شمس الرحمن فاروقی:ایک عہد کا مرقع ـ علی اکبر ناطق

ہم چھوٹے تھے، تیرہ چودہ برس کے ۔ گاوں میں رہتے تھے ،پنجاب کے شہر اوکاڑا کے پاس ۔ زمانے کا پھیر کہیے یا ہماری قسمت، جہاں گھر تھا ، اُس کے سامنے یونین کونسل کا آفس تھا ۔ مصطفیٰ زیدی صاحب ساہیوال کے ڈپٹی کمشنر تھے ، تب یہ دفتر بنا اور اُنھی کی ایما پر بنا ۔ اوکاڑا اُن دنوں ساہیوال کی تحصیل تھی اور یہ گاﺅں ماڈل ولیج تھا ۔ یہاں کا ہائی سکول جب مڈل ہوا تو اِس کی بنیاد انسپکٹر سکولز مولوی کریم الدین کے ہاتھوں رکھی گئی ۔
شنید ہے اُن کے ساتھ مولوی محمد حسین آزاد بھی آئے تھے ۔ شاید اِس ولیج کو ماڈل بنانے کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو ۔ و اللہ اعلم ۔ یونین کونسل میں ایک لائبریری بنا دی گئی ۔ کسی دیہات میں اول یونین کونسل کا بننا ، وہ بھی گھر کے سامنے ،پھر اُس میں لائبریری قائم ہونا اور وہیں قریب ہمارا پیدا ہو جا نا ،یہ سب باتیں کم سے کم حادثے سے کم نہیں ۔ دفتر میں سیکرٹری کم آتا تھا بلکہ نہیں آتا تھا البتہ چوکیدارصاحب بلا ناغہ تشریف لاتے اور جمعہ کے روز بھی ناغہ نہ فرماتے (اُن دنوں جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی) اِس کی بڑی وجہ فرض شناسی کی بجائے وہ چائے تھی، جو ہم عین ۳ بجے گھر سے بنا کر لاتے ، اُسے پلاتے اور عوض میں کتابوں کی پوٹلی پاتے ۔ یہاں وہ ساری کتابیں پڑھ لیں جنھیں شاید یونیورسٹی اور کالج میں ممنوعہ قرار دے کر داخلِ دفترکر دیا جاتا ہے تاکہ اساتذہ اور طلبا کی ادبی تربیت خدا نخواستہ قومی ترانے سے آگے نہ بڑھ جائے ۔ کن کن کتابوں کا ذکر کروں کہ یہاں اُن کا مذکور میرے مضمون کی ضرورت سے باہر ہے ۔ بس یہ بتانا اِس تمہید سے مقصود ہے کہ یہیں سے فاروقی صاحب کی اور ہماری جان پہچان ہوئی، جب ایک کتاب تفہیم ِ غالب اور دو جلدیں شعر شور انگیز کی پڑھنے کو ملیں ۔ یہ کتاب اور اِسی طرزکی دیگر کتابیں ہندوستان کے شہر دہلی سے یہاں کیسے پہنچیں ، یہ مصطفیٰ زیدی صاحب جانیں یا اُن کی انتظامیہ مگر ہوا یہ کہ اِنھی کے ذریعے ہمیں پہلے غالب اور میر سے محبت ہوئی ، پھر خود فاروقی صاحب سے ہو گئی کہ نصیب میں بقائے دوام لکھی تھی ۔ وقت گزرتا چلا گیا ۔ ہم نے جو رشتہ میر و غالب سے عقیدت کا شعر شور انگیز او ر تفہیم ِ غالب سے آغاز کیا تھا ،وہ مولوی محمد حسین آزاد کی آبِ حیات سے ایسا وسیع ہوا کہ پھیلتا ہوا اردو کے تمام کلاسیک شاعروں تک نکل گیا اور مولانا سے محبت کا عریضہ بھی اُنھی عرصوں میں ہاتھ لگا ۔ ہمارا وطیرہ تھا ،سکول سے آتے ،بستہ پھینکتے اور مویشیوںکا کھاجالینے نکل جاتے ۔قریب دو گھنٹے میں بھینسوں کو چارہ ڈال کر جلدی سے کلاسیکل ادب کی کتاب پکڑ لیتے ۔ پھر تو رات دو بجے ہاتھ سے چھُٹتی اور صبح سکول جانے کے لیے سلیبس کا بستہ ڈھونڈنا پڑتا۔ سکول کا کام ہم نے کبھی کر کے نہ دیا اور روزانہ مار کھائی ۔اُنھیں دنوں کا ایک مزیدار واقعہ سُن لو ۔یہ ا۹۹۱ کا زمانہ تھا ، ہم ابھی میٹرک میں تھے اور چھُٹی کا دن تھا ۔ معمول کے مطابق گھر کے سامنے سے گزرتی سڑک کے کنارے چار پائی بچھائے لیٹے تھے ۔ نیچے ٹھنڈے پانی کا نالہ بہتا تھا اور اُوپر شیشم کے درختوں کے سائے تھے۔ فاروقی صاحب کی ایک کتاب تفہیم غالب پڑھ رہے تھے ،جو دہلی سے غالب انسٹیٹیوٹ نے چھاپی تھی ۔ ہم غالب کے اشعار کے معنی و مفہوم میں کھوئے ہوئے تھے اورطبیعت پر سحر طاری تھا۔ اچانک سڑک سے گزرنے والی ایک موٹر سائیکل گرِ گئی ۔ موٹر سائیکل پر مرد کے پیچھے غرارہ پہنے عورت سوار تھی اور غرارہ کیا تھا بقول میر ،،
آنچل اُس دامن کا ہاتھ آتا نہیں
میر دریا کا سا اُس کا پھیر ہے
مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ دریا کا سا پھیر موٹر سائیکل کے پہیے کی تاروں میں آ گیا ،جس کا اُنھیں پتا نہ چلا اور پہیہ گھومنے کے ساتھ غرارہ تاروں میں پھنستا چلا گیا اور ایسا پیچ در پیچ پھنسا جیسے غالب کے اشعار اپنی رعایتوں میں پھنسے تھےاور اُنھیں فاروقی صاحب کھولنے کی کوشش لگے تھے ۔ خیر عین ہمارے گھر کے سامنے آکر وہ دونوں میاں بیوی گِر گئے ۔ خاتون موٹر سائیکل کے نیچے آگئی اور غرارہ تاروں کے بیچ ۔ اب بیچارا وہ آدمی جیسے ہی موٹر سائیکل اُٹھانے لگتا ، بی بی درد کی کراہ سے چیخ مارتی ۔چنانچہ وہ موٹر سائیکل پکڑ کر کھڑا ہو گیا اور چار پانچ منٹ تک کھڑا دیکھتا رہا کہ شاید کوئی مدد کو آئے۔ سڑک بالکل ویران تھی۔ یہاں مَیں تفہیم ِ غالب میں مگن اور ایسا مگن کہ پاس کے حادثے کی خبر تک نہ ہوئی ۔ فاروقی صا حب ؓ کی شرحوں میں غروب رہا ۔ اِتنے میں والد صاحب باہر نکل آئے ۔ اُنھوں نے جب دیکھا کہ عورت بیچاری گری پڑی ہے اور مرد موٹر سائیکل پکڑ ے کھڑا ہے اور میرا برخوردار مزے سے لیٹا کتاب میں مصروف ہے ، تو وہ سیدھا میری طرف آئے ،کان پر ایک جما کر دی اور کتاب ہاتھ سے چھین لی ۔ اُس کے بعد دونوں خاتون کے غرارے کو موٹر سائیکل کی تاروں سے نکالنے لگے ، مگر وہ اِس طرح پھنس گیا تھا کہ ہزار کوشش کے باوجود غرارہءپُرپیچ و خم کے پیچ و خم نہ نکلے ۔آخر گھر سے قینچی منگوائی اور بڑی مشکل سے کاٹ کاٹ کے تاروں سے نکالا ، یعنی طُرہ کے پیچ وخم کھول کر اُسے دھجیوں میں تبدیل کیا اوریوں خاتون ِظالم کے خدو خال کا بھرم کھُلا اور وہ بچاری پہیے کی تاروں سے آزاد ہوئی ۔تب ایک چادر گھر سے لا کر اُسے دی اور دوبارہ موٹر سائکل پر سوار کرا یا۔ اُس کے بعد فاروقی صاحب کی تفہیمِ غالب کتاب والد صاحب نے پکڑی لی اور دو مہینے اُسی میں گرفتار رہے اور گھر بار یعنی اماں جان سے بھی بے خبر ۔ تب سے سلسلہ یہ ہوا ،جو کتابیں ہم نے پڑھیں تھیں، وہ ساری والد صاحب نے پڑھ لیں اور پھر پڑھتے چلے گئے، خدا زندگی دے ،یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔معاشی افلاس تو خیر جیسا تھا ویسا رہا ،کم از کم علمی افلاس تو گھر سے نکلا ۔
