شمس الرحمٰن فاروقی بحیثیت افسر-دیپک بُدکی

شمس الرحمٰن فاروقی کے بارے میں اپنے تاثرات پیش کرنامیرے لیے باعث افتخار ہے ۔ ان کو بحیثیت ایک نقاد اور شاعر کے ساری ادبی دنیا جانتی ہے مگر بطور بھارتیہ سرکار کے اعلیٰ افسرکے شاید سبھی ادیب آشنا نہ ہوں۔ فاروقی صاحب سے میرا تعارف ان دنوں ہوا تھا جب میں اتر پردیش پوسٹل سرکل میں پروبیشنر تھا۔اس سے پہلے مسوری میں ایک پوسٹل افسر، ایس کے پارتھاسارتھی نے مجھے ان ہاؤس میگزین کا اردو سیکشن نکالتے وقت کہا تھا ’’ تم تو اب یوپی جارہے ہو، لکھنٔو میں اردو کے فیمس رائٹر فاروقی صاحب سے ملاقات ہوگی ۔‘‘جب لکھنٔو پہنچا تو فاروقی صاحب سے ملنے کی بے چینی تھی۔ ایک روزاپنی اہلیہ بینا کو لے کر ان کی رہائش پر کال آن کرنے گیا ۔ میرا خیال تھا شاعر آدمی ہیں، شاعر کی طرح رہتے ہوں گے۔ مگر ان کی وضع قطع تو مغربی انٹلکچول کی سی لگ رہی تھی ۔ چھوٹا قد، موٹا چشمہ ، خوش لباس اور منہ میں پائپ ۔ دائیں بائیں سب جگہ کتابوں کی الماریاں نظر آرہی تھیں۔ وہ کسی طور بھی ہندوستانی شاعر نہیں لگ رہے تھے ۔بہت خاطر تواضع کی ۔ چنانچہ اکیلے رہتے تھے اس لیے ہوٹل سے چائے اور کباب منگوائے ۔شاید ٹنڈے کباب تھے!
اس سے پہلے جب میں اردو کا باضابطہ طالب علم بن چکا تھاروزانہ کسی نہ کسی بک سیلر یا نیوز ایجنسی پر اردو کے میگزین ڈھونڈا کرتا تھا ۔ کئی میگزین نظرسے گزرتے تھے جیسے بیسویں صدی ، کتاب ، شب خون ، آج کل ، تعمیر وغیرہ ۔ ان میں سے ’بیسویں صدی ‘میرا پسندیدہ رسالہ تھا کیوںکہ میں مبتدی تھا مگر گاہے گاہے دوسرے رسالے جیسے ’تعمیر‘ اور ’شب خون ‘ بھی خرید لیتا تھا۔ شب خون کی ادارت شمس الرحمٰن فاروقی کی بیگم کرتی تھیں مگر دراصل سارا کام وہ خود ہی سنبھالتے تھے ۔ رسالہ دوسرے جریدوں سے بالکل ہٹ کر ہوتا تھا البتہ میرے پلے توکچھ بھی نہ پڑتا تھا۔
فاروقی صاحب یو پی سرکل آفس میں ڈائریکٹر تھے ۔ میں نے بحیثیت پروبیشنر سرکل آفس میں جوائن کر لیا۔سرکل آفس میں افسروں کی بہت ہی اچھی ٹیم ہوا کرتی تھی ۔این سی تعلقدار، ایس پی گلاٹی، ٹی ای رمن ،شمس الرحمٰن فاروقی ،ایس کے آچاریہ وغیرہ۔آئی ایم جی خان بطور اے اپی ایم جی کے کام کرتے تھے۔ آرمی پوسٹل سروس کے کرنل چوپڑہ صاحب بھی گاہے بہ گاہے لنچ وغیرہ پر شرکت کرنے چلے آتے ۔اس وقت بالکل کلب کی سی کیفیت ہوجاتی تھی۔ ان ہی دنوں لکھنٔو میں ڈاک ٹکٹو ں کی نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ شاید بیگم حضرت محل پارک میں ۔ فاروقی صاحب نے مجھے وہاں پر تعینات کیا اور نمائش آرگنائز کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ساتھ ہی رہنمائی بھی کرتے رہے ۔
کبھی کبھار وہ مجھے اپنے ساتھ کسی ادبی محفل میں لے جاتے ۔ ان کی بدولت میں صابری برادراںکی قوالی سے محظوظ ہو ا۔ البتہ ادبی معاملات میں ان سے بات کرنے میں جھجھک ہوتی تھی۔ ایک بار دفتر میںان کو ا پنے افسانے پڑھنے کے لیے دیے۔ دو تین دن کے بعد جب پوچھا تو انھوں نے زیادہ کچھ نہ کہاصرف افسانے یہ کہہ کر لوٹا دیے کہ اچھے ہیں مگر بدنی زبان کچھ اور ہی کہہ رہی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ انھیں میرے افسانے پسند نہیں آئے ہیں مگرمنہ سے کہہ نہیں پارہے ہیں۔