تخریب کاری کاالزام بھی عائد کرتا ہے لیکن یہ الزام اگرصحیح بھی ہے تو بھی فاروقی کی جدیدیت پسندی اورشب خون کی اہمیت پر حرف نہیں آتا بلکہ یہ اس تخریب کے بعد ایک نئی تعمیر کے آغاز میں ان کے قائدانہ کردار کی تاریخی علامت ہے۔ شب خون نے بہت سے نئے قلمکاردیے، ان جدید قلمکاروں نے کہانیوں کے بغیر جو کہانیاں لکھیں انھیں کہانی کانام نہ دیکر بے نام ادبی صنف کے نام سے ہی کیوں نہ یاد کیاجائے لیکن یہ تبدیلی کے عبوری دور کا بیش قیمتی سرمایہ ہے۔ ( فاروق ارگلی،مضمون شمس الرحمن فاروقی۔۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا۔ 30ستمبر 2008، ص4)