شمس الرحمن فاروقی اردو ہی نہیں، پورے بھارتی ادب کے ایک مہان لیکھک تھے: اشوک واجپائی

شمس الرحمن فاروقی کے نام ایک آن لائن جلسہ و مشاعرہ
بحرین:(احمد امیر پاشا)مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اردو کے زیر اہتمام شمس الرحمن فاروقی کے نام ایک آن لائن یادگاری جلسہ و مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔اس جلسے کی صدارت بھارت کے معروف ہندی شاعر و نقاد، سابق وائس چانسلر مہاتما گاندھی انٹرنیشنل ہندی یونیورسٹی محترم اشوک واجپائی صاحب نے فرمائی۔جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر سابق قائم مقام وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی و معروف نقاد محترم پروفیسر قاضی افضال حسین تھے۔ خانوا دہ شمس الرحمن فاروقی سے اظہارخیال کے لیے پروفیسر باراں فاروقی اور معروف تھیٹر پرسنالٹی محمود فاروقی موجود تھے ۔اجلاس کی ابتداء میں ناظم جلسہ معروف شاعر و مشیر اعلٰی، مجلس فخر بحرین محترم عزیز نبیل نے حاضرین محفل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ شمس الرحمن فاروقی ایک عالمی شہرت یا فتہ قلمکار تھے انہوں نے اردو ادب کو جدید فکر وآہنگ اور جدیدطرز تحریر سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔چیر مین، دی پین فاونڈیشن محترم آصف اعظمی صاحب نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ شمس الرحمن فاروقی نے اپنی فن تجزیہ نگاری اور تنقید کو علمی دلائل سے انفرادیت عطا کی۔ ان کے تنقیدی مضامین اور ترکیب کاری نے ان کے نظریاتی حریفوں کو بھی ان کی علمی عظمت کا معترف کیا۔ اپنے ادبی رسالے ’’ شب خون‘‘ کے ذریعے انہوں نے اْردو ادب و صحافت اور تنقید نگاری کے میدان میں دو نسلوں کی تربیت کے فرائض سر انجام دیئے۔ ان کا بحر علمی آئندہ کئی نسلوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
محترم شمس الرحمن فاروقی کے صاحبزادے محترم محمود فاروقی (فلم و تھیٹر پرسنالٹی) اور صاحبزادی پروفیسر باراں فاروقی (پروفیسر، جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے اپنے والد کی ساتھ گزارے ہوئے لمحوں سے یادوں کے چراغ روشن کئے۔محترم پروفیسر قاضی افضال حسین صاحب نے شمس الرحمن فاروقی کو ایک عظیم قلمکار اور ہمہ جہت فن کار قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اپنے ہم عصر نقادان ادب کے درمیان انفرادیت رکھتے تھے۔شمس الرحمن فاروقی کے مضامین اور کتابیں ادبی حلقوں میں نہ صرف شوق سے پڑھی جاتی تھیں۔ موضوع بحث بھی بن جاتی تھیں۔1960میں انہوں نے ایک رحجان ساز رسالہ شب خون جاری کرکے ادبی دْنیا میں ایک انقلاب برپا کیا ۔ خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے محترم اشوک واجپائی صاحب نے فرمایا کہ شمس الرحمن فاروقی صرف اردو کے ہی نہیں ہندوستانی ادب کے عظیم قلم کار تھے، انہوں نے اردو میں داستان گوئی کی روایت کو زندہ کیا،بانی و سرپرست، مجلس فخر بحرین محترم شکیل احمد صبرحدی نے اظہارِ تشکّر کرتے ہوئے فرمایا کہ مجلس فخر بحرین کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ فاروقی صاحب نے مجلس کی دو تقریبات میں شرکت فرمائی۔
الہ آباد یو نیورٹی کے چکبست سیمینار میں اور دوسرے علی گڑھ خلیل الرحمن اعظمی صاحب پر مجلس کی جانب سے شائع شدہ کتاب کے اجرا میں شکیل صاحب نے مزید فرمایا کہ مجلس کی شروع سے ہی یہ کوشش رہی ک مجلس کی سرگرمیوں کو ہندوستان کی قومی یکجہتی او مشترکہ تہذیبی روایت کا نمونہ بنایا جائے۔مجلس نے سن۲۰۱۳ ء سے اب تک شہر یار ،فراق گورکھپوری ، عرفان صدیقی ، پنڈت آنند نرائن ملا، خلیل الرحمن اعظی ، پنڈت برج نرائن چکبست ، مجروح سلطان پوری اور ہری چند اختر کے نام سیمینار اور مشاعرے منعقد کیے ہیں اور کتابوں کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے۔ مزید برآں شکیل احمد صبرحدی نے یہ اعلان کیا کہ مجلس فخر بحرین کی 2021 ، کی اپنی تمام تر سرگرمیاں فاروقی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں معنون کی جائیں گی۔ ان سرگرمیوں میں ہندوستان کے کسی شہر میں میں فاروقی صاحب پر ایک عالمی سیمنار ، ان کی شخصیت پر اردو اور ہندی میں ایک ضخیم کتاب کی اشاعت ، بحرین میں ایک عالمی سیمنار اور فاروقی صاحب کی یاد میں ہر تین ماہ پر ایک مقامی سطح کا مشاعرہ شامل ہو گا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی آپ نے، تقریب میں شامل ممانان کرام، سامعین عظام اور فاروقی صاحب کے اہل خانہ کا فردا فردا شکریہ ادا کیا ۔اجلاس کے بعد عالمی مشاعرہ ،اردو کے نامور شاعرمحترم اظہر عنایتی کی زیر صدارت منعقد کیا گیا ، جس میں معروف شعراء کرام محترم پرتاپ سوم ونشی،محترم منصور عثمانی، محترم سعود عثمانی ،محترم عتیق انظر،محترم عزیز نبیل ،محترم خالد صبرحدی اور محترم ریاض شاہد نے کلام نذرِ حاضرین کیا۔مشاعرے کی نظامت خرّم عباسی کر رہے تھے ۔