البتہ ایک تجریدی افسانے ’جاگو‘ پر انھوں نے اپنے خیالات کا یوں اظہار کیا۔’’ اس کہانی میں آخری پیراگراف غیر ضروری ہے ۔‘‘ تعجب کی بات یہ رہی کہ انھوں نے اپنی رائے ۱۹۷۷ء میں ظاہر کی، اس کے بعد میں نے اپنی ساری چھپی ان چھپی کہانیاں آگ کی نذر کر دیں ، پھر اسی کہانی کو ۱۹۹۶ ء کے آس پاس از سر نوقلمبند کر لیا اور رسالہ ’اثبات و نفی‘ کے ایڈیٹر عاصم شہنواز شبلی کو ، جو فاروقی کے پیرو کاروں میں سے ہیں، بھیج دیا ۔ انھوں نے بھی وہی بات کہی کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کہانی کا آخری پیراگراف حذف کرلوں۔ مجھے حیرت ہوئی اور دل سے آواز آئی کہ یہ جدیدیے تو سب کے سب ایک تھان کے ٹکڑے ہیں ۔ میں نے اجازت دی اور پھر جب یہ کہانی میری کتاب میں چھپی وہاں بھی اس پیراگراف کے بغیر ہی شائع ہوئی۔
ایک اور بار لکھنٔو میں ان کی رہائش پر یوں ہی حاضری دی ۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ کی یہ جدید شاعری میرے پلے نہیں پڑتی ، سمجھ میں نہیں آتا کہ آج کل کے شعرا کیا لکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا ۔’’پیچھے الماری سے کوئی بھی شاعر ی کی کتاب نکالو‘‘۔ مجھے جو کتاب سامنے نظر آئی ، اٹھا لی۔ کہنے لگے۔’’اس میں سے کوئی سی نظم پڑھ لو ۔‘‘ جب نظم پڑھ لی ، پھرکہنے لگے ’’کچھ محسوس ہوا کہ شاعر کیا کہنا چاہتا ہے۔‘‘ میں نے کہا ’’ہاں ، یہ تو سمجھ میں آیا کہ شاعر کیا کہنا چاہتا ہے۔‘‘ انھوں نے کہا۔’’ تو پھر کیا سمجھ میں نہیں آتا ہے؟ شاعر ی سمجھنے کی چیز نہیں ہے بس محسوس کرنے کی چیز ہے۔‘‘اس روز شاعری کے متعلق میرے ذہن کا ایک اور دریچہ وا ہوا۔ فاروقی صاحب سے ملاقات ہونے سے پہلے میں یہ سمجھتاتھا کہ جدیدیوں کا حال ’بگڑا شاعر مرثیہ گو‘ والاہے مگر ان سے گفتگو کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ وہ ادب کے بحر بیکراں کو پار کر کے اب دوسرے کنارے پر نئے سمندروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
میں نے اپنے کیرئر کے دوران بہت افسر دیکھے ہیں مگر فاروقی صاحب کی بات ہی کچھ اور تھی۔ آرٹسٹک مزاج ہونے کی وجہ سے وہ دوسرے کی تخلیقیت کی قدر کرتے تھے۔ اپنے ماتحتوں کی بہت حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ ابتدائی سروس کیرئر میں مجھے ان کے ساتھ براہ راست کام کرنے کا موقع نہیں ملا مگر جب وہ ممبر ڈیولپمنٹ تھے اس وقت ان کے ساتھ کام کرنے میں بہت مزہ آیا۔ان کی شخصیت میں ایک عجیب سی مقناطیسی کشش تھی اور وہ کسی کو بھی قائل کر سکتے تھے۔
ایک واقعہ یاد آیا ۔ڈائریکٹر پوسٹل لائف انشورنس کی تقرری کے دوران میرا پہلاسالانہ خفیہ رپورٹ لکھتے وقت ڈی ڈی جی نے مجھے پریشان کرنے کی بہت کوشش کی ۔انجام کار میں نے سیکریٹری کے نام ایک درخواست بھیج دی کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرا اے سی آر(Annual Confidential Report) نہیں لکھا گیا ہے، مہربانی کرکے ڈی ڈی جی کو لکھنے کی ہدایت دیں ۔ نہ لکھنے کی حالت میں مجھ پر کوئی ذمے داری عاید نہ ہوگی۔