شمس الرحمن فاروقی:چند یادیں-شکیل رشید

سانحات کا سال 2020ء جاتے جاتے سب سے بڑا غم دے گیا ۔ شمس الرحمن فاروقی کا اُٹھ جانا، جیسا کہ لوگ کہتے ہیں، ایک عہد کا خاتمہ ہے، لیکن میں اسے صرف ایک عہد کا خاتمہ نہیں مانتا، اس کے اثرات سے تو کئی عہد متاثر ہوں گے ۔ جس طرح فاروقی صاحب نے اپنی حیات میں اپنی علمی اور ادبی خدمات سے اپنے اور اپنے سے پہلے اور اپنے بعد کے ادوار پر،مثبت اثرات (منفی کم) مرتب کیے ہیں اسی طرح ان کے چلے جانے کے اثرات بھی آنے والے دور کو متاثر کریں گے، اور چونکہ اب دور دور تک اُن جیسا کوئی نظر نہیں آتا اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تاریکی سے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈ پانا ناممکن نہ سہی ازحد مشکل ہو جائے گا ۔ کوئی تو اب ایسا نظر نہیں آ رہا ہے جو زبان اور ادب کی راہ سے بھٹکنے والوں کو سیدھی راہ پر لے آئے ۔ مجھے مرحوم شمس الرحمن فاروقی سے اپنی چند ملاقاتیں یاد آ رہی ہیں، شاید میں ان ملاقاتوں کے تذکرے سے اپنی بات کی وضاحت کر سکوں ۔ فاروقی صاحب ممبئی آئے تھے اور ممبئی سینٹرل کے قریب واقع ہوٹل ساحل میں ٹھہرے ہوئے تھے، مرحوم معین احمد (ممبئی اردو نیوز کے مالکان خالد احمد اور امتیاز احمد کے بڑے بھائی) نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ فاروقی صاحب کا ایک انٹرویو ہونا چاہیے ۔ میں اپنے دفتر کے ایک ادب نواز ساتھی محمد عباس کو لے کر ہوٹل کے ان کے کمرے پر پہنچا اور انٹرویو کی خواہش کا اظہار کیا، راضی ہو گئے ۔ میں نے کہا کہ انٹرویو غیر ادبی ہوگا کیونکہ ادبی موضوعات پر تو روز بات ہوتی ہے ۔ فاروقی صاحب نے ابتدا میں یہ کہتے ہوئے کہ میں ادب کا آدمی ہوں میں غیر ادبی موضوع پر کیا بات کروں گا، انٹرویو دینے سے انکار کر دیا ، لیکن پھر تیار ہو گئے ۔ بہت سی باتیں ہوئیں، انٹرویو شائع بھی ہوا، لوگوں نے پسند بھی کیا، لیکن مجھے اب لگتا ہے کہ فاروقی صاحب غیر ادبی موضوعات پر اگر انٹرویو نہیں دینا چاہتے تھے تو وہ درست تھے ۔ یہ سچ ہے کہ غیر ادبی گفتگو سے سیاست اور سماج کے دوسرے معاملات میں ان کے نظریات اور تصورات سامنے آ گیے، مگر اس سے نہ سماج میں کوئی ہلچل مچی اور نہ ہی کوئی تبدیلی آئی، اگر بات ادب پر ہوئی ہوتی تو شاید مرحوم کوئی ایسا نکتہ پیش کر دیتے جس سے اردو زبان کے طلبہ کو فائدہ پہنچ سکتا اور اردو پڑھنے والوں تک کوئی نئی بات پہنچ جاتی ۔ اس سے ایک صحافی کے طور پر مجھے سبق ملا کہ جو شخص جس میدان کا شہسوار ہے اس سے، اس وقت تک اس کے فن سے ہٹ کر کوئی گفتگو نہیں کرنی چاہیے جب تک کہ وہ خود اپنے فن کے علاوہ دیگر موضوعات پر بات کرنے کے لیے نہ کہے ۔ اسی سفر میں مرحوم دفتر تشریف لائے تھے، اور دفتر میں ان کی سرگرمی دیکھ کر احساس ہوا کہ فاروقی صاحب بس اور بس ادب کے آدمی ہیں، ادب ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے، اور اگر وہ ادب کے سوا اور کسی شعبے سے دلچسپی نہیں رکھتے، یا کم دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ عین اُن کی فطرت اور مزاج کے مطابق ہے ۔ کمپیوٹر پر بیٹھے آپریٹروں اور صحافیوں کو دفتر میں گھوم گھوم کر بتاتے رہے کہ کسی نام کے ساتھ جناب لگایا ہے تو صاحب نہ لگاؤ، یا تو نام کے ساتھ صرف جناب لکھو یا صاحب ۔ ایک کمپیوٹر پر کسی کو ٹائپ کرتے دیکھا ریلوے اسٹیشنز، غلطی سدھاری کہ تم انگریزی نہیں اردو لکھ رہے ہو، جمع اردو قاعدے سے بناو، اسٹیشنوں ۔ غرضیکہ زبان کی باریکیاں بتاتے اور غلطیوں کی اصلاح کرتے رہے ۔یہ ہمزہ سے لئے نہیں لکھتے، یوں لکھتے ہیں، لیے ۔ یہ تھے فاروقی صاحب، زبان اور ادب کے میدان کے ایسے شہسوار کہ کسی کو راہ سے بھٹکتا دیکھا اور اصلاح کردی ۔ ایسی اور بھی یادیں ہیں، ممبئی یونیورسٹی کے سمینار کی یاد، فون پر پوچھے گئے سوال اور ان کے جواب کی یاد، مرحوم دوست سکندر احمد کی زبانی ان کے چند ادبی معرکوں کی یاد ۔ اب بس یہ یادیں ہی خزانہ ہیں اور بہت بڑا خزانہ ۔ اللہ فاروقی صاحب کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین ۔