یہ تو ہمارا فاروقی صاحب سے پہلا تعارف تھا ۔ پھر ایک وقت آیا کہ افتخار عارف صاحب نے ہمیں اکادمی ادبیات میں بلایا اور اکادمی ادبیات پاکستان کے کتاب گھر کا انچارج بنا یا ۔ اِس کے بعد تو آن کی آن میں سب کتابیں ہماری دسترس میں تھیں ۔ چونکہ پاکستان بھر کے پبلشروں سے چنیدہ ادب ہمارے پاس پہنچ چکا تھا اور ہم نے وہاں بیٹھ کر اُنھیں سوائے پڑھنے کے کوئی کام نہ کیا ۔چنانچہ یہاں آنے کے بعدسب سے پہلے فاروقی صاحب کا ناول کئی چاند تھے سرِ آسماں پڑھا ، بعد ازاںکچھ ہی مہینوں میںاُن کی سب کتابیں چاٹ گئے ۔ کیا فکشن ، کیا شاعری اور کیا تنقید ، کوئی چیز نہ رہی کہ ہم سے چھُٹی ہو ۔ یہ تو قصہ تھا ہمارافاروقی صاحب سے محبت کا ،جس کی ظاہر ہے فاروقی صاحب کو کیا خبر تھی کہ پنجاب کا ایک لونڈا اُن کا اسیرِ بے دام ہے اور اُن کے تحریروں کے سحر میں شاد باد ہے۔ اب ایک دلچسپ واقعہ اور سنیے ۔ ہم جب اکادمی میں تھے تو وہاں کا ایڈمن آفیسر جی دار آدمی تھا ۔پنجابی میں افسانے لکھتا اور یہ پنجابی اُس کی اپنی ہی تھی ۔ جسے شمال و جنوب میں اُن کی اپنی ہی لغت سہار سکتی تھی ۔ اُس کے پاس اسلام آباد کے اکثر ادیب اور شاعر حضرات جمع ہوتے ، خوش گپیاں کرتے اور ہمیں مذاق میں رکھتے ۔ تب تک ہم نے کسی کو کچھ نہیں سنایا تھا ۔ نہ شعر ، نہ نثر ،مگر دیکھنے سُننے والوں کو شاعر ضرور لگتے تھے یعنی طبیعت کچھ بے نیاز سی تھی ۔چنانچہ سب پوچھتے، میاں آپ کا مستقبل کیا ہے؟ اِدھر ہم نے کبھی اِس بارے میں غور نہیں کیا تھا ۔ وہاں ایک صاحب بہت اچھے شاعر تھے ،وہ بھی روزانہ تشریف لاتے اور اُن کا اسلام آباد میں بہت غلغلہ تھا ۔اپنے علاوہ نہ تو کسی کو شاعر مانتے ، نہ نقاد اور ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دیتے ۔ایک دن سب ہی ہمیں یہی کچھ مذاق کر رہے تھے ۔ اِنھی تمسخرانہ جملوں کے تسلسل میں اُسی ایڈمن آفسر نے کہا ، میاں ناطق جب آپ شاعری کریں گے تو آپ کے خیال میں فلاں صاحب آپ کی تحسین میں تنقیدی مضمون لکھیں گے ۔ ہمیں اِس بات پر ایک دفعہ جوش ہی تو آگیا اور اِسی جوش میں کہہ گزرے ،بھئی یہ کون صاحب ہوتے ہیں ہماری شعری جمالیات کو سمجھنے والے ؟ دیکھیے میاں جس وقت ہم نے کہنا شروع کیا تو اُس پر فاروقی صاحب لکھیں گے، اُن کے علاوہ ابھی تو کوئی پیدا نہیں ہوا جو یہ بار اُٹھائے ۔ ہماری اِس بات پر ایک زور کا قہقہ ایسا اُٹھا کہ ایڈمن آفس کا تمام عملہ دوڑا آیا،مبادہ کمرے میں زلزلہ آگیا ۔ تب ایک دوسرے شخص نے آوازہ کسا ، میاں اِسے علاج کے لیے دماغی دوا خانہ لے جاو ، کہیں بیماری لا علاج نہ ہو جائے ۔ لیجیے صاحب اُس دن کے بعد ہم نے وہاں بیٹھنا بند کیا اور اپنے کام میں لگ گئے ۔ اپنی تمام سابقہ تحریریں نکالیں اُنھیں پرکھا ،دیکھا ، اور اکثرپھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینکیں اور نئے سِرے سے اپنی ذات کے اندرون میں جھانکا مارا اور کچھ جگر کے لہو سے جوہر کشید کیے ۔ پھر ایک دن کچھ نظمیں آصف فرخی کو بھیجیں اور لکھا کہ اِن میں کچھ پسند آئے تو دنیا زاد میں چھاپ دیجیے ۔ چار دن بعد اُن کا فون آیا ،کہنے لگے بھئی آپ شاعری تو کمال ہی کرتے ہیں۔اپنا مکمل تعارف اور مزید نظمیں دو۔ ہمارا نام کے علاوہ کچھ تعارف ہوتا تو بتاتے ، بولے بس جناب یہی تعارف ہے کہ فلاں شہر میں پیدا ہوئے ، فلاں جگہ نوکری کرتے ہیں اور نظمیں مزید نہیں ہیں ،جو تھیں بھیج دیں ۔ لو صاحبو ! آنے والے شمارے میں ہماری سب نظمیں ایک گوشے کی صورت میں لگا دی گئیں اور وہ رسالہ پہنچ گیا فاروقی صاحب کے پاس انڈیا میں اُن کے گھر اِلہ آباد ۔وہاں سے اُن کا خط مدیر کے نام آیا کہ بھئی یہ علی اکبر ناطق نام کا جو شاعر آپ نے چھاپا ہے ، یہ تو بہت بڑے انوکھے طور کا شاعر دریافت کر لیا آپ نے ۔ ہمیں تو اِس پر رشک آتا ہے ۔ لیجیے اِس خط کا دنیا زاد کے اگلے شمارے میں چھپنا تھا کہ ہُمائے شہرت ہمارے سر پر لہرانے لگا ۔ اُس کے بعد اجمل کمال کے رسالے آج میں چھپنے والے ہمارے افسانے فاروقی صاحب کے ہاتھ لگ گئے ۔ وہاں بھی اُنھوں نے وہی باتیں کیں اور اِس کے ساتھ ہی اشعر نجمی صاحب کو ہدایت کی کہ علی اکبر ناطق سے رابطہ کر کے اُسے اثبات میں چھاپو ۔ پھر اشعر نجمی صاحب کے توسط سے اثبات میں چھپ کر ہم ہندستان بھر میں چلنے پھرنے لگے ۔ اب آپ ہی بتایے ، کجا ایک ایسا لڑکا جو پنجاب کے دور دراز کے گاوں میں پانی کے نالے پر چارپائی بچھائے اور اُس پر لیٹے فاروقی صاحب کی شعر شور انگیز اور تفہیم غالب پڑھتا تھا اور کبھی وہ کتابیں آنکھوں سے الگ نہیں کرتا تھااور پڑھ کر اُن کا صحابی ئِ خاص ہوگیا تھا ۔اُس لڑکے کے کہیں تصور تک میں نہیں تھا اپنے اِس ہیرو کا سامنا کرنے کا ۔ ہیرو بھی ایسا جو ادب کی دنیا میں ایک نابغے کی حیثیت رکھتا ہو ، جس سے بڑے بڑے طرم خانِ ادب اپنے لیے ایک جملہ کہوانے کو ترستے ہوں ، کجا آج وہی دیوتا ہماری شاعری اور افسانے کی تعریفیں کرے، اور فون پر اُن سے باتیں ہوں ۔ آپ ہی بتایے ہمارے پاﺅں کہیں زمین پر لگنے والے تھے ؟ اِدھر تو معاملہ یہ تھا کہ ہم فاروقی صاحب کی بندہ پروری سے پاکستان میں اور ہندوستان بھر میں آن کی آن مشہور ہوگئے اور ادب کی زلیخائیں گریبان پھاڑ کر رہ گئیں اور حاسدانِ مصر نے چھُریاں نکال لیں۔ یہ الگ بات کہ وہ چھُریاں اپنے ہاتھوں کی بجائے ہمارے گلے پر چلانے کی کوشش کی اور ہم پر پھبتیاں کسنے والوں کی آنکھیں حیرت سے اور دل حسد سے پھٹ گئے ۔ کیوں نہ پھٹتے ،وہ تو اُسی ایڈمن آفس میں سُکٹر کے رہ گئے اور ہم فاروقی صاحب کے دامنِ دولت سے بندھے برصغیر کے طول و عرض میں پھیل گئے ۔