میری درخواست شمس الرحمٰن فاروقی، ممبر ڈیولپمنٹ ،کے پاس پہنچ گئی ۔ وہ خفا ہوگئے کہ مجھے کیوں نہیں بتایا۔ میں نے جواباً عرض کی ۔ ’ ’چونکہ میں آپ کو جانتا ہوں اس لیے دفتری کام میں اس جانکاری کا فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا ۔ ‘‘انھوں نے ڈی ڈی جی سے ٹیلی فون پر بات کی اور جلد از جلد میرا اے سی آر بھیجنے کی تاکید کی ۔ رپورٹ آیا ، فاروقی صاحب نے اس کی مثبت تصدیق کی اور ہائی ایوریج گریڈ دے کر داخل دفتر کردیا۔
ان دنوں انشورنس سیکٹر میں حکومت بدلاؤ لا نے کی کوشش کر رہی تھی۔ چونکہ میں ذاتی طور پر شیئرس کے ساتھ وابستہ تھا، میرے پاس بزنس انڈیا میگزین آتا تھا ۔ اس میں ملہوترا کمیٹی فار ریفارمز ِان اِنشورنس سیکٹر (Malhotra Committee for Reforms in Insurance Sector) کے بارے میںکافی اچھا مضمون چھپا تھا۔ میں نے کمیٹی کے کنسلٹنٹ سے رابطہ قائم کر لیا اور اس سے شکایت کی کہ محکمہ ڈاک انشورنس سیکٹر میں بہت بڑا کھلاڑی ہے، پھر ہمیں شرکت کی دعوت کیوں نہیں دی گئی۔ اس نے ایک بریف بھیجنے کے لیے کہا جو میں نے ایک ہی دن میں تیار کرکے فاروقی صاحب،ممبر ڈیولپمنٹ کے سامنے رکھ دیا۔ میں نے ان کو اپنے منصوبے کے بارے میں پہلے ہی اطلاع دی تھی۔فاروقی صاحب تو بہت ہی قابل اور رجائیت پسند ایڈمنسٹریٹر تھے، انھوں نے میرا بریف پڑھ لیا اور بہت خوش ہوئے۔ صرف ایک لائن کاٹ لی جس میں لکھا تھا کہ پوسٹل لائف انشورنس میں پورا معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے ڈاک ملازمین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ فائنل کاپی پر دستخط کر کے انھوں نے کہا کہ اس کو بھجوا دو۔ میں نے پوچھا کیا سیکریٹری کو پہلے دکھانا ضروری نہیں ہے تو انھوں نے جواب دیاکہ وہ کام میںخود ہی کر لوں گا، تم فی الحال بھیج دو اور پھر فائل مجھے واپس بھیج دینا۔ ایک دو روز کے بعد جب فائل سیکریٹری صاحب نے دیکھی تو انھوں نے کچھ منفی تاثرات لکھے اور یہ ہدایت دی کہ زبانی دلالت کے وقت یہ سب باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔میں نے فاروقی صاحب سے پوچھا کہ اب کیا ہوگا تو ہنس کر کہنے لگے چنتا مت کرو، جاکر فائل اپنے پاس رکھ لو، دیکھا جائے گا۔اس وقت میری سمجھ میں آیا کہ فاروقی صاحب نے فائل پہلے ہی سیکریٹری صاحب کو کیوں نہیں بھیجی۔
انشورنس میں دلچسپی کے باعث میں نے ملہوترا کمیٹی فار ریفارمز اِن اِنشورنس سیکٹر سے دیہاتی ڈاک بیمہ یوجنا منظور کروالی جس کے باعث ڈاک محکمے کے لیے ہندوستانی دیہی علاقوں میں لوگوں کو بیمہ کرنے کی اجازت مل گئی۔ اس سے قبل پی ایل آئی کو صرف سرکاری (مرکزی ، ریاستی ، پی ایس یواور دیگر خود مختار اداروں سے متعلق) ملازمین کا بیمہ کر نے کی اجازت تھی۔ دیہی انشورنس مارکیٹ پچاس ہزار کروڑ کا تھا جو میری محنت کے سبب ڈیپارٹمنٹ کے لیے کھل گیا ۔ مگر مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ فاروقی صاحب کی حوصلہ افزائی کے بغیر یہ کام سرانجام دینا ممکن نہیں تھا۔
