شمس الرحمن فاروقی نے ایک نسل کی تربیت کی ہے:پروفیسر رئیس انور

دربھنگہ:عظیم ناقد و ادیب شمس الرحمن فاروقی کے انتقال پر شہر کے ملا حلیم خاں میں واقع سی ایم کالج کے استاد پروفیسر احتشام الدین کی رہائش گاہ پر منگل کو تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کو خطاب کرتے ہوئے پروفیسر رئیس انور رحمان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آپ شمس الرحمن فاروقی کی تنقید کو دیکھیں تو وہ بڑے نقاد کی صورت میں نظر آئیں گے اور اسی طرح ان کے ناول کو پڑھیں تو بڑے ناول نگار کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور اپنے افسانوں میں وہ اچھے افسانہ نگار نظر آتے ہیں۔ اس طرح ان کی تحقیق بھی اعلی ہے۔ ساتھ ہی شمس الرحمن فاروقی نے ایک نسل کی آبیاری بھی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمس الرحمن فاروقی جو کچھ کہتے تھے اس کے واضح دلائل بھی ان کے پاس موجود ہوتے تھے پوری قطعیت کے ساتھ وہ اپنی بات رکھتے تھے۔ جبکہ جدید لب و لہجے کے معروف شاعر ڈاکٹر جمال اویسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شمس الرحمن فاروقی کی نظر مغربی تنقید کے ساتھ مشرقی تنقید پر بڑی گہری تھی۔ انہوں نے ٹی ایس ایلیٹ کے بعض اقوال کو اپنے تنقیدی اسلوب میں کچھ اس طرح ڈھالا کہ وہ اردو کے ٹی ایس ایلیٹ کہے جانے لگے۔ نظم و نثر کی مختلف اصناف پر انہیں دسترس حاصل تھی اور جدید شعر وادب کا انہیں امام کہا جاتا ہے۔ شب خون کے پلیٹ فارم سے انہوں نے جدید ادب لکھنے والوں کی تربیت بھی کی۔ جبکہ اس موقع پر صنف حالیہ کے موجد ڈاکٹر مبین صدیقی نے کہا کہ شمس الرحمن فاروقی ایک دبستان کی حیثیت رکھتے تھے۔ پوری دنیا میںاردو زبان و تہذیب اور ادب کی زبردست نمائندگی اور دفاع کرنے والے ایک لجنڈ ادیب اور دانشور تھے۔ فاروقی صاحب نے ” شب خون ” جیسا رجحان ساز رسالہ نکال کر ایک تاریخ ساز کارنامہ سر انجام دیا۔ کئی نسلوں کی رہنمائی اور مزاج سازی کی۔ وہ اردو میں جدیدیت کے نظریہ ساز اور قافلہ سالار تھے۔پروفیسر احتشام الدین نے کہا کہ شمس الرحمن فاروقی سے بہت سے لوگوں نے اختلاف بھی کیا ۔ انہوں نے اختلافات کو سنجیدگی سے سنا اور جہاں انہیں اختلاف مناسب نظر آیا وہاں اس کو انہوں نے قبول بھی کیا۔ اس موقع پر انور آفاقی نے کہا کہ شمس الرحمن فاروقی اردو تنقید کا ایسا نام ہے جن کا موجودہ قت میں کوئی ہمسر نظر نہیں آتا ہے۔ ان کا نام اردو تنقید میں ہمیشہ منفرد و ممتاز رہے گا۔ سہ ماہی دربھنگہ ٹائمس کے مدیر اور معروف ادیب،شاعر اور صحافی ڈاکٹر منصور خوشتر نے فون پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ فاروقی صاحب ایک بہترین ناول نگار، افسانہ نگار، اور اعلیٰ پائے کے ناقد تھے۔ جب بھی اردو زبان و ادب کی بات ہوگی تو فاروقی صاحب کا حوالہ دیا جائے گا۔سی ایم کالج کے استاد ڈاکٹر عبد الحی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شمس الرحمن فاروقی نے اردو میں کئی حوالوں سے کام کیا ہے۔ جہاں انہوں نے جدیدیت کو فروغ دیا ہے وہیں انہوں نے کلاسیکی ادب کی بڑی خدمت کی ہے۔ زبان پر بھی ان کا بڑا کام ہے اور وہ زبان کے معاملے میں بڑے حساس تھے۔ زبان کی غلطیوں کو وہ برداشت نہیں کرتے تھے۔ صغری مسرور نے کہا کہ فاروقی جہاں ایک اچھے ادیب اور تنقید نگار تھے وہیں وہ ایک اچھے انسان بھی تھے۔ وہ عزیزوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور ان کو مناسب مشورے دیتے تھے۔ نفاست کمالی نے بھی ان کے ناول کئی چاند تھے سر آسماں کے حوالے سے بات کی۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر عبد الحی نے کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ریشما تبسم شعبہ تعلیم ایل این ایم یو نے اور پروفیسر معین انصاری سابق استاد سمستی پور کالج سمستی پور، ڈاکٹر محمد بدر الدین استاد ناگیندر جھا مہیلا کالج اور احتشام الحق وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔فاروقی صاحب کے لیے دعائے مغفرت پر تعزیتی نشست کا اختتام ہوا۔