شمس الرحمن فاروقی اردو کی تاریخ میں تا حشر زندہ رہیں گے:پروفیسر شمیم حنفی

نئی دہلی:شمس الرحمن فاروقی کا انتقال عظیم سانحہ ہے۔ وہ عہد حاضر میں بلامبالغہ اردو کے سب سے بڑے اسکالر تھے۔ ان کا علم یک رخا نہیں تھا۔ وہ اتنی چیزوں سے واقف تھے اور انھوں نے اتنی جہتوں پر اپنے نقوش قائم کیے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ ان کے اثر سے نکلنا ہمارے لیے دیر تک آسان نہیں ہوگا۔ ان کی اسکالر شپ نہایت معتبر تھی، ان کے وسائل مشکوک نہیں تھے۔ وہ نہایت مربوط اور منظم ذہن کے مالک تھے۔ انھوں نے اردو شعروادب کو پڑھنے کا ایک نیا زاویہ عطا کیا۔ اس حوالے سے شمس الرحمن فاروقی اردو کی تاریخ میں تا حشر زندہ رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز دانشور اور ادیب و نقاد پروفیسر شمیم حنفی نے شمس الرحمن فاروقی کی رحلت پر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعزیتی جلسے میں کیا۔ پروفیسر عتیق اللہ نے گہرے رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاروقی صرف اقرار ہی نہیں بلکہ بڑی جراتوں کے ساتھ انکار اور رد بھی کرتے تھے۔ فاروقی کے بغیر تفہیمات غالب، میر شناسی اور داستان فہمی سے ادبی دنیا محروم رہ جاتی۔ پروفیسرقاضی عبیدالرحمن ہاشمی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ فاروقی نے ادبی تنقید کو لسانی فلسفیانہ لیبوریٹری کا معمول بنانے کے بجائے اس کی زندہ سالمیت اور ادبی و جمالیاتی شناخت کو برقرار رکھنے سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ تعزیتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر وہاج الدین علوی نے کہا کہ فاروقی کا رخصت ہوجانا صرف اردو والوں کا ہی نہیں بلکہ ہندوستانی ادب کا خسارہ ہے۔ جس محفل میں فاروقی موجود ہوتے وہاں اچھے اچھوں کی بولتی بند ہوجاتی۔ ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ فاروقی صاحب کی علمی و ادبی عظمت سے تو سبھی واقف ہیں لیکن وہ شخصی طور پر بھی نہایت اعلیٰ اخلاق اور شفقت و محبت کے پیکر تھے۔ پروفیسر شہپر رسول نے مرحوم سے اپنی ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ اور اہل جامعہ سے انھیں بے پناہ تعلق خاطر تھا اور وہ جامعہ کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ ہنسی ہنسی میں نہایت اہم نکات بیان کرجاتے تھے۔ کارگذار صدر شعبہ پروفیسر احمد محفوظ سے شمس الرحمن فاروقی کا نہایت گہرا علمی اور ذاتی رشتہ تھا، چنانچہ وہ سوگواری کی اس فضا میں نم دیدہ ہوگئے۔ انھوں نے کہا کہ میرے نزدیک فاروقی صاحب عہد حاضر میں اردو کے سب سے بڑے ادیب و نقاد تھے۔ پروفیسر شہزاد انجم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ وہ یقینا ایک لیجینڈ تھے۔ رسالہ شب خون کے ذریعے انھوں نے ادبی صحافت کو ایک خاص معیار اور وقار عطا کیا۔ پروفیسر کوثر مظہری نے فاروقی کو ایک ایسا دانشور قرار دیا جس کی حیثیت ایک نقاد کی بھی ویسی ہی تھی جیسی کہ ایک تخلیق کار کی۔ بلامبالغہ فاروقی صاحب کی شخصیت کو ایک ادبی فینومینن سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔پروفیسر خالد جاوید نے اپنے تعزیت نامے میں کہا کہ فاروقی کی رحلت سے ادبی بساط ہی الٹ گئی۔ اب میں ایک اتھاہ سناٹے کو محسوس کرتا ہوں، ان کے نہ ہونے سے سب کچھ جیسے خالی خالی سا ہوگیا ہے۔ پروفیسر ندیم احمد نے اعتراف کیا کہ تقریر و تحریر کے حوالے سے کئی نسلوں نے فاروقی سے فیض حاصل کیا ہے۔ انھی میں سے میں بھی ہوں۔ ڈاکٹر عمران احمد عندلیب نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اردو زبان و ادب کو جو کچھ دیا ہے اسے بھلایا نہیں جاسکتا۔ فاروقی گلشن کی اس بہار کا نام ہے جس سے نہ جانے کتنے مرجھائے پھول کھل اٹھے۔ ڈاکٹر سرورالہدیٰ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ فاروقی نے جیتے جی تحریر کو سب سے بڑی طاقت ثابت کردیا۔ فاروقی کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ انھوں نے کبھی کسی کو خوش کرنے کے لیے کچھ نہیں کہا۔ ڈاکٹر شاہ عالم نے بیان دیا کہ فاروقی صاحب کی شخصیت ہمہ جہت ہے۔ ان کے نقوش کلاسیکی شعر و ادب، غزل کی شعریات، میر شناسی، داستانی ادب، لغت، فکشن اور شاعری سب پر ثبت ہیں۔ تعزیتی قرار داد پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد مقیم نے کہا کہ فاروقی صرف معرکۃ الآرا کتابوں کے مصنف ہی نہیں بلکہ ادب شناسی کی شاہراہ میں نئی نسل کے لیے وہ ایک روشن مینار کی طرح ہیں۔نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ شمس الرحمن فاروقی عہد ساز و رجحان ساز ادیب و نقاد تھے۔ان کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ انھوں نے کلاسیکی شعر و ادب کے حوالے سے احساس کمتری کے بجائے ہمارے اندر تفاخر کا جذبہ پیدا کیا۔ تعزیتی جلسے میں مشہور ترجمہ نگار اور وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سکریٹری ڈاکٹر اے نصیب خان بھی شریک ہوئے۔ پروفیسر احمد محفوظ کے استاد اور جدید لب و لہجے کے مشہور شاعر عبدالحمید نے بھی بذریعۂ فون گہرے رنج و ملال کا اظہار کیا۔ تعزیتی جلسے میں پروفیسر عبدالرشید، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر شاداب تبسم، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی اور ڈاکٹر محضر رضا وغیرہ موجود تھے۔ اس نشست کا اختتام دعائے مغفرت پر ہوا۔