جیسا کہ پہلے بھی ذکر آیا ہے جب میراپرپوزل کمیٹی کو بھیجا گیا ، محکمے کے سیکریٹری صاحب ناراض ہوگئے تھے۔ انھوں نے تنبیہ کی تھی کہ زبانی ملاقات میں اِن باتوں پر زیادہ زور نہیں دیا جائے گا ۔ جب زبانی براہین کا وقت آیا تو میں نے سوچا کہ سیکریٹری صاحب تودو مہینے کے بعد ریٹائر ہونے والے ہیں تب تک کمیٹی کی رپورٹ کہاں آئے گی، اس لیے جو کہنا ہے کہہ ڈالو۔ مگر ابھی ایک ہی مہینہ گزرا تھاکہ رات نو بجے کی دوردرشن نیوز پر پہلی ہی خبر نشر ہوئی: ’’ملہوترا کمیٹی کی سفارشات کے مدنظر پی ایل آئی کو دیہی سیکٹر میں بیمہ کرنے کے اجازت ۔‘‘ میرا تو سانس ہی رک گیا، سوچنے لگا کل کس منہ سے سیکریٹری کے پاس جاؤں گا۔ پوری رات تذبذب میں گزری ۔ صبح ساڑھے نو بجے دفتر پہنچا ۔ ابھی دس منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ سیکڑیٹری صاحب کے پی ایس کا ٹیلی فون آیا۔ ’’آئیے سیکریٹری صاحب بلا رہے ہیں۔‘‘ میرا تو دل دھڑکنے لگا۔ بوجھل قدموں سے میں لفٹ کی بجائے سیڑھیوں سے اتر ا اور یہی سوچتارہا کہ آج نہ جانے صبح سویرے کیا کچھ سننا پڑے گا۔ اندر کمرے میں داخل ہوا، گڈ مارننگ کہا، وہاں تووہ خوش و خرم نظر آرہے تھے اور پرتپاک لہجے میں بولے ۔’’مسٹر بُدکی، مبارک ہو،بہت اچھا کام ہوا ہے۔میں تمھارے ڈی ڈی جی کو ڈھونڈ رہا تھا تاکہ اس کو مبارک باد کہوں مگر وہ ابھی تک شاید دفتر نہیں آئے ہیں۔ یہ لو ملہوترا کمیشن کی رپورٹ کی کاپی ، اسے اپنے پاس رکھ لو۔‘‘
مجھے ان کا رد عمل دیکھ کر اچنبھا ہوا ۔ دراصل رپورٹ کی کاپی ان کو ٹیلی کام کے ممبر یو ایس پرساد نے ، جو بذاتہ محکمہ ڈاک ہی سے تعلق رکھتے تھے ، بھیجی تھی اور منسلک خط میں انھیںدِلی مبارکبادبھی دی تھی۔اس سکیم کو جلدی ہی لاگو کیا گیا ۔میں نے اس سکیم کا سافٹ وئیر بنانے کے لیے پی ایل آئی مینول بھی لکھ ڈالاجس کے لیے مجھے نئے سیکریٹری پوسٹ ایس سی مہالِک نے ایک خط بطور تحسین بھیج دیا۔ یہی خط تھا جس نے میرا اگلا سالانہ خفیہ رپورٹ برباد ہونے سے بچا لیا۔ ورنہ میرے کِرم خصلت وبد طینت ڈی ڈی جی مجھے کہیں کا نہ چھوڑتے۔ کچھ اپنی نیک نیتی اور خلوص کام آیا اور کچھ قسمت نے یاوری کی۔ کچھ ہی برسوںکے بعد میں نے اپنے کیرئرکا ایک اور پائیدان طے کرلیا اور پوسٹ ماسٹر جنرل بن گیا۔
بہرحال ایک بات میرے ذہن پر نقش ہو گئی کہ کام کا نتیجہ خود ہی اپنا انعام ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی قدر شناسی اور استحسان کی کمی آدمی کی حوصلہ شکنی کرتی ہے مگر آخر کار جب وہ اپنی محنت کا ثمر خود اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو اس کا دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔یہی اصول آگے جاکر میری ادبی زندگی میں بھی رہنمائی کرتا رہا ۔
اتنا ہی نہیں فاروقی صاحب کے زمانے میں ہم نے انشورنس مینول میں کئی ترمیمات کیں۔ رول ۳۹، ۴۰ اور ۴۱ کی نظر ثانی کی اور ان میں فرسودہ لوازمات کو حذف کیا گیا تاکہ گراہکوں کو آسانی ہو اور معمولی باتوں کے لیے ان کی رقم نہ روکی جائے ۔ فاروقی صاحب ایک رجائیت پسند اور ہمدرد افسر تھے جن کے ساتھ مجھے کام کرنے کا موقع ملا اور وہ یادیں اب تک میرے ذہن میں محفوظ ہیں ۔میں ان کی لمبی عمر اور اچھی صحت کی دعا کرتا ہوں ۔